تعلیم

لڑکیوں کے لیے اعلٰی تعلیم، گھریلو زندگی اور عصر حاضر میں مسلم لڑکیوں کے مسائل اور ان کا حل!سعدیہ سلیم شمسی

 

لڑکیوں کے لیے اعلٰی تعلیم، گھریلو زندگی اور عصر حاضر میں مسلم لڑکیوں کے مسائل اور ان کا حل
از قلم: سعدیہ سلیم شمسی آگرہ
ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد
تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ ہمارا ایک ایسا حق ہے جو کوئی اسے چھین نہیں سکتا علم ایک دولت ہے اور ایسی دولت جسے نہ کوئی چھین سکتا ہے، نہ چوری کرسکتا ہے لیکن یہ دولت انہیں کو ملتی ہے جو اساتذہ کا احترام کرتے ہیں اور علم کو مقدس جانتے ہیں ضروری نہیں کہ ہر طالب علم مستقبل میں استاد ہی بن جائے ہر ایک طالب علم امانت کا محافظ ہے اور یہ اس کا اسلامی اور اخلاقی فرض ہے کہ آئندہ نسلوں تک علم کو پہنچائے…
تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف اسکول، کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اس کے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ ایک پڑھا لکھا انسان اپنی معاشرتی روایات کا خیال رکھ سکے تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کے کردار کو سنوارتی ہے دنیا میں ہر چیز اگر دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر یہ تعلیم ایک ایسی انمول دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ مزید بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے ہی دیا گیا ہے حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، وکالت، انجینئرنگ، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم تو ضروری ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم بھی بہت ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی، محبت، عبادت، ایثار، خلوص، نیک و صالح معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے اور ایک ایسا استاد اس کے لیے بے حد ضروری ہے جس میں یہ تمام صفات پائیں جائیں،، استاد وہ نہیں ہوتا جو محض چند کتابیں پڑھ کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجایے بلکہ استاد وہ ہے جو طلبہ و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور انہیں شعوری ادراک، فکر و نظر کی دولت سے اپنے شاگرد کو مالا مال کرتا ہے
اور جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں….
معاشرے کے افراد کی ترقی کے لئے تعلیم لازمی ہے اس طرح یہ تعلیم مرد عورت دونوں کے لئے لازم ہے تعلیم جس طرح ایک مرد کے ذہن کے دریچوں کو کھولتی ہے اسی طرح عورت کے لئے بھی ضروری ہے تاکہ وہ بھی شعور کی منزلیں طے کرسکے.. اسلام نے عورت کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا ہے اور اسلام خواتین کی دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیتا ہے جیسا کہ علم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن اس حق کے باوجود کئ جگہوں پر عورت کو اس حق سے محروم رکھا جاتا ہے کیونکہ ان لوگوں کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ اگر عورت پڑھ لکھ گئ تو ہم پر حکومت کرنے لگ جائے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے جہاں انسانی حقوق کے منافی نظام ہوں اس لیے اس میں تعلیم کا قصور نہیں اس فرسودہ نظام کا عمل دخل ہے جس نے صحیح، غلط کے فرق کو ختم کردیا… تعلیم تو ذہن کے بند دریچوں کو کھولتی ہے اور اسے روشنی عطا کرتی ہے تاکہ وہ درست راستے کا تعین کرسکے.. کوئ بھی معاشرہ تعلیم کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ترقی کی منزلوں کو چھو سکتا ہے… اکثر یہ سوال میرے سامنے آتا ہے لوگ کہتے ہیں لڑکیوں کو تعلیم کیوں دلوائیں؟ اور اس پر اتنا خرچہ کیوں کریں؟ جب اس نے آگے چل کر چولہا چوکی ہی کرنا ہے اور گھر سنبھالنا ہے میں یہ نہیں کہتی کہ عورت گھر نہ سنبھالے بلکہ میں تو یہ چاہتی ہوں کہ اسے تعلیم ملے تاکہ وہ گھر کے ساتھ ساتھ اپنی نسلوں کو بھی اچھے سے سنبھال سکے.. عورت کے دم سے یہ معاشرہ قائم ہے وہ اپنی گود میں نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے اور جب وہ خود ہی اس قابل نہیں ہوگی تو نسل کیا کرے گی اور کیسے ترقی کرے گی؟؟
