سیرت و شخصیات

ہندوستان کی موجودہ صورت حال کی روشنی میں سیدسلمان صاحب کے موقف کا سرسری جائزہ اور تبصرہ

ہندوستان کی موجودہ صورت حال کی روشنی میں سیدسلمان صاحب کے موقف کا سرسری جائزہ اور تبصرہ۔

         اطہر جمیل ندوی متعلم EFL, یونیورسٹی حیدرآباد
ہندوستان کی حالیہ بدترین صورتحال کے تناظر میں ہندوستانی مسلمانوں کو سید سلمان حسینی ندوی صاحب جیسے بے باک و بے مثال خطیب کی ضرورت تھی، جو اپنے بے باکانہ خطابت کے ذریعہ اس بکھری اور کسمپرسی کے عالم میں لڑکھڑاتی ہوئی امت کی کشتی کو پار لگاتے، انھیں ایک پیلٹ فارم پر متحد کرتے، ان کے دلوں میں اسلام اور دینی حمیت کا صور پھونکتے، اس مایوس اور مظلوم قوم کے سامنے اپنی خطابی سحر انگیزی سے *”إن مع العسر يسرا”* کی روشنی میں روشن مستقبل کا بہترین تصور پیش کرتے، ان کے بکھرتے ہوۓ خواب کو شرمندہ تعبیر کرتے، انھیں *قال اللہ و قال الرسول* کی صدا کی بنیاد پر اکٹھا کرتے، بابری مسجد کے تعلق سے اپنے پرانے موقف کی روشنی میں امت کے قلوب کو گرماتے اور انھیں مایوسی کے شکار ہونے سے بچاتے، بابری مسجد کی شہادت کے وقت آپ کا جو ایک تاریخی بیان ہوا تھا، دوبارہ اس طرح کے تاریخی بیان سننے کو کان ترس رہے ہیں۔
ضرورت تھی کہ آپ ان کاموں کو انجام دیتے جو اس ٹوٹتی اور بکھرتی ہوئی قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بناتے، لیکن آپ اپنے تفردات اور اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر اپنی عظیم شخصیت کو داغ دار کررہے ہیں اور پوری امت کو نت نئے مسائل میں الجھا رہے ہیں۔
میں مانتا ہوں کہ آپ کی بات سوفیصد صحیح ہے، آپ کی تحقیقی باتیں حدیث کی روشنی میں ہیں اور آپ نے انھیں امت کے سامنے پیش کیا لیکن اکثریت نے اپنی کم علمی کی بنیاد پر انھیں رجیکٹ کردیا اور آپ سے اپنے اختلافات کا کھل کر اظہار کیا، تو آپ کے لئے مناسب یہ تھا کہ آپ خاموش رہتے، آپ نے تو اپنا حق ادا کردیا۔
 لیکن ستم ظریفی تو یہ ہے کہ آپ زبردستی اپنی باتوں کو تھوپنا چاہتے ہیں،  تفردات یا اپنی تحقیق پر اڑے رہنا اور موقع و محل کی نزاکت سے  پرے ہوکر دجالی میڈیا کا سہارا لینا (جس کی آپ نے ہمیشہ مخالفت کی اور میڈیا کی زہرافشانی کو کھول کھول کر ہمارے سامنے بیان کیا ہے)  اور ان سے ہر ہر بات کو شئر کرنا، ان کے سامنے ہر بات کو من و عن  پیش کردینا ایسا لگتا ہے کہ شاید آپ عمر بن خطاب رضہ اللّٰہ عنہ کے دور میں جی رہے ہیں جہاں اسلامی حکومت کا نفاذ ہو اور آپ کی ہرہر بات کو عدالت کے منصفانہ ترازو میں تولا جائے گا، یہ بات واضح ہے کہ آپ کی ہر ہر پیش قدمی فسطائی طاقتوں کو قوت پہونچا رہی ہے۔
 اس وقت ہندوستان میں *عقیدہ* اور *تشخص* کی جنگ چل رہی ہے ” *الحرب خدعة* ” کی روشنی میں کیا ہم حدیث کے اس ٹکڑے سے استفادہ نہیں کرسکتے، یا ہم دجالی میڈیا کو ہر طرح کی ظاہری و باطنی بات کو جذبات کی رو میں بہہ کرکے بتا دینا اور باطل کا آلہ کار بن جانا یہ آپ کی شخصیت کو دور دور تک زیب نہیں دیتا یے۔
بابری مسجد کے تعلق سے سید صاحب کا موقف اور ہماری رائے۔
1 جب بابری مسجد کے قضیہ کو مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسی بڑی نمائندہ تنظیم ڈیل کررہی ہے تو پھر مولانا سید سلمان حسینی ندوی کو اس معاملہ میں دخل اندازی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
2 اتحاد کی دعوت دینے والے مولانا سید سلمان حسینی صاحب کیوں آج تفردات اور انفرادیت کے شکار ہوگئے۔
3.آخر مولانا وزیر اعلیٰ یوگی سے مل کر، اجتماعیت  سے ہٹ کر اور پانچ ایکڑ اراضی کا مطالبہ کر کے امت کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔
4.جب آپ بابری مسجد کا کیس نہیں لڑ رہے ہیں تو پھر آپ دخل اندازی کیوں کر رہے ہیں۔
5.براہ مہربانی آپ چپی سادھ لیں، یہ قوم و ملت کے حق میں بہتر ہوگا۔
           اس وقت کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں، وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے میں مولانا دامت برکاتہم کو چاہئے کہ وہ اپنے موقف سے رجوع کرلیں، صبر کے دامن کو تھام لیں، دفنا دیجئے سارے اختلافی مسائل کو، آئیے آپ اپنے ولولہ انگیز خطاب سے باطل طاقتوں کو للکار ئے، اختلافی مسائل  کو بغیر چھیڑے ہوئے اس بکھری اور منتشر  امت کو ایک پلیٹ فارم کے تحت جمع کریں اور یہ کام آپ بآسانی سے کرسکتے ہیں، اگر آپ اختلافی مسائل سے دور رہیں گے، تو ان شاءاللہ یہ مسلم قوم آپ کو اپنا امام بنانے کو تیار ہے، کیوں کہ ہرقوم کو ایک خطیب کی ضرورت ہوتی ہے اور حقیقی معنی میں اس امت کے خطیب آپ ہیں اور ساتھ ہی ساتھ  آپ ادارے کے بھی ترجمان ہیں، جس کا مشن ہی #رفع_نزاع_باہمی، #قدیم_صالح_و_جدید_نافع، #خذ #ما_صفا_و_دع_ما_کدر_ہے۔
 تو آئیے ہماری قیادت کیجئے، اس منتشر و مظلوم امت کو اکٹھا کیجئے، ہم آپ جیسے بے باک خطیب کو کھونا نہیں چاہتے ہیں
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close