سیرت و شخصیات

مولاناسعیداحمد قاسمی صاحب ،کچھ یادیں کچھ باتیں!ابوالحسنات قاسمی

مولانا سعید احمد قاسمی صاحب ،کچھ یادیں کچھ باتیں

آئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کر

اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر

وفاتِ حسرت آیات:
آہ! ا سونجی بازار، ضلع گورکھپور کے مشہور عالم، مدرسہ عربیہ مصباح العلوم، اسونجی بازار کے قدیم استاذ، مشفق و مربّی حضرت مولانا سعید احمد قاسمی صاحب بوجہ (دماغی نکسیر)برین ہیمرج ” brain hemorrhage” (عارض شدہ ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۹؁ء بروز دوشنبہ صبح ۱۰؍بجے) مختصر علالت کے بعد مؤرخہ یکم اکتوبر ۲۰۱۹؁ء مطا بق یکم صفر المظفر ۱۴۴۱؁ھ ، بروز منگل، بوقت ۴؍بجے شام داعیٔ اجل کو لبیک کہا، اور جان جانِ آفریں کو سپرد کرتے ہوئے راہء خلدِ بریں ہوگئے۔ فإناللّٰہ و إنا إلیہ

حضرت مولانا کی حیات و خدمات پر ایک طائرانہ نظرراجعون۔

ولادت:
حضرت مولانا سعید احمد قاسمی صاحب کی صحیح تاریخ ولادت تو معلوم نہ ہوسکی پر سیاق و سباق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۹۴۶؁ ء کے قریب کی ولادت ہے۔

تعلیمی سلسلہ:
اسونجی بازار کے ادارہ ’’ مدرسہ عربیہ مصباح العلوم ‘‘(قائم شدہ ۱۹۲۹ ؁ء) میں پانچ سال ابتدائی (پرائمری درجہ پنجم تک) تعلیم حاصل کرنے کے بعد ضلع فیض آباد کے معروف ادارہ ’’ مدرسہ کرامتیہ دارالفیض ‘‘ جلال پور، ضلع فیض آباد (موجودہ امبیڈکر نگر) میں فارسی و عربی (درس نظامیہ) کی تعلیم کے لئے داخلہ لیا جو اس وقت شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی قدس سرہ کے شاگرد ومعتمد خاص متکلم اسلام حضرت مولانا ضمیر احمد اعظمی�(متوفی ۱۹۹۰؁ء) کی پرکشش شخصیت کی وجہ سے طالبانِ علوم اسلامیہ کی توجہات کا مرکز بنا ہوا تھا۔
یہاں پر حضرت مولانا ضمیر احمد صاحب و مولانا نبیہہ محمد صاحب اور مولانا اسد اللّٰہ صاحب جیسے مؤقر اور لائق و فائق اساتذۂ کرام کی زیرِ نگرانی عربی چہارم تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کے لیے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا۔
۱۳۹۰؁ ھ مطابق ۱۹۷۰؁ ء میں دار العلوم دیوبندسے فراغت حاصل کی۔

