دیوبند

بی جے پی کو لگا بڑا جھٹکا، ضلع پنچایت چیئرپرسن تسنیم بانو نے اعتماد کا ووٹ کیا حاصل

دیوبند، 16؍ جنوری (رضوان سلمانی) اقتدار کے نشہ میں چور ضلع میں بی جے پی کے لیڈروں کو جمعرات کے روزاس وقت بڑا جھٹکا لگا جب ضلع پنچایت چیئر پرسن تسنیم بانو کو ہٹانے کے بی جے پی کے تمام منصوبے ناکام ہوگئے اور بی ایس پی کی ضلع پنچایت چیئر پرسن تسنیم بانو نے ایک مرتبہ پھر عدم اعتماد کاووٹ حاصل کرتے ہوئے اپنی کرسی بچالی ہے۔ گزشتہ کئی روز سے ضلع پنچایت چیئر پرسن کو عہدہ سے ہٹانے کے لئے بی جے پی زور آما کررہی تھی اور عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعہ بی ایس پی لیڈر ماجد علی کی اہلیہ تسنیم بانوکو کرسی سے ہٹانے کی تیاری میں لگی ہوئی تھی لیکن آج جب ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو 32؍ممبران کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی محض 22؍ ممبران ہی پیش کرسکی ہے ،جس سے بی جے پی اور سابق رکن اسمبلی و بی جے پی لیڈر رویندر مولہوسمیت تمام لیڈران کے خواب چور چور ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر ماجد علی اور راجو چودھری کے سامنے بی جے پی پوری طرح پست ہوگئی۔ جس کے بعد بی ایس پی کارکنان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کارکنان نے مٹھائیاں تقسیم کرکے و چیئرپرسن کی گلپوشی کرکے خوشی کا اظہار کیا۔ دعویٰ کیاجارہاہے تھا ماجد علی کو کرسی تک پہنچانے میں سابق رکن اسمبلی رویندر مولہوکا بڑا ہاتھ تھا لیکن اب رویندر مولہو بی ایس پی چھوڑ کر بی جے پی میں چلے گئے ،جس کے بعد سے ہی تسینم بانو کو ہٹانے کی تیاریوں میں بی جے پی اقتدار کو دھونس پٹی میں ہر قسم کا داؤپینچ چل رہی تھی لیکن آج عدم اعتماد کی تحریک میں بی جے پی کو ہی الٹا بڑا جھٹکالگاہے اور وہ محض 22؍ ممبران کی حمایت ہی حاصل کرسکی ہے، جس کے بعد بی جے پی کا ضلع پنچایت کی کرسی حاصل کرنے کا خوب چکناچور ہوگیا۔ بی ایس پی اپنی چیئرپرسن تسنیم بانوکی کرسی بچانے میںپوری طرح کامیاب رہی ہے، جس کے بعد بی ایس پی کارکنان نے مٹھائیاں تقسیم کرکے خوشی کااظہارکیاہے۔ واضح ہو کہ بہوجن سماج پارٹی کی ضلع پنچایت چیئرپرسن تسنیم بانو کے خلاف آج عدم اعتماد کی تجویز پیش کی گئی ۔ اے ڈی جے کی صدارت میں صبح 11بجے ضلع پنچایت احاطے میں عدم اعتماد کی تجویز کا کام شروع ہوا ۔ سہارنپور کی ضلع پنچایت میں 48ارکان تھے لیکن گزشتہ سال ایک رکن قیصر ندیم کی موت ہوچکی ہے اس طرح فی الحال ضلع پنچایت میں 47ارکان رہ گئے۔ ان میں 21خواتین اور 26مرد شامل ہیں، گزشتہ دنوں 32ضلع پنچایت ارکان نے ضلع مجسٹریٹ آلوک کمار پانڈے سے ملاقات کرکے ضلع پنچایت چیئرپرسن تسنیم بانو کے خلاف حلف نامہ پیش کرکے انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ ضلع مجسٹریٹ نے اصولوں کے مطابق عدم اعتماد لانے کے لئے 16جنوری یعنی آج کی تاریخ متعین کی تھی ۔ آج اے ڈی جے وکاس گویل کی صدارت میں عدم اعتماد کی تجویز پیش کی گئی جو موجودہ چیئرپرسن تسنیم بانو نے اس میں کامیابی حاصل کرلی اور بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیا ۔ اس سلسلے میں چیئرپرسن کے نمائندے ماجد علی نے بتایا کہ ان کے خلاف لائے گئے عدم اعتماد کو ارکان نے خارج کردیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابھی بھی جمہوریت زندہ ہے اور انہو ںنے سبھی ارکان کا شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close