بہار و سیمانچل

 مذہبی شناخت کی بنیاد پرکسی بھی طرح کی تفریق دستورہند کے منافی اورمسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے :گوپی ناتھن 

مذہبی شناخت کی بنیاد پرکسی بھی طرح کی تفریق دستورہند کے منافی اورمسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے :گوپی ناتھن
مظفرپور، 13/نومبر (پریس ریلیز ) آل انڈیا پیپلوس فرنٹ (اے آئی پی ایف)کے زیر اہتمام واقع کرن میرج ہال دیوان روڈ مظفرپور میں این آر سی اور شہری ترمیمی بل کے عنوان پر ایک عوامی مذاکرہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سی پی آئی ایم ایل مظفرپور ضلعی کمیٹی کے رکن پروفیسر اروند کمار ڈے نے کی جبکہ نظامت کے فرائض انصاف منچ بہار کے ریاستی صدر سورج کمار سنگھ نے انجام دیا پروگرام کی قیادت مسلمس یونائیٹڈ فرنٹ بہار کے ریاستی صدر جاوید قیصر نےکی پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر شامل مرکزی حکومت کے ذریعے جموں و کشمیر کا خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے اور ریاست کو دو یونین ٹریٹری میں باٹنے کے بعد لگی پابندیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے استعفی دینےوالے  آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن نےاپنے کلیدی خطاب میں این آر سی اور شہری ترمیمی بل کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ملک کے وزیر داخلہ  امیت شاہ پورے ملک میں NRC کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، جس میں سب کو کاغذات کے ذریعہ یہ ثابت کرنا ہوگا کہ 1951 میں  ان کےآبا ؤ اجداد اس ملک کے رائے دہندگان تھے جب کہ حقیت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں  بی پی ایل کی فہرست ، ووٹر لسٹ ، کی فہسرت میں  غریبوں کو شامل نہیں کیاجاتاہے ۔ وہ 1951 کے اپنے آباؤ اجداد کے کاغذات کہاں سے لائیں گے؟انہوں نے کہا کہ  اگر وہ نہیں لاتے ہیں تو انھیں حراستی کیمپ میں ڈال دیا جائے گا۔ مودی  شاہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو ملک سے بے دخل کردیا جائے گا ، لیکن اگر آپ ہندو ہیں یا غیر مسلم ، تو ہم آپ کو  شہریت کے قانون میں ترمیم کرکے مہاجر مانیں گے۔  ملک کے شہریوں کو خطرہ ہے کہ وہ یا تو حراستی کیمپ میں مارے جائیں گے ، یا شہریوں کی بجائے مہاجر بنائے جائیں گے۔ انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کے این آرسی سے متعلق دیئے گئے بیان کو دستورہند میں دیئےگئے مساوات کے بنیادی حق کےمنافی قراردیتے ہوئےکہا کہ ملک کےوزیرداخلہ کی طرف سےاس طرح کا بیان نا مناسب ہے۔ انہوں نےکہا کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پرکسی بھی طرح کی تفریق دستورہند کے منافی اورمسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر داخلہ کے بیان سے یہ صاف ظاہرہوتا ہےکے ڈیٹنشن کیمپوں میں صرف مسلمان بند کئے جائیں گے وزیر داخلہ کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گوپی ناتھن نے کہاکہ  وزیر داخلہ کے بیان سے یہ پیغام جارہا ہے کہ وہ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بنارہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں باہمی منافرت، دوری اور مسلم اقلیت میں خوف کا ماحول قائم ہوگا  گوپی ناتھن نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ این آرسی کے آر میں حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے این آر سی  اپنے ہی شہریوں کو پریشان کرنے کا ایک سیاسی آلہ ہے ملک میں این آرسی نافذ ہوتا ہے تو ملک بیس تیس سالوں تک اسی میں الجھا رہے گا اور نہ جانے کتنی اموات ہوں گی انہوں نے کہا کہ این آر سی، مسئلہ کشمیر ،ماب لنچنگ اور دیگر مسائل پر  کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ملک مخالف قرار دینے کی کوشش ہورہی ہے  جبکہ حکومت سے سوال کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے انہوں نے کہا کہ شہری ترمیمی بل کی اعلانیہ مخالفت کرنے کی ضرورت ہے آج ملک میں ایسے حالات بنائے جا رہے ہیں کہ کوئی ملک کا کوئی شہری حکومت سھ سوال نہ کر سکے انہوں نے این آر سی پر مسلم سماج کے بیچینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  آج مسلم سماج این آر سی میں کی فہرست میں اپنا نام شامل کراونے کے لیے  دستاویزات بنانے کی کوشش میں لگے ہوئی ہے مسلمانوں  میں خوف کا ماحول بنا ہوا ہے آخر حکومت کو اسی ملک کے لوگوں نے بنایا ہے مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لئے لڑنا ہوگا شہریت ترمیمی بل کے خلاف آواز بلند کرنا اور جدوجہد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے انہوں نے مسلم نوجوانوں  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی  قیادت کو برا بھلا کہنے  سے اچھا ہے کہ آپ خود قائد بنیں اورملک ہر زندہ ضمیر شہری  حکومت کو اپنا لاڈلا نہ بنائیں بلکہ ان سے سوال کریں  اگر آپ سوال نہیں کریں گے یہ ملک تباہ ہوجائے گا آپ این آر سی کے خلاف ،شہری ترمیم بل کےخلاف منظم طورہر تحریک کا آغاز کریں ملک کے انصاف پسند لوگ آپ کے شانہ بشانہ ہوں گے سےوہیں انہوں نے مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر سے  دفعہ 370 /اور 35 اے منسوخ ہونے کے بعد میں نے یہ محسوس کیا کہ ہمارا ملک ٹوٹ گیا ہے لیکن میں حکومت کے اس غیر آئینی فیصلہ  سے زیادہ عوام کی خاموشی سے  پریشان ہو کر اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ  شاہ فیصل جو ملک کے آئین پر اعتماد کرتا تھا اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ان کی گرفتاری کے خلاف عوام توا افسران بھی خاموش ہیں آگے انہوں نے کہا کہ  ملک میں تمام شہریوں کا ایک ہی جانب سوچنا ملک کے لیے خطرناک ہے، ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ سرکاری محکمہ کے کے دائرے میں رہ کر بھی عوامی خدمات کے جذبے کے ساتھ مثالی خدمات انجام دے سکتے ہیں صرف آپ کے اندر عزم اور حوصلہ ہونا چاہیے  انہوں نے کہا کہ آج  لوگ  ڈیٹینشن کی تعمیر پر اس لئے خاموش ہیں کہ جب گیس چیمبر کی تعمیر ہوگی تب اس کی مخالفت کی جائےگی انہوں نے کہا کہ  آج دستاویزات بنانے سے زیادہ این آر سی اور شہری ترمیمی بل  منصوبے کی مخالفت کرنا اور اس کے خلاف تحریک چلانے کی از حد ضروت  ہے، انہوں نے کہا کہ  ملک میں کتنی بھی مضبوط اور اکثریت والی حکومت آجائے لیکن اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کو بھی  مذہب کی نام پر شہریت دے انہوں سوالیہ انداز میں کہاکہ  اگر کشمیر سے دفعہ 370 /اور35 اے اس لیے ہٹایا گیا تھا کہ وہاں سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جائے گا تو پھر آج دہشت گردی کے واقعات وہاں پیش کیوں آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ 2019میں یہ  کیسی جمہوریت بنادی گئی ہے کہ  یہاں حکومت سے سوال کرنے والوں کو ملک مخالف قرار دے دیا جا رہا ہے جبکہ  سوال کرنے سے ملک مضبوط ہوتا ہے نہ کہ ملک کمزور ہوتا ہے خاموشی جمہوریت کے لیے خطرناک ہے انہوں ایک  مثال دیتے ہوئے کہاکہ   بھگوان رام سے ای غسال( دھوبی) نے سوال کیا تھا لیکن رام جی نے  دھوبی کاماب لنچنگ نہیں کروادیاتھا گوپی ناتھن نے اپے خطاب کے اختتام پرکہاکہ ملک  کی ترقی اور خوش حالی کے لیے ہم سبھوں آگے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے اس موقع پر سی پی آئی ایم ایل مظفرپور کے ضلعی سیکریٹری کرشن موہن، انصاف منچ بہار کے ریاستی نائب صدر آفتاب عالم، ظفر اعظم، فہد زماں، ڈاکٹر ابوذر کمال الدین، صحافی آفاق اعظم،مولانا شاہ علوی القادری، انصاف منچ بہار کے ریاستی ترجمان اسلم رحمانی، جتیندر یادو،کامریڈ راجارام پٹنہ، ڈاکٹر اعجاز اشرف(اورائی) اعجاز احمد، مطلوب الرحمن، منوج یادو،سترودھن سہنی خصوصی طور پر موجود تھے وہیں پروگرام کا اختتام معروف سماجی رہنما شاہد کمال کے شکریہ پر اختتام پذیر ہوا
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close