تاریخ گواہ ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے اس کی ماں کی بے شمار تربیت ہوتی ہے سب سے بہترین درس گاہ ماں کی گود ہے عادل ماں کا بیٹا عادل ہی ہوتا ہے کیونکہ عدل اس کی گھٹی میں ملا ہوتا ہے اور اگر وہ بہک بھی جائے تو اس کی تربیت اس کی رہنمائی کرتی ہے اس طرح ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی پرورش بہت اچھے سے کرتی ہے…
ایک مرد کی تعلیم تو صرف ایک مرد کو ہی فائدہ دیتی ہے مگر ایک عورت کی تعلیم اس کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کو سنوارتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم بچیوں کی تعلیم کے لئے کوشاں رہیں اور تعلیم کو اہمیت دیں……
قرآن و حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ معاشرے کی تشکیل صرف مرد تک ہی محدود نہیں بلکہ عورت بھی اس کی برابر کی حقدار ہے عورت پر گھریلو ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے لیے امور خانہ داری کے علاوہ دنیا کے باقی کام ہیں.. بلکہ خانگی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد وہ اپنے ذوق اور رجحان کے لحاظ سے علمی، ادبی اور اصلاحی کاموں میں حصہ لے سکتی ہے "ایک مسلمان عورت ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر، وکیل، عالمہ، شاعرہ، ادیبہ وغیرہ سب کچھ ہوسکتی ہے کیونکہ وہ اس کا پیدائشی ورثہ ہے”  سورہ (علق) میں مرد اور عورت کی تفریق کیے بنا واضح کیا گیا ہے کہ اسلام کا تصورِ علم بڑا وسیع ہے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی طرف خصوصی توجہ فرمائ اور سورہ ( بقرہ) کی آیات کے متعلق فرمایا…
      ” تم خود بھی علم سیکھو اور اپنی خواتین کو بھی سکیھاؤ”
نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے ایک دن صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے مخصوص کیا تھا اس دن خواتین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف سوالات اور روز مرہ کے مسائل کا حل دریافت کرتیں.. عہد نبوی کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں بھی خواتین کی تعلیم و تربیت کی طرف بھر پور توجہ دی گئی…
حضرت عمر رضی اللہ بن خطاب نے اپنی مملکت کے تمام اطراف میں یہ فرمان جاری کردیا تھا…
        ” اپنی خواتین کو سورہ نور ضرور سیکھاؤ کہ اس میں خانگی و معاشرتی زندگی کے متعلق بہت سے مسائل اور احکام موجود ہیں”
اسلام میں خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ کے باوجود بھی ہندوستان میں مسلم خواتین تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے نظر آتی ہیں.. مجموعی طور پر مسلمان معاشی لحاظ سے کمزور ہیں اس کی وجہ سے بھی وہ اپنی بیٹیوں کو تو تعلیم سے دور رکھتے ہیں وہ بیٹوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور بیٹیوں کو گھریلو کام کاج میں لگائے رہتے ہیں والدین کے ذہن میں بیٹی کی شادی، جہیز اور دیگر مصارف کا تصور بھی گردش کرتا رہتا اس لیے وہ اس کی تعلیم پر خرچ کرنے سے بچتے ہیں اور انہیں بس ابتدائی تعلیم تک ہی محدود رکھتے ہیں….
دوسرے طبقے کا زعم یہ ہے کہ عورت کی حیثیت صرف یہ ہے کہ اسے گھر کی چہار دیواری میں اس طرح محصور کردیا جائے کہ ان کا تعلق خاندانی امور کے علاوہ کسی اور چیز سے نہ ہو حتی کہ انہیں علم سے آراستہ کرانا بھی مناسب نہیں سمجھتے ان کے خیال میں عورت کو یہ حق ہی حاصل نہیں کہ وہ پڑھے لکھے اور اپنے روشن مستقبل کی تعمیر کرے جب کہ قرآن و حدیث سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلام دونوں کی تعلیم پر زور دیتا ہے وہ نہ تو عورت کو بالکل بے محابا میدانِ عمل میں آنے کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی اسے قید کرتا ہے بلکہ ان کی صنفی نزاکت کا لحاظ رکھتے ہوئے قید و شرائط کے ساتھ انہیں وہ تمام علوم حاصل کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے۔
موجودہ دور میں خواتین کی تعلیم اور زیادہ لازمی ہوگئ ہے کیونکہ ہم جس معاشرے اور ماحول میں سانس لے رہے ہیں وہاں قدم قدم پر شعور، ادراک، احساس اور اچھی بری چیزوں میں امتیاز کرنے کا ہنر صحت مند زندگی گزارنے کے لیے لازمی ہوگیا ہے اور یہ تمام صفات حصول علم سے ہی حاصل ہوسکتی ہیں موجود دور کے والدین کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ لڑکوں کے شانہ بہ شانہ اپنی لڑکیوں کو بھی اعلی تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ مقصد حیات تک رسائی آسان ہوسکے۔
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close