دیوبند

بابری مسجد کی برسی کے موقع پر حساس علاقوں میں رہی پولیس تعینات

دیوبند، 6؍ دسمبر (رضوان سلمانی) بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پہلی 6؍دسمبر(بابری مسجدکے یوم شہادت) کے دن ضلع انتظامیہ کافی مستعد رہی اور ضلع کے تمام اسکول کالجوںکی تعطیل کے علاوہ تمام حساس و انتہائی حساس علاقوں میں پولیس گشت کے علاوہ خفیہ محکمہ کی پینی نظر لگی رہی لیکن حالات پوری طرح معمول پر رہے اور کسی بھی طرح کا کوئی کشیدگی والاواقعہ سامنے نہیں آیا، جس کے بعد انتظامیہ نے راحت کی سانس لی ،حالانکہ6؍ دسمبر کو جمعہ کا دن ہونے کے سبب بھی انتظامیہ کافی ٹیشن میں تھی۔ گزشتہ روز ضلع کلکٹر آلو ک کمار پانڈے نے ایک ہدایت نامہ جاری کرکے ضلع کے تمام اسکولوں کالجوں کو 6؍ دسمبر کے دن بند رکھنے کا حکم دیا تھا اور کہاکہ تھا جو لوگ اسکول کالج کھولے گیں ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ 6؍ دسمبر کے دن ضلع انتظامیہ پوری طرح الرٹ، حالانکہ ضلع بھر میں امن وشانتی رہی اور رفتار زندگی پوری طرح معمولات پر رہی لیکن اس کے باوجود بھی انتظامیہ کی جانب سے سخت تیاریاں کی گئی تھی۔تمام حساس و انتہائی حساس علاقوں میں پولیس گشت کے ساتھ ہوٹلوں،بس اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشنوں وغیرہ پر بھی چیکنگ کی گئی ،اتنا ہی نہیں بلکہ خفیہ محکمہ بھی پوری طرح الرٹ رہا،دن بھر کی ٹیشن کے بعد شام جاکر انتظامیہ نے راحت کی سانس لی۔ ضلع کلکٹر نے اعلیٰ افسران کی میٹنگ کرکے ضروری ہدایت دی اور 6؍دسمبر کو ضلع کے تمام اسکول کالج بند رکھنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اسکول بند نہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیا۔ اس کے ساتھ ہی ضلع اسکول انسپکٹر ڈاکٹر ارون کمار دوبے نے بتایاکہ یوپی بورڈ،سی بی ایس ای،میڈیکل،انجینئرنگ،آئی ٹی آئی،پولٹیکنیک سمیت تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔ ڈی ایم نے اپنے ہدایت نامہ میں اسکول کالجوںکو ساتھ ساتھ شراب کی دکانیں،اسلحہ کی دکانیں وغیرہ بھی بند رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ دیوبند میں بھی پولیس انتظامیہ اور خفیہ محکمہ کافی الرٹ رہا اور جمعہ کی نماز کے دوران خفیہ محکمہ نے ادھر ادھر کافی پینی نظر رکھی لیکن کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ایس پی دیہات ودھیا ساگر مشر،اے ڈی ایم ایف،دیوبند سی او رکوتوالی یگ دت شرما کی قیادت میں پورے شہر میں گشت کرتے ہوئے جگہ جگہ پولیس اہلکاروںکو تعینات کیاگیا تھا۔ دیر شام تک پولیس کا گشت بدستور جاری رہا۔ دن بھر کی ٹیشن کے بعد دیر شام انتظامیہ نے راحت کی سانس لی اور لوگ حسب معموم اپنی کاموں میں مصروف نظر آئے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close