بہار کا ضلع ارریہ : ہندوستان کی سب سے دھندلی تصویر۔ عارف حسین طیبی

بہار کا ضلع ارریہ : ہندوستان کی سب سے  دھندلی تصویر۔ عارف حسین طیبی  

بہار  کا ضلع  ارریہ ہندوستان کے ان اضلاع میں سے ایک ہے  جو پسماندگی اور پچھڑے پن کی ایک واضح تصویر کی شکل میں اسوقت لوکل میڈیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے جہاں صرف عوامی مسائل کے انبار نظر آتے ہیں  بے روزگار نوجوانوں  کی دکھ بھری داستاں  تعلیمی انسٹیوٹ کے گرتے معیار  محکمہ صحت کی مریضوں کے ساتھ بار بار لا پروائی رشوت خوری اور بد عنوانی جیسے ان گنت اسباب وجوہات جو موجودہ سرکاری سسٹم کو  بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے

بہار کا ضلع ارریہ : ہندوستان کی سب سے دھندلی تصویر۔ عارف حسین طیبی

سب کا ساتھ سب کا وکاس شاید یہاں سے روٹھ کر کہیں دور جا بسا ہے سیاسی نمائندے بے چارہ اتنے بے چارے ہیں کہ وہ  اپنے ہی سیاسی مسائل کے حل  میں ایسے مصروف عمل نظر آتے ہیں کہ انہیں عوام کی خبر گیری کے لئے وقت ہی نہیں بچتا ہاں یہ بات ضرور ہے ابھی کچھ دنوں سے الیکشن کی باز گشت سنتے ہی انکے بھی کان کھڑے ہوگئے ہیں اب وہ ہر حال میں ہمارا مسیحا بنبے کو تیار ہیں اب ان سے بڑا قوم کا غمخوار اور ہمدرد کوئی نہیں     خستہ حالی اور بد حالی کی جس حساس دور سے اس وقت ارریہ اور وہاں کے عوام گزر رہے ہیں آخر کار  اس طرح کے حالات کے ذمہ دار کون ہے اسے بہت باریکی سے سمجھنے کی ضرورت ہے قبل اسکے کہ ارریہ کی حالت زار پر روشنی ڈالی جائےایک رپورٹ پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں :::  ایک سروے کے مطابق  ارریہ ہندوستان کا سب سے غربت زدہ ضلعوں کی لسٹ میں اول نمبر پر ہے جو سب سے زیادہ پسماندگی اور زبوں حالی  کا شکار ہے اس ضلع کی آبادی 2011 کے مردم شماری کے مطابق 2811569 ہے  آبادی کے لحاظ سے یہاں سہولتیں نا کے برابر ہیں خستہ حال سڑکیں بدحال سرکاری تعلیمی ادارے یہاں کی پہچان میں شامل ہے اس ضلع کی اکثریت یعنی۹۳فیصد  آبادی دیہی علاقوں  میں زندگی گزارتی ہے غریبی اور بدحالی ایسی کہ ۹۵ فیصد لوگ مٹی کے بنے گھروں میں اپنی زندگی گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں آزادی کے سات دہائی بعد بھی  اس ضلع کا اتنا مفلوک الحال نظر آنا سیاسی آقاؤں کی عدم توجہی کی منہ بولتی تصویر ہے ڈیجیٹل انڈیا کے دور میں گاؤں اور دیہاتوں سے ضلع ہیڈ کواٹر آنے کے لئے  اگر راستے میں ندی پڑجائے تو  بانس سے بنے چچری پل اور کشتی واحد سہارا ہے  جو اپنے آپ میں ایسی تصویر ہے جو انسانی تخیلات کے ہر  زاویے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کافی ہے ارریہ کی غربت کی ایک تصویر وہ بھی تھی جسکو ارریہ ضلع میں  ہی پیدا ہونے والے مشہور ہندی ساہیتہ کار و ناولسٹ فنیشور ناتھ رینو  نے اپنی لکھی بالی ووڈ کی مشہور ہندی فلم تیسری قسم میں دکھانے کی کوشش کی تھی  بالی ووڈ  کی یہ مشہور فلم 1966 میں ریلیز ہوکر منظر عام پر آئی تھی  اس فلم میں ارریہ کے کئی مقامات کی عکاسی بھی  کی گئی ہے خاص  طور پر ارریہ کی کئی  مشہور ثقافت اور تہذیب کو فلم میں جگہ دی گئی ہے جسمیں  بیل گاڑی اور اس پر رکھی بانس کی بنی خوبصورت ٹپر گاڑی بان کا مقامی حلیہ اور اسکی انداز گفتگو حتی کہ ارریہ اور آس پاس میں بولی جانے والی لوکل زبان کی بھی بہت ہی بہتر انداز میں منظر کشی گئی  ہے اور اسوقت کی غربت زدگی  اور بدحالی کو بھی کیمرے نے بڑے شاندار طریقے سے قید کیا ہے فنشور ناتھ رینو جی جو ہندی ناول نگاری میں ایک ایسی شخصیت مالک  تھے  جس سے زمانہ در زمانہ لوگ جڑتے چلے گئے اور سماج کے ہر طبقے میں یکساں مقبول تھے انہیں لگتا تھا کہ اس وقت کے موجودہ سرکار اور سسٹم کو آئینہ دکھایا جائے انہوں نے ہندی فلمی اسکرپٹ کے ذریعہ سماجی صورت حال اور  اقتصادی بدحالی کو منظر عام پر  لانے کی ایک بہترین کوشش کی تھی   ملک  آزاد ہوئے 72 سال ہوچکے ہیں  ہم سب کو ایسا کیوں لگتا ہیکہ آج بھی غربت کی وہ تصویر نہیں بدلی جسکو رینو جی نے  اپنی ہندی اسکرپٹ کے سیمیں پردے پر  لاکر اسوقت کے اصحاب اقتدار   کو آئینہ دکھانے کا کام کیا تھا آج بھی ضلع ارریہ  کی تصویر  ہندوستان کے نقشے میں سب سے دھندلی نظر آتی ہے ہاں ایک تبدیلی یہ آئی کہ گزرتے وقت کے ساتھ بیل گاڑی جیسی شاہی سواری ہم لوگوں سے چھن گئی اور اسکی جگہ تین چکے والی آٹو رکشہ نے لے لی ہے  جو نئی ہونے کے باوجود ارریہ اور اسکے دیہی علاقوں کے بدحال سڑکوں پر اتنی گھستی اور ہچکولے کھاتی  ہیکہ وہ چند مہینوں میں خستہ حال ہوجاتی ہے اور اسمیں بیٹھے پیسینجر کی ایسی درگت ہوتی ہے کہ دوبارا اس پر سواری کرنے سے پہلے صدقہ کرنا بہتر سمجھتے ہیں نہیں تو کیا پتہ یہ آخری سفر ثابت ہو  ارریہ کے گرامین علاقوں  میں روڈ تو بنی لیکن دوبارہ اسکی اصلاح نہیں ہوسکی اس بیچ جھوٹے سیاسی وعدے کرکے کئی ارباب اقتدار اپنی کرسی بچانے دوبارہ  کامیاب ہوگئے لیکن بے چارے عوام اپنی بد نصیبی کا رونا روتے رہے اسوقت ارریہ کا کلیہا سماج جو سب سے زیادہ اقتصادی ترقی اور تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے اس سماج کا اعلی اور مستحکم سیاسی بیگ راؤنڈ ہونے کے باجود بھی اس سماج کے لوگ  کسمپر سی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں    ایک تازہ تریں نیوز رپورٹ کے مطابق کلہیا برادری کی تعداد سیمانچل میں  پچاس لاکھ سے بھی زیادہ  ہے یہ برادری آبادی کے لحاظ سے سیمانچل کی سب سے بڑی آبادی ہے لیکن اسکی ترقیاتی شرح ایک رپورٹ کے مطابق دلت اور پچھڑا سماج سے بھی بدتر ہے اور یہ چونکا دینے والی رپورٹ کلہیا سماج کو حواس باختہ کرنے لئے کافی ہے اور  ایک واضح اشارہ بھی کہ   آخر یہ سماج آزادی کے 72 سال بعد بھی اپنی بنیادی سہولتوں سے محروم کیوں ہے بچوں میں تعلیمی شرح سب سے کم ہے  سرکاری یوجنا رائٹ ٹو ایجوکیشن کلہیا سماج کے بچوں کو نہ مل پانا ناخواندگی کی ایک اہم وجہ ہے ایسا بھی نہیں کہ اس برادری کا کوئی سیاسی نمائندہ  نہیں ہے بلکہ پنچائت ممبر سے لیکر ایم پی ایم ایل اے  تک موجودہ وقت میں کلہیا برادری کے نمائندوں کا قبضہ ہے  سچ بات یہ کہ  جتنے بھی سیاسی نمائندے ارریہ سے منتخب