بہار و سیمانچل

بابری مسجد کا فیصلہ اور ہندوستانی مسلمان ! مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورؔالقادری

بابری مسجد کا فیصلہ اور ہندوستانی مسلمان : مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورؔالقادری
نوادہ 11 نومبر ( پریس ریلیز)  تنظیم علمائے حق ضلع نوادہ کے صدر مولانا محمدجہانگیرعالم مہجورالقادری نے بابری مسجد کے فیصلے پر اپنا ردعمل کا اظہارِ کرتے ہوئے فرمایا کہ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے بابری مسجد کے تعلق سے جو فیصلہ سنایا وہ گلے سے نیچے نہیں اتر رہا ہے جب فیصلہ میں کہا گیا کہ 1949 میں مسجد کے اندر جو مورتیاں رکھی گئیں وہ قانوناً جرم تھا اور 1992 میں کار سیوکوں کے ذریعہ  جوبابری مسجد  شہید کی گئی وہ بھی سراسر زیادتی اور غیر قانونی تھا، سوال یہ اٹھتا ہے کہ مذکورہ کام بقول سپریم کورٹ کے قانوناً جرم تھا تو ان مجرموں کو اب تک سزا کیوں نہیں ملی؟ دوسری بات کہ اگر 1949 میں بابری مسجد میں مورتیاں رکھنا جرم تھا تو اس سے پتہ چلا کہ سپریم کورٹ نے اسے مسجد ہی مانا جب 1949 میں اس بابری مسجد میں مورتیاں رکھنا غیر قانونی تھا تو اسی بابری مسجد میں سپریم کورٹ نے مورتیاں رکھنے کی اجازت کیوں دی؟ دوسرا سوال کہ اگر کارسیوکوں کے ذریعہ 1992 میں بابری مسجد کا ڈھانچہ گرانا یا شہید کرنا جرم تھا تو اگر ابھی بابری مسجد موجود ہوتی تو سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے کیا بابری مسجد کو گرانے یا شہید کرنے کا جواز نہیں ملتا؟ جب سپریم کورٹ نے 1949 اور 1992 میں اسے مسجد ہی تسلیم کیا تو ابھی کیوں نہیں؟ اور اگر وہ مسجد غیر قانونی تھی تو اسے شہید کرنا یا اس کے اندر مورتیاں رکھناجرم کیسے؟ آج نہیں تو آنے والے کل میں انشاءاللہ سارے پردے اس سے اٹھیں گے اور جونما گندم فروش کو بھی قوم اچھی طرح پہچان لے گی سب سے بڑی عدالت احکم الحاکمین کی ہے اس عدالت سے کوئی بچ کے نہیں نکل سکتا ہم تو شرمندہ ضرور ہیں کہ جس پیغمبر انقلاب، نبئ رحمت نے آج سے چودہ سو سال پہلے اسی ماہ مقدس میں تشریف لاکر وہ خانہء کعبہ جہاں تین سو ساٹھ بتوں کی پرستش کی جارہی تھی اسے آپ نے پاک فرماکر اسی بیت اللہ میں ایک خدا کی پرستش اور بندگی کا اعلان فرمایا مگر افسوس صد افسوس آج اسی آمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کا مہینہ ربیع الاول میں عین ولادتِ رسول کی تاریخ 12 ربیع النور سے ٹھیک ایک دن پہلے 11 ربیع الاول کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ایسا فیصلہ سنایا کہ جس سے بابری مسجد ہمارے ہاتھوں سے چلی گئی اور اب اس بابری مسجد میں بتوں کی ہی پوجا کی جائے گی، اے بابری مسجد! افسوس ہے ہم ہندوستانی مسلمان تجھے نہیں حاصل کرسکے تو مجھ سے اب دور بہت دور جارہی ہو شاید تو اب ہمیں کبھی نہیں مل سکوگی، سلام صد بار تجھے سلام! ہوسکے تو ہم ہندوستانی مسلمانوں کو معاف کردینا  اب آگے کیا لکھوں کلیجہ منھ کو آنے لگا جملے ساتھ نہیں دے پارہے ہیں اے بابری مسجد! تجھے ہندوستان کے سارے مسلمانوں نے قریب سے نہیں دیکھا پھر بھی تجھ سے ایک جذباتی اور قلبی لگاؤ تھا اب میں تجھے کہاں تلاش کروں گا اب کسے بابری مسجد کہہ کے پکاروں گا الوداع الوداع! الوداع اے میری جان میری شان بابری مسجد _
ازقلم : مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورؔالقادری ،صدر تنظیم عُلمائےحق ضلع نوادہ
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close