سیرت و شخصیات

علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃاللہ علیہ کا مختصر سوانح حیات ۔۔خرّم ملک کیتھوي

علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃاللہ علیہ کا مختصر سوانح حیات ۔۔خرّم ملک کیتھوي – پٹنہ، 9304260090
راقم الحروف محمد سُلطان اختر
 ملک ہندوستان میں ایک سے ایک عظیم شخیات پیدا ہوئی ہیں جنہوں نے اپنی علمی صلاحیت سے نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا میں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا،اور ایسی ہی ایک عظیم شخصیت نے ملک ہندوستان میں ۱۸۸۴ میں ایک علمی خانوادے میں آنکھیں کھولیں،جی ہاں میں بات کر رہا ہوں علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا جن کی 22 نومبر کو یومِ پیدائش تھی
22 نومبر 1884 (دیسنہ، بہار، ہندوستان)
اور وفات
23نومبر 1953(کراچی، پاکستان)
جو صوبہ بہار کی ایک مردم خیز بستی دیسنہ میں پیدا ہوئے، کہتے ہیں کے دیسنہ اپنے وقت میں ایک ایسا گاؤں تھا جس نے اتنے گریجویٹ پیدا کیے جتنے پورے ملک کے کسی گاؤں نے نہیں پیدا کیے ہونگے، ساتھ ہی اُس بستی نے کئی عربی کے منتہی  پیدا کیے، سید سلیمان ندوی کا بھی شمار عربی ادب کی ایسی ہی عظیم المرتبت علماء میں ہوتا ہے، آپ کے والد ماجد کا نام ابوالحسن تھا،
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو الحبیب سے  حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری صاحب سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے  دربھنگه چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔
اور پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے ندوۃ العلماء کا رخ کیا، وہاں آپ نے علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ علیہ کی شاگردی اختیار کی، اور ایک قابل اور تعلیم یافتہ عالمِ دین کہلائے، اور پھر آپ  وہیں استاد مقرر ہوگئے،  
لیکن آپ بہتر ملازمت کے سلسلے میں حیدرآباد جانا چاہتے تھے تب آپ کے استاذ شبلی نعمانی رحمہ اللہ علیہ نے آپ کو جانے سے روکا،لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے اور آپ نے ۱۹۰۸ میں حیدرآباد کا رخ کر لیا، 
لیکن قدرت کو ان سے کچھ اور ہی کام لینا تھا۔سید سلیمان ندوی صاحب عربی زبان پر بھی بڑی قدرت رکھتے تھے۔دارلعلوم ندوہ کے سالانہ اجلاس میں سید صاحب نے پہلی دفعہ عربی میں برجستہ تقریر کی جسے سن کر علامہ شبلی اس قدر خوش ہو ئے کہ انہوں نے جلسہ میں اپنا عمامہ اتارکران کے سرپر رکھ دیا ۔ سید صاحب نے کچھ عر صہ دارالعلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں جبکہ کچھ عرصہ تک ”الہلال“میں مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ کام کیا۔ اس کے بعد وہ دکن کا لج پونہ میں دوسال تک فا رسی کے معاون پر وفیسر رہے۔مارچ 1911ءمیں سید صاحب کو پھر حیدرآباد جانے کا موقع ملا۔ علامہ شبلی کے دوران قیام عماد الملک نے  ندوةاالعلماءکے کام سے متاثر ہو کر اپنا بیش قیمت کتب خانہ ندوہ کو دے دیا تھا۔چناں چہ اس کتب خانے کو حیدرآّباد سے لانے کیلئے مولانا شبلی نعمانی نے سید صاحب کاانتخاب کیا ۔1941ءمیں جب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوا تو سید صاحب دکن کا لج پو نہ میں لیکچر ار تھے
آپ اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور کئی قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔
سید صاحب کا مطالعہ بہت وسیع تھا، انہوں نے بے شمار علمی، دینی، مذہبی، تاریخی، تحقیقی ،ادبی، تنقیدی اور سیاسی مقالات ومضامین بھی لکھے جو ماہنامہ الندوہ لکھنؤ، ہفت روزہ الہلال کلکتہ اور ماہنامہ معارف اعظم گڑھ میں شائع ہوئے۔ ان میں بعض مقالات ومضامین اتنے طویل تھے کہ وہ سید صاحب کی زندگی ہی میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ مثلاً
1 رسالہ اہل سنت والجماعۃ ( جو عقائد میں ہے) 
2 خواتین اسلام کے شجاعانہ کارنامے
3 برید فرنگ
4 دنیائے اسلام اور مسئلہ خلافت
5 خلافت اور ہندوستان
6 لاہور کا ایک مہندس خاندان( جس نے تاج اور لال
قلعہ بنایا)یہ تحقیقی مقالہ سید صاحب نے اپریل 1933ء
میں ادارہ معارف اسلامیہ لاہور کے سالانہ اجلاس میں پڑھا اس اجلاس کی صدارت علامہ اقبال نے کی تھی اس مقالہ میں سید صاحب نے مستند شہادتوں سے مدلل کرتے ہوئے بتایاتھا کہ ’’تاج محل کا معماردر حقیقت نادر العصر استاد احمد معمار ہے جو ہندسہ، ہیئت اور ریاضیات کا بڑا عالم تھا۔ (مقالات سلیمان ۱/۲۹۳)
عالمِ اسلام کو جن علماء پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ ان کی علمی اور ادبی عظمت کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر، 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ، معارف جاری کیا۔
بات اگر برصغیر کے علمائے اہلحدیث کی کی جائے کے انکی نظر میں علامہ سید سلیمان ندوی کی کیا اہمیت تھی تو میں یہاں پر ایک مضمون کا ذکر کرنا چاہونگا جسے عبد الرشید عراقی نے قلمبند کیا ہے وہ لکھتے ہیں کے علامہ سید سلیمان ندوی ۱۸۸۴ء۔۱۹۵۳ء) علوم اسلامیہ کے بحر زخّار تھے ان کی شخصیت ہمہ گیر اور کثیر الجہت تھی وہ ایک عظیم المرتبت عالم، مورخ،محقق، عربی، فارسی اور اُردو کے نامور ادیب، صحافی، مصنف اور سیاست دان تھے۔ علم وفضل کے اعتبار سے جامع الکمالات والصفات تھے۔ علامہ اقبال (م ۱۹۳۸ء) جیسے عظیم مفکر اور شاعر نے ان کے علم وفضل ، ذوق مطالعہ اور وسعت معلومات کا اعتراف کیا ہے چنانچہ علامہ اقبال اپنے ایک مکتوب ۲۷ اپریل ۱۹۱۷ء سید صاحب کو لکھتے ہیں کہ ’’ آج مولانا ابو الکلام کا خط آیا ، انہوں نے بھی میری اس ناچیز کوشش کو بہت پسند فرمایا ہے مولانا شبلی رحمہ اللہ کے بعد آپ استاد الکل ہیں۔ اقبال آپ کی تنقید سے مستفید ہوگا۔ (اقبال نامہ 1/80)
جب سید صاحب کی کتاب’’سیرت عائشہ ‘‘ 1924ء میں شائع ہوئی اور علامہ اقبال کے مطالعہ میں آئی تو سید صاحب کو خط ارسال کیا
” سیرت عائشہ کے لئے سراپا سپاس ہوں ۔ یہ ہدیہ سلیمانی نہیں سرمہ سلیمانی ہے ۔ اس کتاب کے پڑھنے سے میرے علم میں مفید اضافہ ہو گا خدائے تعالیٰ جزائے خیر دے ۔ “ ( اقبال نامہ ۱/۱۱۳ )
سید صاحب کی کتاب’’خیام‘‘ کی اشاعت پر علامہ اقبال نے اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا : 
” عمر خیام پر آپ نے کچھ لکھ دیا ہے ۔ اس پر اب کوئی مشرقی یا مغربی عالم اضافہ نہ کر سکے گا ۔ الحمد للہ کہ اب اس بحث کا خاتمہ آپ کی تصنیف سے ہوا ۔ “(اقبال نامہ ۱/۱۷۸)
 تصانیف 
سیرت النبی
عرب و ہند کے تعلقات
حیات شبلی
رحمت عالم
نقوش سلیمان
حیات امام مالک
اہل السنہ والجماعہ
یاد رفتگاں
سیر افغانستان
مقالات سلیمان
خیام
دروس الادب
خطبات مدراس
ارض القرآن
ہندوؤں کی علمی و تعلیم ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں
اس کے علاوہ سید صاحب کی درج ذیل کتابیں ان کے دینی،علمی، تحقیقی اور ادبی وتنقیدی خطبات کا مجموعہ ہیں جو انہوں نے مختلف شہروں میں ادبی ،تاریخی اور تعلیمی کانفرنسوں میں ارشاد فرمائے۔ ان میں بعض کانفرنسوں کی آپ نے صدارت بھی کی۔
1 خطبات مدراس
2 عرب وہند کے تعلقات
3عربوں کی جہاز رانی
4خیام
5نقوش سلیمان
سید صاحب نے دسمبر ۱۹۲۰ء میں آل انڈیا اوریئنٹل
 کانفرنس کے اجلاس پٹنہ میں ایک مقالہ پڑھا۔ یہ مقالہ علمی وادبی حلقوں میں بہت پسند کیاگیا توسید صاحب نےاس میں بعض مباحث بڑھا کر ایک مستقل کتاب کی شکل دے دی۔
سید صاحب نےعربی مدارس کی اصلاح وترقی کےکام کواپنے خالص ذوق کےمطابق پاکہ اس پیش کش کوقبول کرلیا ۔اور جون ۱۹۴۹ء میں بھوپال کےقاضی القضاء اورجامعہ مشرقیہ کےامیر کےمنصب پرمامو ر ہوئے۔ لیکن دارالمصنفین اورندوۃ العلماء سےتعلقات بدستور قائم رہےجس مقصد کےلیے انہوں نے بھوپال کا قیام منظور کیا تھا۔اس کی تکمیل میں اکتوبر ۱۹۴۹ء تک تگ ودو کرتے رہے ۔
پاکستان آمد : 
اکتوبر ۱۹۴۹ء میں اپنی اہلیہ اور صاحبزادے سلمان ندوی کے ساتھ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور شاہ سعود رحمہ اللہ کے مہمان خصوصی ہوئے۔
تقسیم ہند کے بعد جون ۱۹۵۰ء میں ساری املاک ہندوستان میں چھوڑ کر ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور کراچی میں مقیم ہوئے۔ یہاں مذہبی و علمی مشاغل جاری رکھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے تعلیمات اسلامی بورڈ کے صدر مقرر ہوئے۔
وفات : 
۱۹۵۳ء میں سید صاحب نے ڈھاکہ کا سفر کیا وہاں سے لکھنو تشریف لے گئے کچھ دن بعد کراچی تشریف لے آئے اور علیل ہوگئے آخر اس علم وفضل کے آفتاب نے ۲۳ نومبر ۱۹۵۳ء مطابق ۱۴ربیع الاول ۱۳۷۳ھ کو۷۱سال کی عمر میں رحلت فرمائی اور ان كي تدفين مولانا شبير احمد عثماني رحمه الله كے پہلو میں ہوئی
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close