ہوئے کسی نے بھی کوئی ایسی تعلیمی مراکز کا قیام نہیں کیا جس سے کلہیا سماج کے بچوں کا تعلیمی مستقبل سنوارا جاسکے ہر ایک نے صرف اس سماج کو جھوٹ اور فریب کا آئینہ دکھایا ہے  سرکاری سطح پر اس ضلع میں تعلیم پر زور نا کے برابر ہے سرکاری اسکولوں کی حالت اتنی خراب  ہیکہ جسے بیان نہیں کیا جاسکتا شوشل میڈیا کے ذریعہ روز ارریہ کے الگ الگ گاؤں سے  سرکاری اسکولوں کی جو تصویر نکل کر آرہی ہے اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں بچوں کو کس کوالیٹی کی تعلیم فراہم کی جارہی ہے  اسکول کی بلڈنگ اور در و دیوار نئی ہونے کے باوجود عدم توجہی کی وجہ سے  اتنی خستہ اور  پرانی لگتی ہے جیسے برسوں وہاں کسی کا گزر نہ ہوا ہو جنگل وبیابان میں قائم یہ سرکاری اسکول بنیادی سہولتوں سےکوسوں دور ہیں  دس اسکول ٹیچر کی تقرری ہے لیکن اسکے جگہ صرف ایک یا دو اسکول ٹیچر کی حاضری مفلوک الحال اور بے یارو مدد گار زمینی فرش  بیٹھے بچے مڈے میل کے نام پر بچوں کے پلیٹ میں بس تھوڑی سی کھیچڑی غریب بے حال اور ناتواں والدین کے بچوں کے ساتھ ایسا بھدا  مذاق ہے جو کسی بھی آنکھوں کو اشک بار کرنے لئے کافی ہے    سب پڑھیں ، سب بڑھیں جیسی سرکاری نعروں کی یہ وہ پول کھولتی تصویر ہے جس سے اصحاب اقتدار کی خامیاں اور ہماری سیاسی رہنماؤں کی نا کامیایاں پوری طرح عوام کے سامنے واضح ہو چکی ہے جو تھوڑی بہت تعلیمی رمق نظر آتی ہے وہ پرائیویٹ اسٹرکچر پر ٹکی ہوئی ہے ارریہ میں پرائیویٹ اسکولوں کاایک جال سا بچھا ہے جو شہر سے لیکر گاؤں تک بہت ہی  منظم طریقے سے کارپوریٹ کا روپ اختیار کرچکا ہے چوک چوراہے اور گاؤں کے تنگ گلیوں میں لگی پرائیویٹ اسکولوں اور  کوچنگ سینٹروں  کے بڑے بڑے ہورڈنگ اور بینرز دہلی کے مکھرجی نگر کی یاد دلاتا ہے  ارریہ شہر اور اسکے اطراف و اکناف ہیں قائم شدہ انگلش میڈم کے یہ اسکول  اعلی اقسام کے وہ تجارتی اڈے ہیں جہاں صرف چکا چوند ہے نظروں کو خیرہ کردینے والی ایک تصوراتی دنیا ہے جہاں ہم صرف خواب دیکھ سکتے ہیں لیکن اسکی تعبیر کی امید رکھنا کوئی دانشمندی نہیں ہوسکتی کیوں کہ یہ  ادارے  اپنی اصلیت اور معنویت سے بالکل خالی ہیں  اور ان اداروں کی تعلیمی فیس اتنی مہنگی ہے کہ غریب کسانوں  کے بچے ان اداروں میں تعلیم کی حصول کی جرآت  ہی نہیں کر سکتا اب آپ خود فیصلہ کیجئے جو کسان سب سے زیادہ ووٹ دیکر اپنے نمائندوں کو کامیاب کرتا ہے آج انکے بچے غربت کی وجہ سے ان پرائویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی سرکاری اسکولوں میں کیوں کہ وہاں تعلیم پانا تو دور بچوں کو بیٹھنے تک  کا صحیح انتظام نہیں ہے  اور  نہ ہی سیاسی نمائندے سرکاری اسکولوں کی تعلیمی اصلاح اور اسکی بہتریں نظم و نسق کے لئے کوئی اقدام کرنے کی کوشش کرتے ہیں آخر یہ غریب کسان کے بچے جائے تو کہاں جائے  آج کل ضلع میں مشاعروں کا ایک دور آ نکلا ہے الگ الگ سیاسی جماعتوں کے بینر تلے مشاعرے کا انعقاد کیا جا رہا ہے  جسمیں قوم کے لاکھوں روپے رات بھر بکواس کرنے والے شاعروں کو نذرانہ کے طور پر دے دی جاتی ہے مگر کسی سیاسی