سیرت و شخصیات

ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ! ذوالقرنین احمد

موت اٹل حقیقت ہے اس سے کسی کو بھی رست گاری نہیں ہے، ہر ذی روح کو موت کا مزا چکھنا ہے، زندگی کی حقیقت یہ کہ انسان ایک پل میں ماضی بن جاتا ہے۔ لیکن کچھ اچھے لوگوں کے نام باقی رہتے ہیں۔
بڑے افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ چکھلی شہر کی مشہور و معروف شخصیت الحاج حافظ نور خان صاحب رضوی امام و خطیب اقصیٰ مسجد چکھلی کا آج دوپہر 1:30 بجے دل کا دورہ پڑھنے سے انتقال ہوگیا ہے
حافظ نور خان صاحب 1980 میں مرحوم اسماعیل شاہ صاحب امام و خطیب قریشی مسجد جو میرے دادا جان تھے۔ انکے انتقال کے بعد قریشی مسجد میں امامت پر فائز ہوئے تھے، تقریباً 30 سے 35 سال تک جامع مسجد اہل قریش میں امامت کے فرائض انجام دئیے، اسکے بعد مسجد اقصی میں امامت کررہ تھے۔ عربی مدرسہ میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ شہر میں کافی مقبولیت حاصل تھی، بچہ بڑا ہر کوئی ان سے واقف تھا۔ میں خود بچپن سے انکے پیچھے نماز پڑھا کرتا تھا۔ ہمارے خاندان کے ساتھ گہرے مراسم حافظ صاحب کے تھے۔ کافی سادگی پسند اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ فجر کے وقت روزانہ آذان کے بعد سریلی سحر انگیز آواز میں” بندے خدا کی یاد میں آنسو بہا کہ دیکھ، ملتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کہ دیکھ” پڑھا کرتے تھے۔ ربیع الاول کے موقع پر جلوس میں اول صف میں ہوتے تھے۔ ہمیشہ چہرہ پر مسکراہٹ ہوا کرتی تھی۔ گرج دار آواز تھی خطاب کرتے وقت سامعین توجہ نہیں ہٹا پاتے تھے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں ہر کوئی سحری اور افطاری کے وقت انکی آواز سننے کا منتظر رہتا، شہر میں کوئی بھی موقع ہو سب سے پہلے مسجد سے اعلان کیا کرتے تھے۔ جب بھی نماز جنازہ پڑھانے کیلے کھڑے ہوتے تو پہلے طریقہ بیان کرتے تھے۔ عیدین کی نماز کے بعد طویل دعائیں مانگا کرتے تھے۔ سردی گرمی بارش کوئی بھی موسم ہو ہر روز فجر کے وقت انکی آواز سنائی دیتی تھی۔ آج حافظ صاحب کے انتقال کی خبر سنتے ہی پورے شہر میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ بچے بوڑھے جوان انکے مکان پر ذیارت کیلے پہنچے۔ گزشتہ چند روز قبل آخری بار سلام کلام ہوا تھا۔ لیکن آج بروز سنیچر دوپہر دیڑھ بجے کے قریب دل کا دورہ پڑھنے کی وجہ سے دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ہر ایک غمزدہ ہے ہر آنکھ اشک بار ہے۔ لہذا مرحوم کی نماز جنازہ کل صبح 9 بجے خیراللہ شاہ درگاہ کے میدان میں ادا کی جائے گی اور تدفین گورکشن واڑی قبرستان میں عمل میں آئی گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close