عجیب و غریب

رام مندر کے حق میں فیصلہ ہو چکا اعلان باقی

رام جنم بھومی نیاس کے سینئر رکن رام ولاس ویدانی کی زبان نے اگلا زہر

رام مندر کے حق میں فیصلہ ہو چکا اعلان باقی

رام جنم بھومی نیاس کے سینئر رکن رام ولاس ویدانی کی زبان نے اگلا زہر

نئی دہلی۔ ۷؍نومبر: بابری مسجد رام مندر تنازعہ معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قبل جہاں تمام طبقات کی جانب سے یہ اپیل کی جا رہی ہے کہ اس معاملہ پر اشتعال انگیز بیانات سے گریز کیا جائے، وہیں چند عناصر اب بھی قابل اعتراض بیان دے رہے ہیں۔ رام جنم بھومی نیاس کے سینئر رکن اور اکثر مسلم مخالف بیانات دینے والے رام ولاس ویدانتی نے بابری مسجد معاملہ پر ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بابری مسجد-رام جنم بھومی معاملہ کا فیصلہ لے لیا گیا ہے اور اب محض اس کا اعلان ہونا باقی ہے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی یہ پیشن گوئی بھی کر دی کہ یہ فیصلہ رام مندر کے حق میں آئے گا!ویدانتی نے کہا، ’’ایودھیا کیس میں پیدائشی جگہ کے تمام ثبوت رام لالہ کے حق میں ہیں، دریائے سریو، رام گھاٹ، رام وارڈ، رام تھانہ، یہ سب ایسے نام ہیں جن کا تذکرہ ہمارے دھارمک گرنتھوں میں کیا گیا ہے۔‘‘دریں اثنا ویدنتی نے ایک بار پھر ’مندر وہیں بنائیں گے‘ کا راگ الاپا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جہاں رام کی پیدائش ہوئی اسی مقام پر عظیم الشان مندر تعمیر ہو گا۔ مندر کی ’84 کوشی پریکرما‘ کے اندر کسی مسجد کو تعمیر نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘‘ ویدانتی نے مزید کہا کہ مسلمانوں نے بھی ان کی اتنی مخالفت نہیں کی جتنی کانگریس نے کی، کانگریس نے ہندووں اور مسلمانوں کو لڑانے کا کام کیا ہے۔ویدانتی نے اس سے پہلے بیان دیا تھا کہ رام کی جائے پیدائش پر دنیا کی کوئی طاقت مسجد تعمیر نہیں کرا سکتی۔ انہوں نے کہا تھا، ’’پاکستان پرست کچھ قدامت پسند قوتیں اس مسئلے کو لٹکا کر ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ رام جنم بھومی احاطہ میں دنیا کی کوئی طاقت مسجد نہیں بناسکتی ہے۔‘‘ویدانتی نے کہا، ’’سنہ 1993 میں سید شہاب الدین نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ اگر وہاں رام کی پیدائش سے متعلق کوئی ثبوت موجود ہیں تو رام مندر تعمیر ہونا چاہیے۔ کھدائی کے دوران جو بھی ثبوت ملے ہیں وہ رام کی پیدائش کو ثابت کرتے ہیں۔ یہ نزول کی جگہ ہے اور نزول اراضی پر مرکزی حکومت کا حق ہوتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’آرٹیکل 370 کے خاتمے کی جتنی تکلیف کانگریس کو ہوئی اتنی جموں و کشمیر کی مسلمانوں کو بھی نہیں ہوئی۔ ہندوستان میں 80 فیصد مسلمان رام جنم بھومی کے حق میں ہیں۔ صرف دہشت گردی سے وابستہ لوگ رام مندر کی مخالفت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close