جماعتوں کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ کوئی تعلیمی سیمینار یا تعلیمی مقابلوں کو انعقاد کریں جس سے ضلعی سطح پر بچوں میں مخفی صلاحیتوں کو  اجاگر کیا جا سکے تاکہ یہ بچے ملکی سطح پر  ضلعے کا نام روشن کرسکیں   اسلئے خاص کر کلہیا سماج کے بچوں کو  اعلی تعلیم سے کس طرح آراستہ کیا جا ئے اس سلسلے میں  سماج کے ارباب حل وعقد اور تعلیمی میدان کے ارباب نقد و نظر کو بہت زیادہ غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے جتنا جلدی ہوسکے ہمیں ملکر ایک سماج بیدار  مہم چلانا ہوگا تاکہ عوام الناس کو  بیدار کیا جا سکے اور  آنے والے وقت میں بہتر تیاری کے ساتھ ارباب حکومت تک اپنی آواز کو پہونچانے میں کامیاب ہو سکیں تاکہ اس سماج کو وہ انصاف مل سکے جسکے وہ حقدار ہیں اگر ارریہ ضلع میں پرائمری ہیلتھ سینٹر کی بات کریں تو بہت ہی افسوس ناک پہلو نکل کر سامنے آتا ہے اتنی بڑی آبادی ہونے کے باوجود پورے ضلع میں صرف دس پرائمری ہیلتھ سینٹر کے ساتھ ایک صدر اسپتال ہے مذکورہ  ہیلتھ سینٹروں میں بھی ڈاکٹروں کی حاضری نا کے برابر ہے  الیکشن میں کئے گئے بہتر ہیلتھ اور آچھی صحت کی پر فریب وعدوں کی ایک ایسی تصویر ہے جو ہر وعدہ یہاں کے عوام کو ٹھینگا دکھانے کا کام کرتی ہے اور ایک ایسا بھدا مذاق ہے جسکی کوئی اور مثال نہیں دی جاسکتی  ذرا سوچئے جس ضلع کی آبادی اٹھائیس لاکھ سے بھی زیادہ ہوں وہاں دس ہیلتھ سینٹر پبلک کے صحت کے ساتھ کھلواڑ نہیں تو کیا ہے اسکے علاوہ الگ الگ پنچایتوں میں پرائمری ہیلتھ سینٹر تو بنائے گیے لیکن اسمیں کبھی ڈاکٹروں کی رسائی نہیں ہوئی اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ یہ  پرائیمری ہیلتھ سینٹر جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے مقامی لوگ جلاون  اور بھوسی رکھنے کا کام کر رہے ہیں حکومت خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے لوگوں کے لئے پنچایتی سطح پر ہیلتھ سینٹر کی تعمیر کی تاکہ لوگوں کو علاج کی سہولت مل سکے لیکن محکمہ کی لاپرواہی اور سیاسی  نمائندوں کی تساہلی کی وجہ  سے گرامین علاقوں میں رہنے والے افراد اس سے مستفید نہیں ہوسکے کیونکہ ابھی تک وہاں نہ کوئی ڈاکٹر پہونچا اور نہ  ہی دوائیاں اور  آج ان ہیلتھ سینٹروں میں مویشی اور جلاون رکھنے کا کام لیا جارہا ہے اتنا ہی نہیں آج بڑی تعداد میں ہیلتھ سینٹر کھنڈر میں تبدیل ہو تے جارہے ہیں اسکی ترویج و تنسیق کے لئے کوئی آگے آنے کو تیار نہیں ہے   اسلئےآج  ضرورت ہے عوام الناس میں  سیاسی بیداری پیدا کرنے کی آج ضروری ہو گیا ہیکہ ہم اپنے سیاسی رہنماؤں سے سوال کریں اور ان سے پوچھیں کہ  کہا ں ہے اچھی سڑکیں بہتریں اسکول اور اسپتال جس بات کا ہم سے ووٹ لیتے وقت وعدہ کیا گیا تھا ہم سیاسی رہنماؤں کے اندھے بھکت اور مرید بننے کے بجائے الگ الگ مدعوں پر ان سے سوال کریں  ورنہ وہ دن دور نہیں اسی اندھ بھکتی کیوجہ سے  ہم غلام بنا لئے جائنگے      آج گرامین علاقوں میں رہنے والے لوگ جس دکھ اور درد سے گزر رہے ہیں وہ بھی اپنے آپ میں کافی شرمناک