درس و تدریس:
فراغت کے بعد ابتدائً ’’یتیم خانہ مدرسہ ‘‘ محلہ گھاسی کٹرہ، شھر گورکھپور، میں دو سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ مگر مہنگائی اور اخراجات کی زیادتی کے تحت کفالت کے اسباب کی حسب ضرورت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے تدریسی مشغلہ ترک کرکے گھر آگئے۔
اور والدِ بزرگوار سے مشاورت کے بعد (والد صاحب کے دیرینہ و جگری دوست) گورکھپور کے مشہور ڈاکٹر جناب عبد الواحد صاحب فاؤنڈر ’’پروانچل ہاسپٹل ‘‘ کے پاس رہ کر کچھ طبابت کے امور انجام دینے لگے، ڈاکٹر صاحب بھی حضرت مولانا کے والد صاحب سے دوستی کا خیال رکھتے ہوئے اخراجات کی تکمیل کا بھر پور خیال رکھتے تھے۔ مگر حضرت مولانا کی افتادِ طبع خالص علمی تھی اس وجہ سے وہاں بھی زیادہ عرصہ تک نہ رہ سکے۔ بالآخر ڈاکٹر صاحب کے مطب کو خیر باد کہہ کر پھر تعلیم و تدریس سے منسلک ہوگئے۔
اب آپ مدرسہ عربیہ انجمن اسلامیہ قصبہ انول، ضلع گورکھپور میں تدریسی فرائض سرانجام دینے لگے۔دوسال تک آپ نے یہاں اپنا علمی فیضان جاری رکھا۔ اسی دوران حضرت مولانا کے اپنے وطن کے مدرسہ میں ہی ایک باصلاحیت استاذ کی ضرورت آن پڑی، لوگوں کی نظر حضرت پر ہی جاکر مرکوز ہوئی۔ چنانچہ گاؤں والوں کی گفت و شنید کے بعد حضرت مولانا نے گاؤں کے مدرسہ میں درس و تدریس کی حامی بھرلی۔اور ۱۹۷۶؁ء سے تا دمِ آخریں ۳۰؍ستمبر ۲۰۱۹؁ ء بروز دوشنبہ تک (جس دورانیہ ۴۳؍سال کے عرصہ کو محیط ہے) مدرسہ عربیہ مصباح العلوم، اسونجی بازار، ضلع گورکھپور میں مسلسل تدریسی خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے علمی فیضان کو جاری و ساری رکھا۔ سیکڑوں کی تعداد میں تشنگانِ علوم دینیہ نے حضرت کے چشمۂ فیض سے سیرابی حاصل کی۔
حضرت مولانا نے کافی عرصہ تک پرائمری و عربی دونوں درجات میں بیک وقت تعلیم دی، کچھ اسباق دینیات کے اور کچھ اسباق درس نظامیہ کے ان کے پاس تھے۔
راقم السطور نے پرائمری کی تعلیم کے دوران درجہ سوئم میں حضرت مولانا سے ’دینی تعلیم کا رسالہ‘ اور ’ تعلیم الاسلام ‘ و ریاضی پڑھا ہے، اور املاء و نقل کے ذریعہ تحریر کی اصلاح لی ہے۔اور عربی درجہ میں مالابدمنہ کا کچھ حصہ، بوستانِ سعدی و ترجمہ قرآن مجید پڑھی ہے۔

متفرقات:
حضرت مولانا ایک اچھے مجوّد و خوش الحان قاری بھی تھے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے اساتذہ (جن کی قرآن خوانی مجہول تھی) مدرسہ کی مسجد میں اکثر دوسرے گھنٹے میں حضرت کے پاس قرآن خوانی کی تصحیح کرتے اور اصلاح لیتے تھے۔
حضرت خوش الحان و خوش آواز ہونے کی وجہ سے اچھے نعت خواں بھی تھے۔ جمعرات کو ہفتہ واری انجمن میں نعت خوانی کی مشق و اصلاح کراتے تھے۔
اور گاؤں میں سیرت النبی (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کے جلسے میں (جس کو گاؤں والے میلادالنبی) کے نام سے منعقد کرتے اس میں عموماً تلاوتِ قرآن مجید و نعت خوانی کی ذمّہ داری حضرت مولانا کے ہی سپرد ہوتی۔

