بین الاقوامی

ترکی کے شہر قونیہ کی یونیورسٹی میں مولانا جلال الدین رومی پر بین الاقوامی سیمینار، تین کتابوں کا اجراء

قونیہ یونیورسیٹی (سید انور ظہیر رہبر، برلن جرمنی) ترکی کے شہر قونیہ کی سلجق یونیورسٹی میں بروز بدھ 20 نومبر 2019 کو مولانا جلال الدین رومی پر ایک بین القوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیمینار شعبہ مولانا جلال الدین رومی اور شعبہ اردو نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔ اس سیمینار میں ایک چار رکنی وفد کو دعوت دی گئی تھی۔ جناب فہیم اختر، افسانہ و کالم نگار، شاعر ( لندن ، برطانیہ)، پروفیسر ڈاکٹر محمد کاظم، دہلی یونیورسٹی (بھارت)، جناب امتیاز گورکھپوری، شاعر ، ایڈیٹر اردو آنگن ممبئی (بھارت) اور جناب سید انور ظہیر رہبر، افسانہ، کالم و سائینسی مضامین نگار، شاعر، اردو زبان کے استاد ( برلن، جرمنی) اس وفد میں شامل تھے۔
19 نومبر کو جب یہ وفد قونیہ پہنچا تو سلجق یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر جناب حقان قیومچی اور پروفیسر ڈاکٹر رجب درگن نے ائیرہورٹ پر تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور بعد اذاں یونیورسٹی کے کمپیس میں واقع مہمان خانے میں لے کر گئے۔
اگلے روز 20 نومبر کو صبح آٹھ بجے شعبہ اردو کے دونوں پروفیسروں نے اس وفد کے ساتھ کمپیس کے ایک خوبصورت ریستورانت میں پرتکلف ناشتہ کیا۔ اس کے بعد یہ وفد شعبہ مولانا جلال الدین رومی پہنچا تو وہاں شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر علی تمیز ال نے سبوں کو خوش آمدید کہا۔ ان کے ساتھ شعبہ رومی اور شعبہ اردو کے پروفیسرز موجود تھے۔ پروگرام کے شاندار آڈیٹوریم کے اسٹیج کونہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ ٹھیک دس بجے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسرحسین کارا ہال میں داخل ہوئے تو تمام حاضرین نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا پروگرام کا آغاز تین کتابوں کی اجراء سے کیا گیا۔

