تعلیم

عزیزِمن! خدا تجھے ہر موڑ پر کامیاب کرے!  ظفر امام

عزیزِمن! خدا تجھے ہر موڑ پر کامیاب کرے!  ظفر امام
                       قرآنِ حکیم خداوندِ قدوس کی ایک ایسی دستورِ حیات اور آئینہ نما کتاب ہے ، جس میں زندگی گزارنے کے رہنما اصول اور خالقِ دو جہاں کی ذات تک رسائی حاصل کرنے کے تمام لطیف قاعدوں کے ہر پہلو کو بڑی ہی خوش اسلوبی اور دلکش انداز کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور اس البیلی ، آفاقی اور بین العالمی کتاب کا ایک خاص وصف ، جو اس کتاب کو بشمول دیگر کتبِ سماویہ کے تمام کتابوں سے ممتاز کرتا ہے ، اس کا ذو معجزہ ہونا ہے ، اس کے حیرت انگیز اعجازی گوشوں کو اجاگر کرنے کے لئے کسی بھی انسان کا اس کے جمیع مالہ و ماعلیہ کے ساتھ اسے اپنے سینے میں مسخر کرلینا ، کافی ہے ، بالخصوص جب کوئی نوخیز اور کمسن بچہ اس کے تمام الفاظ و حروف کو مع حرکات و سکنات کے اپنے سینے میں اتارلیتا ہے تو اس کے ذومعجزہ ہونے میں کسی بھی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی ، کیونکہ دنیا کی کوئی بھی کتاب اس باب میں قرآنِ کریم کا ثانی نہیں ، کہ وہ انسان کے سینے میں ایک لمبے عرصے تک محفوظ رہے؛
                    زیرِ نظر تصویر منظورِ نظر ، محبوبِ چشم ، نورِ جگر عزیزم حافظ محمد عامر سلمہ ، بن جناب محمد مشفق عالم صاحب ، لوچا ، بہادرگنج ، کشن گنج { متعلم مدرسہ رشیدیہ لوہیا کاندر ، بہادر گنج ، کشن گنج ، متعلقہ :- صدیقِ محترم جناب حضرت قاری قربان صاحب مدظلہ العالی ، پھول گاچھی ، پواخالی ، کشن گنج ، ناظمِ تعلیمات مدرسہ ہذا } کی ہے ، جس نے نہایت کمسنی اور کم عمری میں حفظ قرآن کی دولتِ بےبہا سے مالا مال ہو کر نہ صرف ہزاروں مبارکبادیوں اور سینکڑوں آفرینوں کا خود کو مستحق ٹھرایا ہے ، بلکہ منکرینِ قرآن کے لئے ، قرآنِ کریم کے اعجاز ہونے پر ایک بین دلیل بھی پیش کیا ہے؛
               یہ بچہ جس کی عمر ابھی محلے کی گلی کوچے میں ریت کے گھروندوں سے کھیلنے کی ہے ، جس کے چہرے بشرے پر معصومیت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اٹکھیلیاں کر رہا ہے ، اس کا یہ رفیع الشان کارنامہ ان ہزار بچوں اور بڑوں کے لئے نمونۂ عمل ہے ، جو محلے کی سڑکوں ، بازاروں کے ہنگاموں ، اور موبائل کی تانوں کے سائے میں بےمقصد زندگی جی رہے ہیں ، یہ بچہ اپنے اس عمل سے بہ زبانِ حال چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا ہے کہ ” کام کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں بلکہ ہمت اور ارادے کی ضرورت ہے ، انسان اگر کرنا چاہے تو کیا نہیں کرسکتا "
        قرآنِ کریم کا حفظ ہونا اور اس کا سینے میں حبہ بھر کمی کے بغیر سینے میں اترجانا یہ پروردگارِ عالم کی طرف سے ایک خاص انعام ہے ، ایسا انعام ، جو کسی تاجور کے خزانے میں نہیں ہوتا ، ایسا انعام ، جو کسی جوہری کے صندوق میں نہیں ملتا ، ایسا انعام ، جس پر آسمان و زمین کی تمام ثروتیں رشک کرتی ہیں، اور ایسا انعام جو انعام یابندہ کے لئے باعثِ ناز و فخر ہے، یہ انعام صرف نصیب والوں کو ہی ملتا ہے ہر ایک کے مقدر میں یہ انعام لکھا نہیں ہوتا؛
           اس مقام پر آکر راقم کی نگاہوں میں بےاختیار ماضی { ۲۰۰٥ء } کی اس سہانی اور خنک شام کا سماں گھوم گیا جب راقم حفظِ قرآن کی خوشی میں آکر مٹھائیوں کا ایک معمولی سا ڈبہ اٹھائے، ایک استاذ محترم { جن کا نام غالبا ماسٹر اصغر صاحب تھا ، پواخالی ، کشن گنج کے رہنے والے تھے ، اور اس وقت میں مادرِ علمی مدرسہ سعیدیہ روح القرآن بشنپور بازار کا ایک ادنی سا طالبِ علم تھا } کے کمرے میں اس حال میں داخل ہوا کہ مارے فرحت کے میرے قدم بہکے بہکے پڑ رہے تھے ، دل خوشی کے ساتویں آسمان پر جھولا جھول رہا