انداز ِ تربیت:
حضرت مولانا طلباء کی تربیت و اصلاح پر بھی بے حد توجہ کرتے تھے، مجھے بخوبی یاد ہے پرائمری درجہ سوئم سے آگے کے جتنے بھی طلباء ہوتے ان کے نام کا ایک رجسٹر بنواتے اور گاؤں والی مسجد میں پنج وقتہ نمازوں کے بعد حاضری ہوتی تھی، جو طالب علم کسی وقت کی نماز میں غیر حاضر ہوتا تو صبح پہلے گھنٹے میں مناسب تادیبی کاروائی کرتے۔
اور ایک خاص بات حضرت میں یہ بھی تھی کہ جمعرات کے روز آخری گھنٹے میں کتاب پڑھانے کی بجائے اصلاح و تربیت اور تعلیم و دینی امور کی طرف رغبت و توجہ پیدا کرنے کے لئے پند و موعظت کرتے اور اس عنوان کی حقیقی مآخذ (مشاہیر علماء، صلحاء اور شہزادوں کے علمی میلانات و رجحانات کے قصے) گوش گزار کرتے تھے۔نیز آداب معاشرت کے متعلق باتیں بتاتے، رہن سہن کے سلیقے، ڈھنگ سکھاتے تھے۔
غرضیکہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت مولانا کو گوناگوں خصوصیات و صفات سے نوازا تھا، کیا بیان کیا جائے اور کیا ترک کیا جائے؟
بس یوں سمجھ لیجئے کہ’’ دامانِ نگہ تنگ و گلِ حسن تو بسیار ‘‘ یا ’’ عباراتنا شتیٰ و حسنک واحد ‘‘ ، یا بقولِ شاعر:
ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن ٭ زباں میں آنکھ نہیں،آنکھ میں زبان نہیں
کا مصداق تھے ،

تجارت و پارچہ بافی:
اسونجی بازار کوئی انڈسٹریل ایریا نہیں ہے، نہ ہی یہاں کوئی بڑی صنعت و حرفت ہے، آبائی طور پر یہاں کے لوگوں کا مشغلہ پارچہ بافی و تجارت ہے۔ اس لئے حضرت مولانا بھی اقتصادی خوشحالی کے لئے ان دونوں کاموں سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

پارچہ بافی:
چونکہ حضرت مولانا کافی شاہ خرچ اور کثیر العیال تھے اس لئے صرف مدرسہ سے ملنے والے مشاہرہ پر اکتفاء کرنا مشکل تھا چنانچہ حضرت درس و تدریس کے مشغلہ کے ساتھ ساتھ پارچہ بافی کا کام بھی کرلیتے تھے، علی الصبح اٹھتے اور فجر کی نماز سے کچھ قبل تک کارگہہ (ہتھ کرگھا) چلاتے (بُنائی کرتے) اور دوپہر کی چھٹی کا وقفہ بھی پارچہ بافی کی نذر ہوجاتا اور اس طرح کچھ معاشی فراوانی کا راستہ ہموار ہوجاتا۔

تجارت:
عصر کے بعد اور کبھی کبھی ظہر کے بعد ایک گھنٹی پڑھا کر آس پاس میں لگنے والے ہفتہ واری بازار (ہاٹ) میں کپڑا فروخت کرنے کا کام بھی کرلیتے تھے۔ان دونوں کاموں سے کفالت میں سہولت پیدا ہوجاتی تھی۔مگر یہ مشغلے زیادہ عرصہ تک جاری نہ تھے، میری معلومات کے مطابق ۱۹۹۰؁ ء تک حضرت نے درس وتدریس کے ساتھ یہ مشاغل جاری رکھے، اس دوران حضرت کے بڑے فرزند (خلیل احمد) اس قابل ہوگئے کہ حضرت کے دوشِ ناتواں کے بار کو ہلکا و ساجھا کرسکیں، تو حضرت نے ان مشاغل کو خیر باد کہہ دیا اور پھر یکسوئی سے صرف درس و تدریس میں ہی لگے رہے۔

