بہار و سیمانچل

زنا بالجبر اور قتل جیسے حساس معاملے کو لیکر نواده ضلع کے سرکردہ شخصیات سماجی و سیاسی اور ملی رہنماؤں کا اظہار افسوس۔۔۔۔

نوادہ (محمد سُلطان اختر ہندوستان اردو ٹائمز )
ملک بھرمیں زنا بالجبر اور قتل جیسے واقعات کو لیکر ملک کے سرکردہ شخصیات سماجی،سیاسی ملی رہنماؤں نے اظہار افسوس کیا ہے۔راجد اقلیتی سیل کمیٹی نواده ضلع محمد قمر الباری دھمولوی نے ملک میں تسلسل کے ساتھ ہو رہے زنا بالجبر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت رہتے ہوئے ایسے گھنونے واردات پر حکومت قد غن  نہیں لگاتا ہے تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائیگا اس لئے اِنصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ ایسے ملزموں کو فوراً تخت دار تک پہنچایا جائے۔ اگر ایسا ہونے تاخیر ہوتا ہے تو یقیناً لوگوں کا قانون اور حکومت سے اعتماد ٹوٹ جائے گا انہوں نے مزید کہا ہے کہ ویسے تو عورتوں کے تحفظ کے نام پر خواتین کمیٹی کمیشن سے لیکر کئی کمیٹی کی تشکیل ہو چکی ہے،یہ تمام کمیشن عورتوں کے تحفظ کے تعلق سے لائحہ عمل تیّار کرنے کے بجائے صرف اور صرف عہدے کا مزہ لوٹ رہی ہے۔ بہار ویلفیئر سوسائٹی کے چیئر مین طیّب اصغر جمشید پور حال مقیم سیوے جموئی نے کہا ہے کہ ملک میں ایسے گھنونے کرتوت کرنے والوں کو عدالت میں محض ایک ماہ کے اندر پھانسی دینے کا قانون بنایا جائے،اور اس طرح کے حئیوانیت کرنے والوں کو كيفر کردار تک پہنچایا جائے،قصور واروں کو سزا دینا حکومت کا کام ہے حکومت اس معاملے میں بالکل فیل نظر آرہی ہے اگر حکومت اور اُسکی پولیس چاه لے تو واردات نہیں ہوسکتے ہیں مجرموں کو حکومت سزا دینے کے بجائے اُسے بچانے میں لگ جاتی ہے۔
مولانا آزاد ویلفیئر آرگنائزیشن سوسائٹی کے چیئر مین مولانا آزاد قاسمی پکری برانوان نے کہا کہ ایسے درندوں کو پھانسی سے کم کیا سزا میلیگی قانون اپنا کام کرتی نہیں اگر واقعی قانون اپنا کام کرے تو اس طرح کا واقعه نہ ہو مولانا آزاد قاسمی نے مزید شریعت اسلامی کے قانون پھانسی کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ پھانسی کی سزا ملے تو ایسے واقعات نہ ہوں
مولانا نوشاد زبیر ملک الکتاب فاؤنڈیشن کے چیئر مین نے کہا کہ ایسے واقعات سے پاک ہونے کے لئے اسلامی قانون میں پھانسی اور سنگ سار جیسے قانون ہی ملک میں امن و امان لا سکتا ہے ۔اِنصاف نہیں  ملنے پر ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے اس طرح کے واقعات سے ہمارے ملک پر بدنما داغ لگ رہا ہے ۔اِنصاف نہیں ملنے پر مزید کہا کہ حکومت کے لیڈران اس معاملے میں ملوث نظر آتے ہیں حکومت اپنے لیڈر کو بچانا چاہتے ہیں تو اِنصاف کیسے ملے حکومت اگر اپنے لوگوں کے معاملے میں اِنصاف کرتی تو شاید پھر ایسا معاملہ سننے اور دیکھنے کو نہیں ملتا،حکومت اس معاملے میں جلد از جلد ٹھوس قانون سازی کرے۔
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close