سیرت و شخصیات

صوبہ بہار کا ایک نایاب ستارہ مولانا اسرارالحق صاحب رحمہ ! مفتی محمد نجیب الرحمن قاسمی 

                      باسمہ تعالی

صوبہ بہار کا ایک نایاب ستارہ
مولانا اسرارالحق صاحب رحمہ
قارئین کرام.. یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی رحمہ جہاں ایک طرف  بےمثال عالم دین،مشہور قلم کار تھے، تو دوسری طرف معروف مصنف، میدان صحافت کے شناور، میدان خطابت کے نبض، ماہر تعلیم، بےنظیر ملی رہنما، ہردل عزیزسیاسی قائد،دارالعلوم دیوبند کی مجلسِ شوری کے کن، جمعیت علماءہند کے فعال ومتحرک جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم کونسل کے بانی ونائب صدر، اور متعدد مدارس ومکاتب اور اسکولوں کے بانی وسرپرست بھی  تھے، مولانا موصوف رحمہ کی شخصیت، دینی، علمی، عملی، فکری، سیاسی، سماجی، شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، متعدد اوصاف حمیدہ، بلند ترین اخلاق و شمائل، نمایاں ترین امتیازات وخصوصیات کی حامل تھی، آپکی ولادت ضلع کشنگنج بہار کی ایک چھوٹی بستی ٹپوتاراباری میں 15/فروری 1942 میں جناب منشی امید علی بن لیاقت اللہ صاحب کے گھر میں ہوئ، آپکی ابتدائ تعلیم وتربیت علاقہ کے ایک ادارہ بدرالعوم پھول گاچھی ضلع کشن گنج میں ہوئ، بالآخر دارالعوم دیوبند سے 1964 میں سند فضیلت سے سرفرازی نصیبی ہوئ،دوران تعلیم آپ ایک مشہور اور ہونہار طالب علم کی حیثیت سے جانے جاتے تھے، اورہمیشہ نمایا نمبرات سے کامیابی حاصل کرتے تھے، دارالعلوم سے فراغت کے بعد بیگوسرائے کے ایک مدسہ میں کئ سالوں تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، اسی دوران ایک جلسہ میں شیخ الہند رح نے آپکی ذہانت کو دیکھ  آپکو جمعیت سے جڑنے کی کو کہا۔ تو آپنے اسے حکم سمجھ کر دہلی کا رخ کیا. پھرجمیعت کے افراد نے کو جمعیت کا جنرل سکریٹری بنایا،چنانچہ آپ 1980 تا 1990 تک اس منسب پر فائز رہے،اور بحسن خوبی اپنی ذمہ داری کو نبھاتے رہے،اور ملت کے مسائل کو اپنا درد سمجھ کر اسکا علاج کرتے رہے، بالآخر آپ نے اپنے مشن کو اور آگے بڑھایا، اور میدان سیاست میں کود پڑے، اور اتنا آگے بڑھے کے ممبر آف پارلیمنٹ بن گئے، سیاسی اور ملی قیادت کے موجودہ منظرنامے پر جن شخصیات کو اپنی سماجی تعلیمی اور مذہبی خدمات کی بدولت ہر طبقے کا اعتبار حاصل تھا، ان میں مولانا موصوف رحمہ کانام بھی نمایاں ہے، آپکی خدمات کا سلسلہ ہر اس طبقے سے جڑاتھا، جو معاشی تعلیمی اور سماجی طور پر بچھڑاہوتھا، انہوں نے ان طبقات کی فلاح وبہبود اور زیور علم سے آراستہ کرنے کےلئے انتھک کوشش کی، خاص طور پر انہوں نے ان دور افتادہ علاقوں کو اپنا میدان عمل بنایا جہاں علم اور تہذیب و دانش کی روشنی آزادی کے بعد بھی نہیں پہونچ سکی تھی، مولانا موصوف نے ایسے علاقے میں یقیناً  ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے، جسے تاریخ بھی کبھی فراموش نہیں کر سکتی، اور نہ ہی ان علاقے کے عوام اسے بھول سکتے ہیں، جنکے نصیب میں محرومیاں تاریکیاں لکھی ہوئ تھی۔مولانا نے باضابطہ میدان سیاست میں سرگرم ہونے کے بعد بھی اپنے تعلیمی مشن کو ترک نہیں کیا، بلکہ اسکے دائرے کو اور وسعت دینے کےلئےبھرپور کوشش کی، اور اللہ کا فضل ہے کہ اس تعلیمی مشن کی وجہ سے طلباءوطالبات عصری اور دینی تعلیم سے فیضیاب ہورہے ہیں۔کشن گنج میں ملی گرلس اسکول اسکا جیتا جاگتاثبوت ہے۔جہاں تقریبا 500 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں، اسکے علاوہ ملک کے چار صوبوں جھاڑکھنڈ، مغربی بنگال۔بہار، اور یوپی کے غریب وخستہ حال مسلم بستیوں می سیکڑوں مکاتب قائم کیے. جن میں ہزاروں طلباء و طالبات زیرِ تعلیم ہیں. مولانا موصوف رحمہ کی تعلیمی جد و جہد کا ایک اور کارنامہ ملک کے سب سے زیادہ پسماندہ ضلع کشنگنج میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شاخ کاقیام ہے۔ مولانا موصوف واحد شخصیت ہیں، جو مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی یاد تازہ کرکے انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے پوری جرائت وبے باکی کے ساتھ ملت کے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھاتے تھے. اور مسلمانوں کو درپیش مشکلات کے تئیں ہمہ وقت فکر مند رہتے تھے، نیز مولانا کا ذہن مذہبی اور مسلکی تعصب سے پاک تھا، انہوں نے ہمیشہ انسانی جذبے ۔احترام انسانیت اور خدمت خلق کے تحت سیاسی اور سماجی خدمت کی تھی۔اور انکی راہ میں کبھی بھی مذہب یامسلک حائل نہیں ہوا۔انہوں نے ہر کام انسانی جذبے اور درد مندی کے تحت کیا، اسی اثناء میں ایک رات وہ بھی آئ جسمیں آپ دار فانی سے دار آخرت کی طرف کوچ کر گئے، اس رات بھی آپ ایک تقریب میں تھے، جہاں آپ نے دیر رات تک طلباء اساتذہ سے خطاب کیا، وہ رات 07 دسمبر 2018 کی رات تھی، جب آپ تہجد کے لئے اٹھے، اسی وقت اچانک ہارٹ اٹیک ہوا، اور آپ اللہ کے پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ تعالی حضرت والا کو غریق رحمت فرمائے آمین
از قلم… مفتی محمد نجیب الرحمن قاسمی
مہتمم.. مدرسہ طیب العلوم مسجد عائشہ منگم پالیہ ،وخطیب مسجد مختار بنڈے پالیہ بنگلور
9686249294
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close