سلوک و معرفت:
ابتدائً آپ نے روحانی رابطہ حضرت مولانا، قاری محمد مبین صاحب الٰہ آبادی (بڑے داماد و) جانشینِ و خلیفہ مصلح الأمۃ شاہ وصی اللّٰہ صاحب الٰہ آبادی سے کیا۔اور ان سے بیعت ہوئے۔
اور ۲۰۰۹؁ء میں حضرت مولانا شاہ عبد اللطیف صاحب نلہیڑہ والے (خلیفۂ حضرت مولانا اسعداللّٰہ صاحب قدس سرہ ناظم مظاہر علوم سہارنپور) سے تجدید بیعت کیا، حضرت شاہ صاحب ’لال کنواں دہلی ‘ میں بیعت و ارشاد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے، حضرت شاہ صاحب ، صاحبِ کشف بزرگ تھے۔ حضرت شاہ کا انتقال ۲۰۱۳؁ء میں ہوا۔
باوجودیکہ دنیا کبھی بھی خدا رسیدگان سے خالی نہیں رہی، ہر آن ایک سے بڑھ کر ایک اصحابِ کشف و کرامات، اولیائِ کاملین، و فناء فی اللّٰہ شخصیات موجود رہتی ہیں، مگر اپنے مرشدِ ثانی کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد باوجود جستجوئے بسیار مولانا کسی کو بیعت و استرشاد کے لئے منتخب نہ کرسکے، اس لئے کہ بیعت و ارادت کا تعلق انشراحِ قلب پر موقوف ہوتا ہے۔

تلامذہ:
حضرت مولانا کے اس ترالیس سالہ تدریسی دورانیہ میں بے شمار لوگوں کو علمی فیوض پہونچے، آپ کے تلامذہ میں سیکڑوں باصلاحیت و باعمل علماء و صلحاء ہیں۔ حضرت سے جب بھی ان کا کوئی شاگرد یا فیض یافتہ ملتا تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ وہی حضرت کا سب قریبی ہے، اور حضرت مولانا کے مزاج میں تصنع و تعلی پسندی بالکل نہیں تھی اس لئے جو تلامذہ ان سے روز مرہ کے ملاقاتی تھے ان سے وہ بے تکلفی کا معاملہ فرماتے تھے۔ اگر دوران ملاقات کوئی موقع نصیحت کا آجاتا تو فوراً پند و نصیحت سے نوازتے۔ اور منکرات کے سرزد ہونے پر فوراً گرفت کرتے اور طنز تنقید کے انداز میں ٹوکتے تاکہ جلدی اصلاح ہوسکے۔
راقم السطور اور میرے خالہ زاد برادر مولانا جمیل الرحمٰن قاسمی (ہم لوگ چونکہ حضرت کے گاؤں سے ہی تعلق رکھتے ہیں اس لئے ہم
لوگوں) سے تقریباً روزانہ ہی ملاقات ہوتی، گاہ بگاہ ہم دونوں برادر فجر کے بعد حضرت مولانا کے کاشانہ پر ہی ملاقات کے لئے چلے جاتے، حضرت مولانا خوب ضیافت کرتے، اور کچھ علمی و سیاسی تذکرے ہوتے، عموماً علمی لطائف و باریکیوں سے نوازتے۔ کسی مسئلے میں اپنی رائے ظاہر کرتے اور اس پرہم لوگوں کا تجزیہ چاہتے۔
اور اکثر بعد نماز عصر حضرت مولانا ٹہلتے ہوئے مولانا جمیل الرحمٰن قاسمی کے گھر (جو کہ فی الحال کوئیں بازار میں سکونت پذیر ہیں، اقصیٰ میڈیکل اسٹور) پر آجاتے، وہاں عصرانہ میں چائے کا دَور چلنے کے بعد کبھی حالاتِ حاضرہ پر گفتگو و خیال آرائی ہوتی اور کبھی علمی مباحث زیرِ سخن آجاتے، حضرت اپنی قیمتی آراء و آگہی سے نوازتے اور گوہر افشانی فرماتے۔
حضرت مولانا کا مطالعہ کافی وسیع تھا، مجھ سے اکثر معلوم کرتے رہتے کہ کوئی نئی کتاب منظر عام پر آئی ہے کیا؟
علمی تحقیقات کے لئے بندۂ ناچیز پر بہت اعتماد کرتے، کبھی کوئی بحث تحقیق طلب ہوتی تو بندہ سے پوچھتے، اور آج چونکہ انٹرنیٹ پر کتابوں کے بیش بہا ذخیرے موجود ہیں، اگر کسی کتاب میں تسلی بخش مواد موجود یا موصول نہ ہوتا تو کہتے کہ ذرا فلاں چیز نیٹ پر تلاش کیجئے، اور میں سرچ کرکے بتاتا تو اطمینان ہوتا۔مگر آہ! آج ہمارے حضرت اس دارِ فانی پر دارِ بقاء کو حقیقی و عملی ترجیح دیتے ہوئے ہمارے درمیان نہیں رہے تو اب ہم لوگ کس سے سخن آرائی کریں؟
جوہری بند کئے جاتے ہیں بازارِ سخن ٭ ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

