دیوبند

یوم جمہوریہ کے موقع پر ہونے والے بے معیادی دھرنے کو لے کر انتظامیہ ہوا سخت ! خواتین کے اہل خانہ کو قانونی کارروائی کا دکھایا خوف

دیوبند، 16؍ جنوری (رضوان سلمانی) سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف آئندہ 26؍ جنوری یوم جمہوریہ سے دیوبند کی خواتین کی جانب سے احتجاج کرنے اور تحریک چلانے کے اعلان کے بعد انتظامیہ نے خواتین کے اہل خانہ پر سختی کرنا شروع کردیا ہے ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق انتظا میہ نے احتجاج میں شریک ہونے کا اعلان کرنے والی خواتین کے اہل خانہ پر دبائو بنانا شروع کردیا ہے، افسران کا کہنا ہے کہ احتجاج اور تحریک چلانے کے ارادے کو وہ ترک کردیںورنہ ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ لیکن احتجاج کا اعلان کرنے والی خواتین نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ انتظامیہ کی کسی دھمکی سے خوف نہیں کھائیں گی اور احتجاج میں شریک ہوکر جیل جانا پسند کریں گی، مرکزی حکومت کی طرف سے نافذ کئے جانے والے سی اے اے پر اب این پی آر کرائے جانے کا اعلان اور این آر سی کو پورے ملک میں نافذ کئے جانے کی وزیر داخلہ کی جانب سے وارننگ دیئے جانے کے بعد تمام اہل وطن فکر مند ہیں، ہر خواص عام میں یہ فکر مندی ہے کہ مذکورہ قانون کے نفاذ پر ضروی دستاویزات کس طریقے سے مہیہ کئے جائیں، جب کہ اس بات کا مشاہد ہوچکا ہے کہ دیوبند نگر پالیکا میں تیس سالوں سے پہلے کے تمام ریکارڈ بوسیدہ اور پھٹے ہوئے ہیںان تمام پریشانیوں کے مد نظر جب مردوں نے سڑکوں پر آکر اس قانون کے نفاذ کے خلاف احتجاج کیا تا شہر کی خواتین بھی احتجاجاً سڑکوں پرنکل آئیں، گزشتہ روز دیوبند میں سی اے اے خلاف عید گاہ کے میدان میں خواتین کی جانب سے ایک بڑا اجتماع اور احتجاج کیا گیا اس کے بعد خواتین کی تنظیم نے یوم جمہوریہ کے موقع پر شاہین باغ کے طرز غیر معینہ احتجاج کرنے کی تحریک چلائے جانے کا اعلان کیا تو انتظامیہ حرکت میں آگئی۔ انتظامیہ کی جانب سے احتجاج کا اعلان کرنے والی خواتین کے اہل خانہ کو بلاکر احتجاج نہ کرنے کے لئے کہا گیا اور یہ بھی انتباہ دیا گیا کہ اگر سمجھانے کے باوجود احتجاج کیا گیا تو سخت قانونی کاروائی کی جائے گی، جمعرات کے روز پولیس اور خفیہ محکمہ کے افسران نے خواتین کے کے اہل خانہ کو ڈرانے اور دھمکانے کے لئے اپنے قریبی لوگوں کو ان کے گھروں پر بھیج کر وارننگ دی۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر غیر معینہ احتجاج کے اعلان کرنے والی خاتون آمنہ روشی اور فوزیہ پروین نے کہا کہ انتظامیہ کے ڈرانے اور دھمکانے ان کے حوصلے پست نہیں ہوں گے، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ تو محض ان کے اعلان سے ہی خوف زدہ ہوگئی ہے، اس لئے ان کے لئے جیل کے دروازے کھلے رکھے جائیں تب بھی حوصلے کم نہیں ہوں گے۔ آمنہ روشی اور فوزیہ پروین نے کہا کہ 26؍جنوری 1950؁ء کو مساوات کی بنیاد پر اس ملک کے آئین کو نافذکیا گیا تھا اور اب 70؍ سالوں کے بعد ہندوستان کے آئین کو بچانے کے لئے بھی انہوں نے غیر سیاسی طور پر مذکورہ کالے قانون کے خلاف قدم اٹھایا ہے، انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش یہ ہوگی کہ وہ غیر مسلم لوگوں میں جاکر خواتین کو اس قانون کی خامیاں بتائیں اور تحریک میں اپنے ساتھ شامل کریں، انہوں نے کہا کہ انگریزوں کو بھگانے کے لئے سب سے پہلے دیوبند کے علماء نے ہی آواز اٹھائی تھی اور یہیں سے ریشمی رومال تحریک کا آغاز ہواتھا ، جو ہندوستان سے انگریزوں کو بھگانے کا بڑا سبب بنی تھی، اسی طرز پر اب آئین کوبچانے کے لئے دیوبند کی خواتین سی اے اے اور این آر پی کی پرزور مخالفت کرکے مستقبل میں نافذ کئے جانے والی این آرسی کے خلاف آواز بلند کرکے مرکزی حکومت کو واضح پیغام دیں گی۔دیوبند کوتوالی انچارج یگیہ دت شرما نے بتایا کہ جو لوگ احتجاج کرنے کے لئے عوامی رابطہ کررہے ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ بہت جلد ان کے خلاف نوٹس بھیجے جانے کی کاروائی کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close