تھا ، سازِ ہستی کے سارے غمزدہ تار مسرت کے راگ چھیڑ رہے تھے ، جبینِ نیاز بارگاہِ رب العالمین میں سجدہ ریز تھی اور پلکوں کے عنوان پر تشکر کے آنسو جھلملا رہے تھے ، استاذِ محترم نے اپنی تمام تر الطافِ معلمانہ میرے چہرے پر مرکوز کرتے ہوئے اولا چند تحسینی اور حوصلہ افزا کلمات کہے اور اس کے بعد جو تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا ، وہ یقیناً آبِ تسنیم و کوثر سے رقم کئے جانے کے لائق ہے ، آپ نے کہا تھا کہ ” بیٹا! خدا تعالی نے تم کو حفظِ قرآن کی شکل میں جو نعمت دی ہے ، اس کے مقابلے میں دنیا کی تمام نعمتیں ہیچ ہیں” یقینا حضرت کی بات سو فیصد درست ہے ، کیونکہ ایک حافظِ قرآن ، ممکن ہے دنیوی مال و متاع کی افراط سے محروم ہو ، لیکن! اس کے سینے میں جو دولت موجود ہوتی ہے ، دنیا کی کوئی دولت اس کا بدل نہیں ہوسکتی؛
               نیز سرورِکائنات ، فخرِ موجودات ، شہ لولاک ، تاجدارِ بطحا محمد عربی ﷺ نے اپنے متعدد اقوال میں حافظِ قرآن کی اخروی لحاظ سے بہت سی فضیلتیں ارشاد فرمائی ہیں ، ایک حافظِ قرآن کے فائز المرام ہونے کے لئے یہی فضیلت کافی ہے کہ کل قیامت کے دن اس کے توسط سے اس کے خاندان کے دس واجب النار اشخاص کو اس کی سفارش سے خلدِ بریں میں داخل کیا جائےگا ، اور اس کے والدین کے سروں پر عزت و رفعت کا وہ تاج رکھا جائےگا جو سورج سے زیادہ چمک دار ہوگا ، اور خود حافظِ قرآن کا جو مرتبہ ہوگا اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے؛
      بہرحال خوشی اور انبساط کے اس مبارک و مسعود موقع پر ہم بےشمار مبارکبادیوں کی ڈالیاں عزیزم حافظ عامر سلمہ کی نذر کرتے ہیں ، اسے اپنی طرف سے آفرین نامے عنایت کرتے ہیں ، خوشی کے تمام مرحبے اور مسرت کے تمام نعرے اس کے نام کرتے ہیں؛
                       ساتھ ہی ساتھ ان کے وہ والدین بھی قابلِ صد مبارکباد ہیں جو دینی علم و دانش سے بےتوجہی برتے جانے کے اس زمانے میں بھی اپنے لختِ جگر کے لئے ، دنیوی مال و متاع اور سیم و زر کے خیال سے بےپروا ہو کر حصولِ علمِ دین کو منتخب فرمایا ، اور علومِ نبویہ سے اس کے سینے کو آراستہ کرنے کے لئے مدرسے کا راستہ دکھایا ، بالخصوص اس کے استاذِ محترم بھی لائقِ ہزار مبارکباد ہیں ، جنہوں نے انتہائی جاں فشانی ، عرق ریزی اور سرتوڑی کے بعد بچے کو اس مقام تک لا کھڑا کرنے میں ایک انتہائی اہم اور بیش قمیت کردار ادا کیا ، بلاشک ایک بچے کی اڑان و اٹھان میں اس کے استاذِ محترم کی گوناگوں محنتیں اور پیہم کوششیں کارفرما ہوتی ہیں ، جب جا کر اس بچے کے دل کی بنجر زمین علم و آگہی کی دلفریب کاشت سے لہلہا اٹھتی ہے ، عقل وخرد کی بند کلیاں مسکاتی ہیں ، مقفل دماغ و شعور کی گرہیں کھلتی ہیں اور اس کے جہل کدۂ وجود میں عرفان و فیضان کے چراغ جل اٹھتے ہیں ؛
                دعا ہیکہ اللہ رب العزت عزیز سلمہ کی زندگی میں برکتیں نازل کرے ، قرآن کے ایک ایک حرف کی روشنی سے اس کے دل کو مجلی کرے ، قرآن کے اوامر و نواہی کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق بخشے ، آگے کی پڑھائی کے لئے راہیں آسان کرے ، اسے اپنے والدین ، خاندان ، رشتے دار اور تمام اساتذہ کی مغفرت کا ذریعہ بنائے ، نیز اس کے اساتذہ اور والدین کو دونوں جہاں میں اپنے شایانِ شان بہترین بدلہ عنایت کرے …. آمین یا رب العالمین
                              *ظفر امام ، کھجورباڑی*
                            *ٹیڑھاگاچھ ، کشن گنج*
                           *۹/ ربیع الاول ١۴۴۰ھ*
                            *7/ نومبر 2019ء*
{ نوٹ :- زیرِ نظر تصاویر میں اس بچے کے ساتھ اس کے استاذِ محترم بھی دیکھے جاسکتے ہیں }
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close