سیرت و شخصیات

فداۓ ملت‌ رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر رحمہ اللہ! مفتی حسین احمد ھمدم ایڈیٹرچشمۂ رحمت ارریہ

آپ کی تاریخ پیدائش 10دسمبر 1878ء ہے،ریاست رام پور کے باشندہ علی گڑھ آکسفورڈ کے گریجویٹ تھے۔”مولانا” کی اعزازی وآنریری ڈگری آپ کو وقت کے مشاہیر علماء کرام خصوصا مولانا عبد الباری فرنگی محلی رح نےمدرسہ نظامیہ فرنگی محل لکھنؤ سےآپ کے تدین اور دینی معلومات کی بنا پر دیا۔ کلکتہ سے ہفتہ وار *’’ کامریڈ‘‘* اخبار جاری کیا اس وقت انگریزوں نے دارالحکومت اسی شہر کو بنا رکھا تھا بعد میں جب دارالحکومت دہلی منتقل ہوا تو‌آپ نے کامریڈ کو‌بھی دہلی منتقل کردیا جامع مسجد سے قریب کوچہ چیلان میں اس کا دفتر‌تھا یہاں آپ نے ’’ہمدرد‘‘ کے نام سے اردو میں بھی اخبار کا اجرا کیا۔ برطانوی پالیسی کے خلاف تو آپ اپنے اخبارات میں ہمیشہ لکھتے تھے لیکن نومبر 1914ء میں یورپ کی پہلی جنگ عظیم میں برطانوی پالیسی کے خلاف آپ نے کامریڈ میں جب ایک مقالہ”Choice of the turks” کے عنوان سےلکھا توانگریز حکام آگ بگولہ ہوگئے آپ کو اور آپ کے بڑے بھائی و رفیق مولانا شوکت علی کونظر بند کردیا گیا،نظربندی‌شروع‌میں مہرولی میں رہی پھرنجیب آباد کے آگے لینسڈون کے پہاڑی مقام پر منتقل کئےگئےاور نومبر1915 میں بالآخر چندواڑہ (پی -سی) بھیج دیئے گئے۔دسمبر 1919ختم ہورہاتھا جب رہائشی ملی۔
رہائی کےبعد آپ نے تحریک خلافت اور ترک موالات میں قائدانہ حصہ لیا،گاندھی جی کے ساتھ ملک بھر کا سفر‌کیااور انگریزی حکومت کےخلاف لوگوں کو متحد اوربیدارہوکر ترک موالات کی تحریک کو بلندی‌پر‌پہنچایا۔فروری 1920میں وفدخلافت اپنی قیادت میں لے کر یوروپ گئے اس وفد میں علامہ سید سید سلیمان ندوی بھی تھے۔
ستمبر 1921تھا کہ مولانا مدراس جاتےہوۓ والٹیر اسٹیشن پر گرفتار کر لیے گئے جرم یہ تھا کہ چندروز قبل کراچی خلافت کانفرنس میں بحیثیت صدر ایک‌باغیانہ تقریر کی تھی اور باغیانہ ریزولیوشن پاس کیا تھا۔ اس دور میں وہ نظم بہت مشہور ہوىی جو کسی شاعر نےان کی والدہ "بی اماں” کی زبان سے ادا کی تھی:
بولی اماں محمد علی کی
جان بیٹا خلافت پہ دےدو
ساتھ ہیں تیرے شوکت علی بھی
جان بیٹا خلافت پہ دےدو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی قید و بند کی حالت میں آپ نے قرآن پاک‌کا اکثر حصہ حفظ کیا۔اگست 1923کی آخری تاریخیں تھیں جب قید فرنگ سے رہائی ہوئی اور بعدرہائی ‌کانگریس کے صدر بنائے گۓ۔لیکن اس‌وقت گاندھی جی جیل میں تھے اور ملک جو کہ 1919.20تک ہندو مسلم فسادات سےبالکل ناآشنا تھا اب مہاسبھائیوں اورخود کانگریس میں موجود ‌بعض متعصب تنگ دل اور‌ناعاقبت اندیشوں کی وجہ سے چھوٹی‌چھوٹی بات پر فسادات کے زخم کھانے لگا، مولانا نے گاندھی جی کی رہائی کےبعد 1924میں استعفی دےدیا۔
1921میں گرفتاری کے بعد کامریڈ اور ہمدر د بند ہوگیا تھاستمبر 1924سے اخبارات پھر سے جاری ہوئے۔
شعر وشاعری میں دس سال کی عمر میں ہی رام پور میں اپنے پڑوس میں قیام پذیر حضرتِ داغ دہلوی کے شاگرد ہوگئے تھے،عام حالات تو آپ کی زندگی کی تھی نہیں البتہ قید کی حالتوں میں تلاوت کلام کے علاوہ کبھی کبھار آپ نے ایمانی‌جذبوں‌سے لبریزاورپرسوز اشعار بھی کہے۔ذیل میں پیش ہیں
*منتخب کلام جوہر*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ حالت ہوگئی ہے ایک ساقی کے نہ ہونے سے
کہ خم کے خم بھرے ہیں مے سے اور میخانہ خالی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‌
تم یوں نہ سمجھنا کہ فنا میرےلئے ہے
پر غیب سے سامان بقا میرے لئے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کہوں کیسے رہائی ہوتے ہوتے رہ گئی
مستحق دار کو حکم نظر بندی ملا

۔۔۔۔۔۔
توحید تو‌یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لیے ہے

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

ساری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ سودائی ہے
اب مرا ہوش میں آنا تری رسوائی ہے

وقارِ خون شہیدانِ کربلا کی قسم
یزید مورچہ جیتا ہے جنگ ہارا ہے

شکوہ صیاد کا بے جا ہے قفس میں بلبل
یاں تجھے آپ ترا طرزِ فغاں لایا ہے

دورِ حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد

خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہی
ہوسِ زیست ہو اس درجہ تو مرنا ہے یہی

