اہم خبریں

جمعیۃ علماء ہند کا جشن صد سالہ جواں ہمت قائد جمعیۃ کی قیادت میں مانایا جائے گا

ملک کی آزادی کی نقیب، متحدہ قومیت کی علمبردار، اسلامی اقدار کی پاسدار، شریعت اسلامی کی امانت دار اور آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے تشخص اور وجود کی حامی جمعیتہ علماء ہند اپنے 100 سال مکمل کر چکی ہے _یہ کم اہم بات نہیں کہ اس کے جشن صد سالہ کا اہتمام ایک ایسے جوان صالح اور رہنما کے حصے میں آیا ہے جو شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور فدائے ملت مولانا اسعد مدنی سے نسبی تعلق تو رکھتا ہی ہے لیکن ساتھ میں نئے زمانے کے تقاضوں، نئے ہندوستان کے مزاج کے ساتھ اپنے شاندار اور مہتم بالشان ماضی سے بھی پوری طرح آگہی رکھتا ہے اور یہ کوئی اور نہیں کروڑوں دلوں کی دھڑکن بلکہ جمعیتہ علماء ہند کے ناظم عمومی قائد ملت مولانا محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم العالیہ ہیں جنہوں نے یہ طے کیا کہ ہم جمعیتہ علماء ہند کے جشن صد سالہ کا آغاز اپنے ان محسنوں کو یاد کر کے کریں گے جنہوں نے اپنی درویش مزاجی، قلندری صفات، ایثار پیشگی اور استغنا و توکل سے جمعیتہ علماء ہند کو ایک تاریخی عظمت کا حامل بنا دیا ان کی یاد میں ان کی خدمات کے اعتراف میں عظیم الشان علمی مذاکرے کا اہتمام کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی قابل قدر ہے اور اس کے لئے حضرت مولانا محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم العالیہ ہم سب کے شکرئیے کے مستحق ہیں _انکی اسی فکری سلسلے کے تحت میوات کی ایک اہم شخصیت حاجی حبیب رحمت اللہ علیہ سابق صدر جمعیتہ علماء حلقہ بھنگوہ میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا _واضح رہے کہ حاجی حبیب رح مولانا عبد الرحیم بڑیڑوی رح کے خلیفہ و مزاج تھے اور ١٩ سال کی طویل مدت تک آپ جمعیتہ علماء بھنگوہ کے صدر رہے، اس کے علاوہ آپ نے علاقے میں وسیع پیمانے پر دینی مکاتب کی تحریک بھی چلائی تھی _پروگرام دو نشستوں پر مشتمل تھا _پہلی نشست صبح ١١ /بجے سے ڈیڑھ بجے تک، جبکہ دوسری نشست دوپہر ٢/بجے سے شام چار بجے تک _دونوں نشستوں کی صدارت مولانا بشیر احمد امینی گھاسیڑہ خلیفہ و مزاج حضرت شاہ سعید احمد رائے پوری نے کی _پروگرام کا آغاز قاری عارف کی تلاوت کلام پاک سے ہوا _حافظ یامین خان نائب صدر جمعیتہ علماء بھنگوہ، میاں جی فیض محمد سیکریٹری، بھائی سلطان خازن، حضرت عباس، عبد الوحيد،ماسٹر لیاقت اور دیگر ذمہ داران جمعیتہ علماء بھنگوہ نے پروگرام کے جملہ لوازمات اور پر تکلف ضیافت کا انتظام کیا _اس موقع پر حاجی حبیب بھنگوہ رح کی حیات و خدمات پر مشتمل ایک مختصر سوانح عمری کا اجراء بھی عمل میں آیا، مولانا بشیر احمد گھاسیڑہ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ نئی نسل کو اپنے بزرگوں کی تاریخ و خدمات سے متعارف کرایا جائے، تاکہ ان میں ہمت و حوصلہ اور جرأت و حمیت دینی کا وصف پیدا ہو، انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے ملک کی تعمیر و سیاست اور آئین ہند کی تشکیل میں بڑا کردار ادا کیا ہے _آج ہمارے اندر سیاسی شعور کے فقدان کی وجہ سے، اقتصادی اور سیاسی حالات نہایت ہی تباہی کی طرف گامزن ہیں، اس لیے نوجوانوں میں سیاسی ودینی شعور بیدار کرنے کے لیے ایسے پروگرام وقت کا تقاضا ہیں اور ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ، دینی، ملی، سیاسی اور سماجی حقوق و تحفظ کے لیے دستور کے دائرے میں رہ کر ہر ممکن انصاف کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے _علاوہ ازیں مولانا زبیر امام و خطیب جامع مسجد باؤلہ، مفتی ارشاد استاد مدرسہ عبیدیہ ہتھین، مولانا صدام حسین دھوج، حضرت حافظ اسماعیل برآمدہ( راجستھان) خلیفہ و مزاج حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم العالیہ نے بھی اپنے خطاب میں حاجی حبیب رح اور دیگر بزرگانِ جمعیتہ علماء کی خدمات مفصل روشنی ڈالی _
پروگرام کا اختتام مولانا زبیر کی دعا پر ہوا _اس پروگرام میں قرب و جوار کے دیہی علاقوں سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی _اہم شرکا میں عبدالستار، شیر محمد، حافظ آصف بھنگوہ، مولانا عارف امام مسجد شاہ گل دہلی، ڈاکٹر ساجد تاؤڈو، بھائی اسلام الدین شکار پور، بھائی جرجیس فوجی، مولانا قاسم صاحب بڑیڑوی اور قاری عاصم رحیمی وغیرہ تھے _

Show More

Related Articles

2 Comments

جواب دیجئے

Close