بہار و سیمانچل

بابری مسجد کومنہدم کرنےوالےمجرموں کوسزادلانے کولیکر 6/دسمبر کو سی پی آئی ایم ایل کا قومی سطح پر احتجاج

بابری مسجد کومنہدم کرنےوالے مجرموں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے:کنال

مظفرپور:04/دسمبر(پریس ریلیز )سی پی آئی ایم ایل بہار کے ریاستی سیکریٹری کنال نے مظفرپور سی پی آئی ایم ایل ضلعی کمیٹی کے مٹنگ کو خطاب کرتے ہوئےکہا کہ سپریم کورٹ نے 9نومبر کو بابری مسجد تنازع کے اپنے فیصلے میں واضح الفاظ میں کہا کہ 1949میں خفیہ طورپر مسجد میں مرتی رکھنا اور1992میں اس کا شہید کیا جانا ایک غیر قانونی فعل تھا۔اس لیے، اس جرم کے مرتکب افراد کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ کھلے شواہد کے باوجود ملزمان کے خلاف سست ٹرائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت انہیں مجر م ٹھہرانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اگر مقدمہ کی سماعت موجودہ رفتار سے جاری رہا تو بیش تر ملزم بغیر سزا پائے چلے جائیں گے، جو انصاف کا خون ہوگا۔کنال نےکہاکہ مسلم برادری اور دنیا کے تمام انصاف پسند عوام بابری مسجد ٹائٹل سوٹ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے سخت اضطراب کا شکار ہیں۔ ہماری پارٹی سی پی آئی ایم ایل یہ محسوس کرتی ہے کہ انصاف کے تقاضے کو پورا نہیں کیا گیا۔اس لیے ہماری پارٹی بابری مسجد کومہندم کرنےوالےتمام مجرموں کوفوری طورپر سزا دلانے کے مطالبہ کو لیکر بابری مسجد کے یوم شہادت پر 6/دسمبر 2019کو قومی سطح پر یوم احتجاج کےطورپر ،احتجاجی جلوس نکالا جائےگا کنال نے این آرسی ،اور شہری ترمیمی بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ پورے ملک میں NRC کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، جس میں سب کو کاغذات کے ذریعہ یہ ثابت کرنا ہوگا کہ 1951 میں ان کےآبا ؤ اجداد اس ملک کے رائے دہندگان تھے جب کہ حقیت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بی پی ایل کی فہرست ، ووٹر لسٹ ، کی فہسرت میں غریبوں کو شامل نہیں کیاجاتاہے ۔ وہ 1951 کے اپنے آباؤ اجداد کے کاغذات کہاں سے لائیں گے؟انہوں نے کہا کہ اگر وہ نہیں لاتے ہیں تو انھیں حراستی کیمپ میں ڈال دیا جائے گا۔ مودی شاہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو ملک سے بے دخل کردیا جائے گا ، لیکن اگر آپ ہندو ہیں یا غیر مسلم ، تو ہم آپ کو شہریت کے قانون میں ترمیم کرکے مہاجر مانیں گے۔ ملک کے شہریوں کو خطرہ ہے کہ وہ یا تو حراستی کیمپ میں مارے جائیں گے ، یا شہریوں کی بجائے مہاجر بنائے جائیں گے۔انہوں نےکہا کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پرکسی بھی طرح کی تفریق دستورہند کے منافی ہے۔ وزیر داخلہ کے بیان سے یہ صاف ظاہرہوتا ہےکے ڈیٹنشن کیمپوں میں صرف مسلمان بند کئے جائیں گے وزیر داخلہ کے بیان پر کنال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وزیر داخلہ کے بیان سے یہ پیغام جارہا ہے کہ وہ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بنارہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں باہمی منافرت، دوری اور مسلم اقلیت میں خوف کا ماحول قائم ہوگا گوپی ناتھن نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ این آرسی کے آر میں حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، این آر سی اپنے ہی شہریوں کو پریشان کرنے کا ایک سیاسی آلہ ہے انہوں نے این آر سی پر مسلم سماج کے بیچینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلم سماج این آر سی کی فہرست میں اپنا نام شامل کراونے کے لیے دستاویزات بنانے کی کوشش میں لگے ہوئی ہے کنال نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لئے لڑنا ہوگا شہریت ترمیمی بل کے خلاف آواز بلند کرنا اور جدوجہد کرنا وقت کی ضرورت ہے اس لیے ہماری پارٹی 10/دسمبر کو قومی سطح پر این آر سی،شہری ترمیمی بل اور مہنگی تعلیم کے خلاف احتجاج کرگی ،سی پی آئی ایم ایل کی خواتین ونگ کی قومی جنرل سکریٹری میناتیواری نے حیدرآباد میں خاتون ڈاکٹر پرینکا ریڈی، رانچی کی قبائلی طالبہ، اور بکسر کی بچی ک کی وحشیانہ عصمت دری کے بعد قتل اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کے موضوع پر میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حیدرآباد میں خاتون ڈاکٹر کی وحشیانہ عصمت دری کے بعد قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ قصور واروں کو شواہد کےبنیاد پر جلد از جلد سزا دی جائے۔ خواتین کے خلاف عصمت دری اور جرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور خواتین خود کو اب بھی محفوظ محسوس نہیں کر رہی ہیں۔این سی آر بی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر گھنٹے تقریبا چار خواتین کی عصمت دری ہوتی ہے اور ہر تین منٹ میں دو خواتین کے ساتھ بد سلوکی کی جاتی ہے۔ ہماری پارٹی چاہتی ہے کہ عصمت دری اور خواتین پر حملے کے مرتکب مجرموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور قانون کے تحت سخت سے سخت سزا دی جائے۔ عصمت دری کے معاملے میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے، اس وجہ سے عصمت دری کے واقعات پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے۔ مینا تیواری نے کہا کہ ملک میں خواتین کے تحفظ کیلئے کوئی انتظام نہیں ہے مٹنگ کی صدارت کرشن موہن نےکی اس موقع پر سورج کمار سنگھ، آفتاب عالم، اسلم رحمانی، فہد زماں، منوج یادو،دیپک کمار سنگھ، وکیش کمار سنگھ، راہل سنگھ، سترودھن سہنی، ساردھا دیوی،شرمیلا دیوی ،رام بلی ،سنجئے پرساد ،منوج یادو وغیرہ بھی شام ہوئے

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close