کربلا میں یوم عاشورہ پر بھگدڑ

کربلا میں یوم عاشورہ پر بھگدڑ

۳۱؍ جاں بحق ، ۱۰۰؍سے زائد زخمی ، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ

بغداد۔ ۱۰؍ستمبر: عراق کے شہر کربلا میں یوم عاشور کے اجتماع میں بھگدڑ سے اطلاعات کے مطابق ۳۱؍ افراد جاں بحق جبکہ ۱۰۰سے زائد زخمی ہو گئے ہیںجن میں دس کی حالت انتہائی نازک ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراق کی وزارت صحت نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہلاکتیں کربلا میں یوم عاشور کے ماتمی جلوس میں بھگڈر مچنے کے باعث ہوئیں۔کربلا کے ایک حکومتی ترجمان توفیق الہبالی نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہزاروں زائرین عاشورہ کے جلوس میں شریک تھے۔ کربلا میں موجود ریسکیو، طبی عملے اور سکیورٹی کے ذرائع نے بتایا کہ زائرین کے ہجوم کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ترکی کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق ایک سکیورٹی ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کربلا میں عاشورہ کے لیے بنائی گئی ایک راہداری کے گرنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عراق کی وزارت صحت نے بتایا کہ یوم عاشور کے موقع پر کربلا میں قائم ایک مزار پر بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا۔وزارت کے ترجمان سیف البدر نے بھی کہا ہے کہ واقعے میں ہلاکتوں کے اضافے کا خدشہ ہے ۔دنیا بھر کی طرح عراق کے شہر کربلا، نجف اور بسرا میں بھی عزا داروں کی جانب سے ماتمی جلوس نکالے گئے اور مجالس کی گئیں۔واضح رہے کہ عاشورہ کے موقع پر یہ حالیہ تاریخ کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں، آج کے دن دنیا بھر کے زائرین کربلا آتے ہیں اور نواسہ رسول ﷺ حضرت حسینؓ کی شہادت کا دن عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔یاد رہے کہ نواسہ رسول ﷺ حضرت حسینؓ کو کربلا میں ان کے 71 اہل خانہ اور ساتھیوں کے ساتھ شہید کردیا گیا تھا۔خیال رہے کہ 2005 میں بغداد میں قائم امام خادم کے مزار پر خود کش بمبار کی موجودگی کی اطلاع کے بعد ہونے والی بھگدڑ میں 965 شیعہ ہلاک ہوگئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں