بین الاقوامی

ایغور مسلمانوں پر جبر: امریکا کا چینی حکام کے ویزے روکنے کا اعلان !

ایغور مسلمانوں پر جبر: امریکا کا چینی حکام کے ویزے روکنے کا اعلان !
واشنگٹن ۔ 09 اکتوبر 2019
امریکا نے ایغور مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر بیجنگ کی 28 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا —فائل فوٹو: اے پی

چین پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد اب امریکا نے کہا ہے کہ جب تک چین نے ایغور اور دیگر مسلمانوں کے خلاف ’جابرانہ اقدامات‘ ختم نہ کیے اس وقت تک وہ چینی عہدیداروں کو ویزا دینا بند کردے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے حالیہ اقدام کسی بھی غیر ملکی طاقت کی جانب سے سنکیانگ کی صورتحال پر سب سے سخت موقف ہے جو امریکا اور چین کے مابین جاری چپقلش کے دوران سامنے آیا۔

Secretary Pompeo

✔@SecPompeo

· 20h

China has forcibly detained over one million Muslims in a brutal, systematic campaign to erase religion and culture in Xinjiang. China must end its draconian surveillance and repression, release all those arbitrarily detained, and cease its coercion of Chinese Muslims abroad.

Secretary Pompeo

✔@SecPompeo

Today, I am announcing visa restrictions on Chinese government and Communist Party officials believed to be responsible for, or complicit in, the detention or abuse of Uighurs, Kazakhs, or other Muslim minority groups in Xinjiang.

22.7K

10:35 PM – Oct 8, 2019

Twitter Ads info and privacy

12.3K people are talking about this

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’چین نے سنکیانگ سے مذہب اور ثقافت کو مٹانے کے لیے سفاکانہ اور منظم مہم کے تحت 10 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قید کر رکھا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چین کو اپنی سخت نگرانی اور جبر ختم کرکے زبردستی حراست میں لیے گئے تمام مسلمانوں کو رہا کرنا پڑے گا‘۔

اسی طرح کے ایک بیان میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ایغوروں، قازق اور سنکیانگ میں دیگر مسلمان نسلی گروہوں کی ’قید اور استحصال‘ میں ملوث سرکاری اور کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں پر ویزا پابندیاں عائد کردے گا۔

مذکورہ حکم کا اطلاق چینی حکام کے اہلِ خانہ پر بھی ہوگا جس میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو امریکا میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ وہ ان عہدیداروں کی خصوصی وضاحت نہیں کرسکتے جو امریکی خفیہ قوانین سے متاثر ہوں گے تاہم قانون سازوں نے خصوصی طور پر کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ شین کوانگو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب چین نے اس اقدام کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تردید کی اور امریکا پر ’مداخلت کرنے کے بہانے بنانے‘ کا الزام عائد کیا۔

واشنگٹن میں موجود چینی سفارت خانے کی جانب سے ٹوئٹر پر کہا گیا کہ سنکیانگ میں انتہا پسندی کے خاتمے اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا مقصد شدت پسندی کو پروان چڑھانے والی جڑ کو ختم کرنا ہے۔

ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ ’یہ اقدامات بین الاقوامی طریقوں سے مطابقت رکھتے ہیں اور انہیں سنکیانگ میں مختلف نسلی گروہوں کے ڈھائی کروڑ افراد کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ سنکیانگ میں قائم کیمپوں کے وسیع نیٹ ورک میں 10 لاکھ سے زائد ایغور اور دیگر مسلمانوں کو رکھا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق چین ایغوروں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات مثلاً رمضان میں روزے رکھنے، الکوحل اور سور کے گوشت سے پرہیز کرنے پر عملدرآمد سے روکتا ہے۔

اس سے قبل چین ایسے کیمپ کی موجودگی سے انکار کرتا تھا تاہم بعد میں انہیں انتہا پسندی اور تشدد ختم کرنے کے تربیتی مراکز قرار دیا تھا۔

اس سے قبل امریکا نے چین کے صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر بیجنگ کی 28 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔

امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں ویڈیو سروینلس کمپنی، ہیک ویژن سمیت آرٹیفشل انٹیلی جنس کمپنی میگوی ٹیکنالوجی اور سینس ٹائم شامل تھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیجئے

Close