۔ فہیم اختر کے افسانے، ترتیب و تدوین: ڈاکٹر محمد کاظم
۔ لفظ بولیں گے میری تحریر کے ( انور ظہیر کے فن اور شخصیت پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ)، ترتیب و تدوین: امتیاز گورکھپوری
۔ سمندر ہے درمیاں، ولا جمال کے نظموں کا مجموعہ، ترتیب و تدوین: امتیاز گورکھپوری
نظامت کے فرائض ایک طالبہ نے انجام دئیے اور ترکی اور انگریزی زبان میں خوبصورت نظامت کی۔ پروگرام کا آغاز ترکی کے قومی ترانے سے کیا گیا۔ اس کے بعد مولانا جلال الدین رومی کی زندگی پر ایک فلم دکھائی گئی۔ فلم کے بعد شعبہ کے سربراہ جناب علی تمیز ال نے دور دراز سے آئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور جناب وائس چانسلر کی موجودگی کو پروگرام کی اہمیت اور کامیابی کی ضمانت قرار دیا۔ ان کی مختصر اور جامع تقریر کے بعد وائس چانسلر کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔ وائس چانسلر نے بھی تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ آج اتنے دور دراز سے آئے مہمان یہ ثابت کررہے ہیں کہ آج بھی مولانا جلال الدین دنیا کے دوسرے علاقے میں یاد کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 1964 میں ان کی دادی نے انھیں علامہ اقبال کا کلام بطور تحفہ دیا تھا جو آج بھی ان کے دفتر میں رکھا ہوا ہے۔ دونوں حضرات اپنی اپنی تقریر کے بعد پورے پروگرام میں تشریف فرما رہے جب کہ چاروں مہمان اور سیمینار کے ناظم کو اسٹیج پر بلا کر بہت تعظیم سے بٹھایا گیا۔ سیمینار کے اس حصے کی گفتگو کے لیے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشین کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر سحبان ہالس کو مدعو کیا گیا تھا انھوں نے ترکی اور انگریزی زبان میں بہت ہی اچھے انداز میں اس حصے کی نظامت کی۔ سب سے پہلے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد کاظم صاحب نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے مولانا رومی کی شاعری پر ہونے والے ترجمے پر اپنا مقالہ پڑھا، جسے حاضرین نے خوب پسند کیا۔ دوسرے نمبر پر سید انور ظہیر رہبر کو مدعو کیا گیا۔ انور ظہیر رہبر نے شروع میں ترکی زبان میں رومی انسٹیوٹ اور حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا کہ انھیں اس سیمینار میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تو حاضرین محفل نے بہت تالیاں بجائیں۔ ان کا مقالہ مولانا رومی کی تعلیم اور پیغامات پر مشتعمل تھا۔ انھوں نے اس مقالے میں رومی کے فارسی زبان میں وہ پیغامات بھی پڑھ کر سنائے جن کی ضرورت آج بھی اسی طرح ہے جس طرح 1270 میں تھی، جب جلال الدین رومی موجود تھے۔ تیسرے نمبر پر امتیاز گورکھپوری صاحب کو مائیک پر مدعو کیا گیا۔ انھوں نے رومی کی نظم اردو میں پیش کی تو شعبہ اردو کے طلباء￿ و طالبات نے خوب تالیاں بجائیں۔ آخر میں جناب فہیم اختر نے مولانا رومی کی شاعری پر اپنا پر مغز مقالہ پیش کیا۔ یاد رہے کہ تمام مقالے انگریزی زبان میں پڑھے گئے۔ اور پروگرام کے ناظم نے اس کا خلاصہ ترکی زبان میں بھی پیش کیا۔ پروگرام کے اختتام پر حاضرین کو سوالات پوچھنے کے لیے پندرہ منٹ کا وقت دیا گیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے بھی سوالات کیے اس کے علاوہ طالب علموں نے بھی کئی مضامین پرسوالات پوچھے جن کا انھیں تسلی بخش جواب دیا گیا۔ سوال جواب کے بعد مہمانوں کو اسناد و تحائف سے بھی نوازا گیا اور یہ شاندار اور یادگار پروگرام اپنے خوبصورت انجام کو پہنچا۔ اس موقع پر تصاویربھی بنائی گئی اور اس کے بعد وائس چانسلر نے شعبہ اردو کی طرف سے ظہرانے میں مہمانوں کے ساتھ شرکت کی۔ کھانے کا انتظام چانسلر کے خوبصورت سے میس میں کیا گیا تھا۔ کھانے کے بعد وائس چانسلر مہمانوں کو اپنے ساتھ اپنے چیمبر میں لے کر گئے اور اپنی دادی کا دیا بوہو ا علامہ اقبال کا قدیم کلام دکھایا۔ ساتھ ہی ترکی کافی سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ آخر میں وائس چانسلر نے بھی مہمانوں کو تحائف دیے اور اس دن کی تمام تر کارروائی کی تصاویر کی سی ڈی بھی مہمانوں کو دیں۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں مولانا جلال الدین رومی کے مزار پر حاضری کے لیے لے جایا گیا۔ مزار پر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن سب بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرریے تھے۔ کچھ لوگ فاتحہ پڑھتے نظر آئے تو کچھ عبادت میں مصروف اور کچھ قران پڑھنے میں۔ ایک
خاتون جو شاید رومی کی سچی عاشق لگ رہی تھیں گڑاگڑا کر دعا مانگ رہی تھیں اور زاروقطار رو بھی رہی تھیں۔عجیب سا منظر تھا۔ مولانا رومی کے علاوہ وہاں ان کے خاندان کے دوسرے افراد بھی یہاں مدفن ہیں۔
قونیہ کا شہر جہاں مولانا جلال الدین رومی کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے وہیں اس کی جامعہ بھی زا ئرین اور علم کی غرض سے آنے والوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس کی جامعہ سلجق شہر قونیہ کی سب سے بڑی اور ترکی کی دوسری بڑی یونیورسٹی میں شمار کی جاتی ہے۔ ترکی کا ساتواں بڑا شہر قونیہ، ترکی کے جنوب میں واقع ہے اور یہ صوبے کا دارالحکومت بھی ہے اس چھوٹے صاف ستھرے اور ترقی یافتہ شہر میں کل پانچ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ سلجق یونیورسٹی ایک بہت بڑے کیمپس کے اندر ہے جس میں اس کے تمام سائینس اور آرٹس کے شعبے موجود ہیں۔ ہر شعبے کی اپنی اپنی لائیبریری اور کینٹین ہے اس کے علاوہ کیمپیس میں ہی ایک بازار بھی ہے جس میں یونیورسٹی میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ طلباء و طالبات کے ہوسٹل بھی کیمپیس میں ہی ہیں اس لیے اس بازار میں کھانے پینے اور پہنے اوڑھنے کے سب سامان وافر مقدار میں دستیاب نظر آتے ہیں۔ شعبے کی کینٹین کے علاوہ کئی بڑے بڑے رستورانت بھی موجود ہیں۔ یوں یونیورسٹی کا یہ کمیپس ایک چھوٹا سا شہر ہے جو کہ قونیہ کے مرکز سے صرف نو کلو میٹر ہی دور ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close