بہار و سیمانچل

مولانا آزاد فکر امارت شرعیہ کے علمبردار تھے : سہیل اختر قاسمی

مولانا آزاد فکر امارت شرعیہ کے علمبردار تھے : سہیل اختر قاسمی
پٹنہ ۔ 05؍نومبر 2019 (پریس ریلیز)
تحریک آزادی ہند کے سرخیل، بھارت رتن اورآزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے جہاں ایک طرف ملک کی آزادی ،اس کی تعمیر وترقی ،گنگاجمنی تہذیب کی بقاء اورتعلیم کی ترویج واشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا،جو تاریخ ہند کا ایک روشن باب ہے،وہیں دوسری طرف ان کی فکر تحریک امارت شرعیہ کی فکرسے ہم آہنگ تھی،وہ اس ہمہ گیر فکر کو پروان چڑھتے اورآگے بڑھتے دیکھا چاہتے تھے،ان کی دورس نگاہیں اس فکر کی ضرورت اورہندوستان میں اس کی اہمیت کو دیکھ رہی تھیں، حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادعلیہ الرحمہ کی تحریک پرمولانا آزادؒ نے قیام امارت شرعیہ کے اجلاس کی صدارت فرمائی،اوراس تحریک کو ہندوستان میں آگے بڑھایا،اسی مناسبت سے مفکراسلام امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے ۱۱؍نومبر ۲۰۱۹ء بروز سوموار بوقت ۱۰؍بجے دن مرکزی دفتر امارت شرعیہ پھلواری شریف کے کانفرنس ہال میں مولانا ابوالکلام آزاد حیات وخدمات اورکارنامے کے عنوان سے ایک اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ فرمایاہے،ان خیالات کا اظہار مولانا سہیل اختر قاسمی کنوینر اجلاس نے اپنے پریس ریلیز میںکیاہے،مولانا نے فرمایاکہ یہ اجلاس تاریخی اجلاس ثابت ہوگا،جس میں ممتازعلماء کرام اورماہرین تعلیم اپنے گرانقدرخیالات اورتاثرات کااظہار فرمائیں گے۔اس اجلاس کی تیاری زوروشور سے شروع کردی گئی ہے،امیدہے کہ یہ اجلاس ہرطرح سے کامیاب اوراپنی افادیت اورمعنویت کے حساب سے قوم وملت کے لئے مفید ثابت ہوگا۔تمام علماء اکرام،ائمہ مساجد،نقباء دانشوران،ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنا ن ونوجوانان اسلام سے گذارش ہے کہ اس اجلاس میں شریک ہوکر اس کو کامیاب بنائیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close