اس کی رسوائی کا بھی آیا نہ تجھ کو کچھ خیال
کس قدر بے باک تو اے دیدۂ تر ہو گیا

جوہرؔ اسیریوں کی کوئی انتہا بھی ہے
آزاد اک نظامِ پریشاں بنائیے

ہے کس کے بل پہ حضرتِ جوہرؔ یہ روکشی
ڈھونڈیں گے آپ کس کا سہارا خدا کے بعد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر چھٹا‌یوں کہ چھوڑنے والے
ہم نہ تھے اس کے آستانے کے

پوچھتے کیا ہو بود وباش کا حال
ہم ہیں باشندے جیل خانے کے
۔۔۔۔۔۔۔۔
امتحاں سخت سہی پر دل مومن ہی وہ کیا
جو ہراک حال میں امید سے‌معمور نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فداۓ ملت ورئیس الاحرار حضرت مولانا محمد علی جوہر اپنے وقت میں چوٹی‌کے سیاسی لیڈر(صدر کانگریس)
بلندپایہ ملی رہنما(صدر خلافت کانفرنس)
انگریزی کے صاحب طرزادیب(چیف ایڈیٹر کامریڈ کلکتہ ثم دہلی)
اردو کے عظیم شاعروادیب(ایڈیٹر ہمدرددہلی)
اور صوفی باصفا تھے(حضرت مولانا قیام الدین عبدالباری فرنگی محلی سے بیعت) اور سب سے بڑا وصف ان کا یہ تھا کہ انہوں نے ملت اسلامیہ ہند اور عالم اسلام کے لئے اپنا گھر بار، مال واولاد، صحت صلاحیت اور‌زندگی ہر چیز لٹادی اور اف تک نہیں کیا ،واقعی آپ فداۓ ملت تھے۔اللہ انہیں اپنی شایان شان جزا عطا فرمائے۔آمین۔
*بانئ جامعہ ملیہ اسلامیہ*
مولانا محمدعلی جو ہر رح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اصل اور اول بانی ہیں۔ آپ رح نے رام پور سے انگریزوں کی‌ایماءپر نواب رامپور حامد علی خان کے ذریعہ جلاوطن ہونے کے بعد علی گڑھ کے قیام کے‌دوران اس گہرے تفکر کے بعد کہ ترک موالات کے تحت خدا فراموش ظالم انگریزی حکومت کے اور محکموں سے جب تعلق جائز نہیں اس کے عہدے، مناصب سب قابل واپسی تو پھر سرکاری تعلیمی ادارے جو ان سارے تعلقات کی سنگ بنیاد ہےوہ بدرجۂ اولی قابلِ ترک اور لائق احتراز ہے، اب مسلمان بچے کیا کریں ؟ تعلیم اپنے‌ہاتھ میں لی جائے،نصاب اپنا ہو ،استاذ اپنے ہوں تعلیمی ماحول اپنا ہو ۔اسی‌ کے بعد بے سروسامانی کے عالم میں جامعہ کا‌خاکہ آپ نے طے‌کیا،اس کا نصاب تیار کیا،مختلف شعبوں کےلئےافراد بہم پہنچاۓ،طلبہ واساتذہ کے قیام کے لیے خیمے نصب کراۓ اس بیچ رسم افتتاح کے کےلئے شیخ الہند مولانا محمود الحسن رح کا مقدس وجود آگیا ساتھ ہی جواں ہمت رفیقوں کی ٹیم بھی بن گئ تو وہاں تعلیم شروع کی، بعد میں جامعہ دہلی منتقل ہوا۔
اور‌آج‌اس مرد دوراندیش کے لگاۓ ہوۓ شجر‌سے کتنے جوہر ملک وملت پر فدا ہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ایک موقع پر بانئ جامعہ حضرتِ جوہر نے خود اس ادارے کی خصوصیات یوں شمار کروائی:
"خدا پرستی،ملت پروری، وطن دوستی”
*ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق*
مولاناکثرت شب بیداری اور مسلسل اسفار اور بے‌سکونی‌کی نیز ذہنی وقلبی صدمات کی وجہ سے عرصۂ درازسے ذیابطیس سمیت مختلف امراض کے شکار ہوگئے تھے پھر بھی لمحہ بھر آرام کو روادار نہ تھے، گول میز کانفرنس میں شرکت کے سلسلےمیں لندن میں مسافر تھے کہ 3اور 4 جنوری کی درمیانے شب میں سات بجے زبان بند ہوگئ، گیارہ بجے ڈاکٹر نے بتایا کہ دماغ میں خون کی رگیں پھٹ گئی ہیں اب کوئی امید نہیں دوبجے شب سے بالکل غفلت ہوگئ اور اسی حالت میں صبح ساڑھے نو بجے اس ذات پاک کے دربار میں حاضر ہوئے جس کے دین کے لئے جسم وجان اور دل ودماغ کی ساری توانائیاں صرف کردی تھیں۔
بعد وصال مفتی اعظم فلسطین شیخ امین الحسینی کی درخواست پر جنازہ "نرکنڈہ” نامی جہاز پر بیت المقدس فلسطین لےجایاگیا قبلہء اول مسجد اقصی میں نماز جنازہ پڑھی گئ اور وہیں انبیاء شھداء وصالحین کے پہلوؤں میں آسودہ ہوۓ۔
مولانا مناظر احسن گیلانی نےوفات‌کےبعد کہا :
بدین مصطفیٰ دیوانہ بودی
"فدائے ملت” جانانہ بودی
سیاست را نقاب چہرہ کردی
وگرنہ "عاشق مستانہ” بودی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close