تعلیم

نہیں ہوتی ہر ایک کو یہ دولت نصیب! ظفر امام

*نہیں ہوتی ہر ایک کو یہ دولت نصیب
                                          🖊 ظفر امام
——————————————————–
              حفظِ قرآنِ کریم کی دولت خدائے واحد کی طرف سے وہ لازوال اور بیش بہا عطیہ ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی ، بلکہ اس سعادت سے خدا تعالی اپنے کچھ مخصوص اور چنندہ بندوں ہی کو بہرہ ور فرماتے ہیں ، حفظِ قرآن کی دولت ، وہ دولت ہے جس پر امرائے سلطنت کے خزانے بھی رشک کرنے لگیں ، حفظِ قرآن کی سعادت ، وہ سعادت ہے جو صرف نصیب والوں کو ہی ملتی ہے ، اور حفظِ قرآن کی توفیق ، وہ توفیق ہے جو فقط خدائے بےہمتا کی الطافِ خسروانہ کی رہینِ منت ہے!
                           قرآنِ کریم کو نازل ہوئے صدیاں بیت گئیں ، لیکن! آج تک اس کے حروف ، حرکات اور سکنات دفتیوں اور حفاظ کے سینوں میں من و عن اسی طرح محفوظ ہیں ، جس طرح وہ صدیوں پہلے لوحِ محفوظ سے نبئ امی ﷺ کے سینۂ مبارک پر نازل ہوئے تھے ، اور تب سے لیکر آج تک ان کے محفوظ رکھنے کے اس زریں سلسلے کو نسلاً بعدَ نسلٍ حفاظِ کرام کی جماعت یکے بعد دیگرے منتقل کرتی چلی آرہی ہے؛
               اسی حسین سلسلے کی ایک کڑی اور خوبصورت موتیوں کی اسی لڑی میں پروئے گئے دو اور نئے موتی کا ہمارے عزیزانِ محترم ” حافظ رفیق عالم بن جناب فرائض الحق صاحب شیب گنج بالوباڑی ، پواخالی ، کشن گنج ، و حافظ محمد ریحان عالم بن جناب نجیب الرحمن صاحب کمہیاں ، پواخالی ، کشن گنج { متعلمان :- مدرسہ رشیدیہ لوہیا کاندر ، بہادرگنج ، کشن گنج ، متعلقہ :- صدیقِ محترم جناب محمد قاری آصف صاحب دامت برکاتہم العالیہ ، سکونت باغیچہ ، بہادرگنج ، کشن گنج } ” کی شکل میں اضافہ ہوا ، بارکہما اللہ فی علمہما و عملہما ؛
                         اس مبارک و مسعود موقعے پر ہم ان دونوں بچوں کو اعماقِ قلب سے مبارک باد دیتے ہیں ، اور ان کے مستقبل کے تئیں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ان بچوں کے مستقبل کو بہتر سے بہتر بنائے ، قرآن کی صداقت و سچائی کو ان کے قلوب کی گہرائیوں میں جاگزیں فرمائے ، کتاب اللہ کے ایک ایک حرف اور ایک ایک نقطے کے لئے ان کے سینوں کو تابوت بنائے اور مرتے دم تک قرآن کے اوامر و نواہی پر عمل کرنے کی انہیں توفیق بخشے ، اور مرنے کے بعد ان کو اپنے والدین ، خاندان اور اساتذۂ کرام کی نجات کا ذریعہ بنائے؛
                       ساتھ ہی ساتھ لائقِ صد آفرین اور قابلِ مبارک باد ہیں ان کے وہ والدین ، جنہوں نے اپنی تمام تر دنیوی منفعت اور آلائش و زیبائش کو تِج کر آخرت کی سعادت کو اولِ مقام پر رکھ کر اپنے بچوں کے حصولِ علمِ دین کی خاطر ان کے اوقات کو فارغ کیا ، اور ان کے تئیں اپنے تمام تکالیف و صعوبات جھیلنے پر کمر بستہ ہوئے ، بالخصوص ان کے وہ استاذِ محترم بھی قابلِ صد مبارک باد ہیں ، جنہوں نے نہایت صبر و ضبط ، ہمت و توانائی اور عزم و استقلال کا بےپناہ مظاہرہ کرتے ہوئے ان بچوں کو اس مقام پر فائز کرنے میں نہایت اعلٰی اور بیش قیمت رول ادا کیا ؛
                      واقعی ایک بچے کو بنانے اور بگاڑنے میں اس کے استاذ کا ایک اہم کردار ہوتا ہے ، بالخصوص حفظ کی پڑھائی میں تو استاذ کو بچوں کے پیچھے اپنا تن ، من اور راحت و آرام سب کچھ قربان کردینا پڑتا ہے ، کئی طرح کے الگ الگ ذہن دار بچوں سے بیک وقت واسطہ پڑتا ہے ، اور ہرایک کے ساتھ اس کے مناسبِ حال معاملہ بھی کرنا پڑتا ہے ، بارہا اپنی سر توڑ محنت کو استاذ بار آور نہ دیکھ کر بچے کی طرف سے مایوس ہوکر رنجیدگی کا لبادہ بھی اوڑھ لیتا ہے ، اور امیدوں کے تمام چراغ ان کی نگاہوں کے سامنے اسے گُل ہوتے نظر آنے لگتے ہیں، لیکن! ایک بار پھر عزم و استقلال کا یہ پہاڑ مایوسیوں کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں امیدوں کے دیے جلاتے ہوئے پوری قوتِ ارادی کے ساتھ دل میں یہ حوصلہ لیکر آگے بڑھتا ہے کہ آخر کار کبھی نہ کبھی اس کی محنت رنگ تو لائےگی ہی؛ ان دشوار گزار مراحل سے گزرنے کے بعد تب ایک بچہ خاک کے پردے سے نکل کر کندن کا لباس پہنتا ہے ؛
                  الغرض ان بچوں کے پیچھے اب تک جن جن اساتذہ کی بقدرِ انملہ بھی محنت صرف ہوئی ہے ، ان تمام کو ایک بار پھر مبارک باد دیتے ہوئے ہم رب کے حضور دعا گو ہیں کہ باری تعالی ان تمام کو اپنے شایانِ شان بہترین بدلہ عنایت کرے ، اور آخرت میں ان بچوں کے دستہائے بابرکت سے ان کے سروں پر عزت کا تاج رکھوائے …. آمین یا رب العالمین؛
{ نوٹ :- زیرِ نظر تصاویر میں ان بچوں کے ساتھ ان کے استاذِ محترم بھی دیکھے جاسکتے ہیں }
                         *ظفر امام ، کھجورباڑی*
                      *ٹیڑھا گاچھ ، کشن گنج*
                        *۹/ ربیع الاول ١۴۴١ھ*
                        *7/ نومبر 2019ء*
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close