خطابت:
حضرت مولانا سعید احمد قاسمی صاحب یوں تو تقریر و خطابت کم ہی فرماتے تھے، مگر جب کبھی موقع مل جاتا تو انتہائی پرمغز خطاب فرماتے، چونکہ حضرت کو نہ صرف اردو بلکہ فارسی کے اشعار بھی بہت زیادہ مستحضر و ازبر تھے اس لئے بطورِ تمثیل دورانِ خطابت اشعار بہت پڑھتے، اور عام مجالس و مواقع پر بھیبرجستہ و برمحل اشعار سناتے تھے،۔ اور عموماً فلسفیانہ خطاب فرماتے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ عام آدمی ان کے خطاب سے اوب جاتا، مگر اہل فہم و دانش ہمہ تن گوش ہوکر سنتے۔
بہر کیف! اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت مولانا کو گوناگوں خصوصیات سے نوازا تھا، مگر اقتصادی و معاشی بحران کے سبب وطن میں ہی رہ کر اہل خانہ کی کفالت و پرورش میں لگے رہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا میدانِ درس وتدریس، میں کماحقہ اپنے جوہر کو بروئے کار نہ لاسکے، حالانکہ حضرت کی دلی تمنا تھی کہ کسی بڑے ادارہ یا تنظیم سے منسلک ہوتے، اور اس کے مواقع بھی بارہا نصیب ہوئے، مگر اب جب کہ حضرت رہے ہی نہیں تو اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ:
ور نمانیم عذرِ ما بپذیر ٭ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

الوداع:
۲۷؍ ستمبر ۲۰۱۹؁ ء بروز جمعہ بعد نمازِ عصر کی بات ہے، جیسا کہ اس وقت عموماً ملاقات ہوتی ہی تھی، راقم نے حسبِ روایت احوال پُرسی کی تو بولے:
وہ عشق جس کی شمع بجھادے اجل کی پھونک ٭ چراغِ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں
پھر چائے نوشی وغیرہ ہوئی، اگلے روز کہیں رشتہ داری میں تشریف لے گئے، ملاقات نہ ہوسکی۔ یکایک دوشنبہ کے روز ظہر کی نماز کے بعد حضرت کے علالت اور گورکھپور ہسپتال میں داخل و زیرِ علاج (آئی سی یو ‘ Intensive Care Unit’ ”میں) ہونے کی اطلاع ملی، ان کے صاحب زادگان سب وقف بوقفہ احوال معلوم ہوتے رہے، اور اچانک سے بروز منگل شام ۴؍بجے حضرت کے داغِ مفارقت دے جانے کی خبر گردش کرنے لگی اور پورا گاؤں سوگوار ہوگیا۔ إنا للّٰہ و إنا إلیہ راجعون * ، لعل اللٌٰہ یحدث بعد ذالک أمراً*

باری تعالیٰ حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے، اپنا جوارِ رحمت مرحمت فرمائیاور پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے

اس دشوار وقت میں مدرسہ مصباح العلوم کا عملہ اور ابنائے قدیم مرحوم کے پسماندگان کے غم میں شریک اور شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ابوالحسنات قاسمی
دارالثقافہ، اسونجی بازار، گورکھپور

email:alsaqafah@gmail.com
mob:9450873268

Show More

Related Articles

جواب دیجئے

Close