تعلیم

یہ ’شمع‘ یوں ہی جلتی رہے…. تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا: حافظ فرحان اختر

بانکا بہار(فرحان اختر)‘قوموں کا عروج و زوال تعلیم سے ہی عبارت ہے۔ اگر کسی قوم اور معاشرہ میں علم اور تعلیم کی کمی ہے تو وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی ہے بلکہ اس کے سامنے اندھیرا ہی اندھرا ہوگا۔ ہم پوری دنیا پر سرسری نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوجائے گا کہ آج وہی قومیں دنیا پر حکومت کر رہی ہیں جو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں۔ چاہے وہ دنیاوی تعلیم و دینی تعلیم ہو۔ یہ الفاظ ہیں مدرسہ اصلاح المسلمین قصبہ، سمبھو گنج، بہار کے روح رواں حافظ فرحان اختر کے جنہوں نے ایک ایسے علاقے میں علم کی روشنی کو پھیلانے کا بیڑہ اٹھایا ہے جہاں دور دور تک نہ تو کوئی دینی ادارہ ہے اور نہ ہی کوئی قاعدے کا دنیاوی ادارہ۔جہاں لوگ بدعت و شرک میں مبتلا ہیں۔ نہ انہیں اسلام کی سمجھ ہے اور نہ ہی معاشرے میں اس کی اہمیت کا اندازہ ۔ مدرسہ اصلاح المسلمین کی بنیاد ابھی حال ہی رکھی گئی ہے لیکن حافظ فرحان اختر نے اس چھوٹے سے ننھے پودے کو اپنی محنت ، ایمانداری اور لگن سے ایک درخت بنادیا جو ثمر بار ثابت ہورہا ہے۔ اسی سلسلے میں مدرسہ کی جانب سے موسم سرما میں ایک پروگرام کا انعقاد کا کیا گیا جس میں علاقے کے معزز اور دانشور حضرات نے شرکت کی۔ بچوں میں تعلیمی بیداری دیکھ کر علاقے والوں میں تعلیم کے تئیں جذبہ دیکھنے کے لائق ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ حافظ جی نے یہ مدرسہ قائم کیا تھا تو ان کو مخالفت کا بھی سامنا کرنا لیکن انہوں نے کسی مخالفت کی پروا کیے بغیر اپنے کام میں لگے رہے آج ہمارے بچے خوبصورت آواز میں کلام پاک کی تلاوت کرتے ہیں تو دل باغ باغ ہوجاتا ہےأاجلاس میں چھوٹے چھوٹے بچوں نے نعت اور تلاوت قرآن سے لوگوں کے دلوں کو منور کیا ۔ اور ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ ہم تو جاہل ٹھہرے ، ہمیں تو قرآن اور دینی تعلیم کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ْلیکن حافظ فرحان اختر صاحب نے ہمارے بچوں میں دینی تعلیم جو شمع روشن کی ہے اللہ اس کو برقرار رکھے اور حافظ جی کو اس کا اجر عطا فرمائے۔ اجلاس میں موسم کو دیکھتے ہوئے مدرسہ کے سربراہ حافظ فرحان اختر نے غریبوں اور ناداروں کے بچوں کو کمبل تقسیم کیا تاکہ ان کو کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔ علاقے کے سیاسی  اور سماجی سرکردہ افراد نے اس کام کو بھی خوب سراہا۔ واضح ہو کہ یہ مدرسہ آل انڈیا ہیومن کیئر فائونڈیشن کے زیر اہتمام چلایا جاتا ہے۔ ہیومین کیئر فائونڈیشن کے جنرل سکریٹری ممتاز صاحب نے اپنے پیغام میں والدین اور سرپرستوں کو نصیحت دی کہ ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن بچوں کو پڑھائیں گے۔ کیونکہ قومیں تعلیم کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں ہیں۔
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close