دیوبند

مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی کے سانحۂ ارتحال پرتعزیتی نشستوں کا سلسلہ جاری

دیوبند، 6؍ دسمبر (رضوان سلمانی) پنجاب کے سابق مفتی اعظم اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی کے سانحۂ ارتحال پر تعزیتی پیغامات اور تعزیتی نشستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلہ میں ادارہ خدمت خلق کے سربراہ مولانا حسن الہاشمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم میرے استاذ تھے اور ان سے مجھے ہر معاملے میں رہنمائی ملتی رہی۔ انہوں نے ہمیشہ میرے ساتھ بھلائی کا معاملہ کیا، وہ بے حد شفیق اور مہربان صاحب قلم تھے ۔دارالعلوم دیوبند کے قدیم فاضل تھے ، انہو ںنے بڑوں کو دیکھا تھا اور ان کی کچھ ادائیں ان کے اندر موجود تھیں ۔ مولانا نے کہا کہ مرحوم نامور خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور جس سال وہ پنجاب تشریف لے گئے اسی سال شوال میں ان کا تقرر دارالعلوم دیوبند کے شعبہ عربی میں ہوگیا تھا ۔ وہ فی الوقت دارالعلوم وقف دیوبند کے دارالافتاء کے مفتی صدر بھی تھے اور وہ مشاورت کے بھی رکن تھے۔ دارالعلوم وقف کے کاموں میں دلچسپی لیتے تھے،ان کی تحریریں اور تقریریں اس کی بین دلیل ہیں۔اللہ تعالی نے مفتی صاحب کو بڑے کمالات سے نوازا تھا ان کی تحریریں ہمارے درمیان رہنمائی اوران کی شخصیت کی عکاسی کرتی رہیں گی۔ ان کا انتقال علمی دنیا کے لئے ایک بڑا خسارہ ہے۔ دوسری جانب جامعہ امام ولی اللہ اسلامیہ کی وسیع مسجد میں مفتی اعظم پنجاب مفتی فضیل الرحمن ھلال عثمانی کے انتقال پر تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں داعی اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی نے مفتی صاحب سے اپنے دیرینہ تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک علمی دینی ادبی تاریخی گھرانہ سے تعلق رکھتے تھے،انہوں نے اپنی علمی دینی خدمات کا مرکز سرزمین پنجاب کو بنایا اور تاریخی شہر مالئر کوٹلہ میں 40 سال تک خدمات انجام دیں۔وہ پنجاب کے مفتی اعظم کے عہدہ پر فائز رہے اور پھر دارالعلوم دیوبند وقف میں صدر مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ہماری ٹوٹی پھوٹی دعوتی کوششوں کو سراہتے اور ہمارا کوئی رفیق دعوت ان سے ملاقات کرکے کچھ کارگزاری پیش کرتا تو اس کی تحسین فرماتے تھے۔مہتمم جامعہ مولانا محمد طاہر ندوی نے مفتی صاحب کی وفات کو علمی دنیا میں ایک خلاء سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس دور انحطاط میں وہ اپنی امتیازی شان رکھتے تھے۔مولانا وصی سلیمان ندوی ایڈیٹر ماہنامہ ارمغان نے کہا کہ مفتی صاحب کی تحریریں جہاں اپنی علمیت میں ایک خاص پہچان رکھتی ہیں وہیں ان کا قلم تحریر میں ایسی ادبی چاشنی گھولتا ہے کہ قاری کے اندر ایسی کشش پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اس کو اخیر تک پڑھے بناء نہیں رہ سکتا۔مفتی محمد عاشق صدیقی ندوی نے کہا کہ فقہ و فتاوی میں وہ بلند مقام رکھتے تھے فقہی سیمیناروں میں مرتب کی گئی مفتی صاحب کی تحریریں ان کے تفقہ کی علامت سے جانی جاتی ہیں۔اسلامی قانون نکاح و طلاق وغیرہ کا دفعہ وار مرتب کیا ہوا ان کا مجموعہ ایک گرانقدر کارنامہ ہے جس سے فقہ حنفی کا ہر طالب علم علمی،فقہی رہنمائی حاصل کرتا ہے۔تعزیتی نشست میں اساتذہ و طلباء نے شرکت کی جس کے اخیر میں ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا اور داعی اسلام مولانا محمد کلیم صدیقی کی دعاء پر نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close