بہار و سیمانچل

نوادہ کے پکری براوان اور دھمول میں جلوس محمدی بڑی تعداد میں نکلی اور امت محمدی نے فلیگ مارچ بھی کیا

نواده شہر میں جلوس محمدی پروگرام منسوخ ہوا اور وہیں نوادہ کے پکری براوان اور دھمول میں جلوس محمدی بڑی تعداد میں نکلی اور امت محمدی نے فلیگ مارچ بھی کیا
نواده ( محمد سُلطان اختر ہندوستان اردو ٹائمز )
نواده ضلع کے تحت پکری براوان اور دھمول میں جلوس محمدی نکالا وہیں نوادھ شہری علاقوں میں حالات کے پیش نظر جلوس محمدی کے پروگرام کو منسوخ کرنا پڑا،کل بابری مسجد کے فیصلے سے نواده کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پورے عالم کے مسلمان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا تھا اس لئے اس پروگرام کو ملتوی کردیا گیا لیکن پکری براواں اور دھمول میں جلوس محمدی نکالا گیا اور آپسی پیغام دیا کہ بھائی چارے کا پیغام دینے والے ہمارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سالگرہ کے موقع پر جلوس نکالا گیا۔پکری برانواں کے جلوس محمدی نے باہمی اخوت اور امن کا پیغام دینے والے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی ​​ولادت ہر سال 12 ربیع الاول کو منائی جاتی ہے۔  اتوار کے روز پکری براوان بلاک کے سماجی خدمت گزار و ملّت کے رہنماء اور نواده ضلع  کے جے ڈی (یو) اقلیتی سیل کے سدرو جنرل سکریٹری ، قمر الباری دھمولوی کی سربراہی میں عید میلاالنبی کا جلوس نکالا گیا ،  پکری برانواں میں جلوس محمدی کے سربراہ ماسٹر جمیل صاحب و مولانا مشرف قادری نے نکالا جلوس رائس موڑ سے ہوتے ہوئے جامع مسجد تک گئی   یہ جلوس حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم صاحب کی یوم پیدائش کی یاد میں نکالا گیا ہے ۔وہ 571 ء میں پیدا ہوئے تھے  اور انہوں نے معاشرے کے لوگوں کو اچھا کام اور تربیت دی تھی لہذا ، اس کی یاد میں ان کی دی گئی تعلیمات کو پڑھا جاتا ہے اور اسے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن اسلام کا سب سے مقدس کتاب قرآن کریم بھی پڑھا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ انکی سنت کو معلوم کر کے عمل درآمد کرنے کا حکم دیتا ہے جلوس نکلنے سے زیادہ بہتر اُنکی تعلیمات پر عمل کیا جاتا،  کہا جاتا ہے کہ انکی سنت پر عمل کرنے سے اللہ قریب ہوتا ہے اور سو شہیدو کے برابر ثواب ملتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے لوگ آپس میں خوشی مناتے ہیں اور خود کو اللہ کی محبت میں محسوس کرتے ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرمہ میں معبوث ہوئے   تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ شراب پیتے تھے آپس میں مار کاٹ کر تے تھے شرکیہ  تہوار مناتے تھے اور لوگوں کا مذاق اڑاتے تھے ، ان کے اس عمل کو دیکھ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمزدہ  ہوتےتھے۔اس کے بعد انہوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ اللہ نے آپ کو دو دن تیوہار کا بنایا ہے ۔  ایک عید الفطر (یعنی میٹھی عید) اور دوسرا عید الاضحی یعنی بقر عید کا دن ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھر ادھر تبلیغ کرتے ہوئے لوگوں کو باہمی بھائی چارہ اور امن کا ایک عمدہ پیغام پیش کیا۔ اس پروگرام کے روحِ رواں  مولانا مشرف ، ماسٹر جمیل،جاوید  حسین ایس بی آئی، مطلبی اقبال ،اِدھر دھمول  میں جلوس محمدی کے روحِ رواں قمر الباری صاحب،سیف اللہ،دانش،اور بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے.
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close