ہے روز مرہ کے سامانون کی خرید و بکری کے لئے اگر انکو شہر جانا پڑے تو  انکے پاس  ندی اور نالوں  کی عبور کے لئے واحد  ذریعہ بانس  سے بنے  چچری کا پل اور طوفانی منجدھار میں پچکولے کھاتے کشتیاں واحد سہارا ہے  اگر انکے آمدو رفت کے لئے ندیوں میں  پل کی تعمیر کردیے جائیں تو مجھے لگتا ہے کہ سرکار ہزاروں زندگیوں میں خوشیوں  کےرنگ بھرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ان پلوں  کے ذریعے  لاکھوں مریضوں کی جان بچائی جاسکتی ہے  جو صرف اسلئے موت کی منہ میں  چلے جاتے ہیں کہ راستہ نہ ہونے کی وجہ سے  وقت رہتے انہیں میڈیکل ہیلپ نہیں مل پاتی ہے کاش ہمارے سیاسی رہنما ہمارا درد اور ہماری تکلیف سمجھ پاتے کاش  ارریہ کے بچوں کی اعلی تعلیم کے لئے کوئی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لاتے کم از کم یہاں کے تشنگان علوم کو دیگر شہروں میں در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑتی کاش موجودہ سسٹم ارریہ   کے کسانوں کو ہر سال آنے والی سیلاب کی تباہی سےبچانے  کے لئے  ندیوں میں باندھ کی تعمیر کرتے جسکے سیلابی  پانی سے ہر سال کروڑوں اربوں کی فصل کھیتوں میں برباد ہوجانے کی وجہ سے یہاں کے کسان قرض کے بوجھ تلے دب کر خود کشی کرنے جیسے اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں موجودہ وقت میں  بہار کا ضلع ارریہ سیاسی وعدوں کی منجدھار میں پھسی اس کشتی کی طرح ہے جو طوفانی موجوں سے مقابلہ کرنے میں ہوری ناکام ثابت ہوچکا ہے اور اسے ایک ایسی آہنی شخصیت اور قوت بازو رکھنے والے ناخدا کی تلاش ہے جو موج تلاطم  سے صحیح سالم ساحل تک پہونچانے کی پوری ضمانت لے
راقم الحروف کا تعلق  بھی  ضلع ارریہ کے ایک ایسے  ہی بدحال  پنچایت سے ہے جو اپنی آبادی اور جغروفیاتی نقشے  کے اعتبار سے کافی بڑا ہے لیکن افسوس کہ بنیادی سہولتوں سے پوری طرح تہی دامنی کا شکار ہے تقریبا 5000  ہزار آبادی والی یہ پنچائت میں صرف ایک میڈل اسکول  ایجوکشنل سسٹم  کے ہر دعوے کو بے نقاب کرتا ہے   آخر اس طرح  کے بد تر حالات کب تک سدھار میں آئینگے  مجھے لگتا ہے اب تبدیلی کی ضرورت ہے ضلع کے نوجوان طبقہ اب ذلت بھری زندگی سے اوبھ چکا ہے اب وہ ہر حال میں موجودہ سسٹم کو بدلنا چاہتے ہیں اور کچھ نیا دیکھنا چاہتے ہیں کچھ خواب ہیں انکی آنکھوں میں اسکو پورا کرنا چاہتے ہیں   آنے والی  نسلوں  کو ترقی کے سوغات دینا چاہتے ہیں اور عروج و بلندی کی ہر اس ہدف کو چھونا چاہتے ہیں جسکی جمہوریت میں انہیں بھی حقوق حاصل ہیں۔    

2 تبصرے “بہار کا ضلع ارریہ : ہندوستان کی سب سے دھندلی تصویر۔ عارف حسین طیبی

  1. ماشاءاللہ آپ نے یہاں کے نیتا ؤں کی رازہائے بستہ کو کھول کر رکھ دیا ہے یہاں کے لوگ تعلیمی اعتبارب بہت پیچھے ہیں اور روزگار کے اعتبار سے بھی اور یہاں کےنوجوان ہرروز ذریعۂ معاش کے تلاش میں دوسرے شہر ہزاروں کی تعداد میں سفر کرتے ہیں لیکن ہماری سرکار اور ایم پی اور ایم اے لے، ابھی سور رہے ہیں انکو اپنی قوم کی اور اپنی جنتا کی کوئی فکر نہیں اگر انکو فکر ہے تو حب جاہ حب مال، کی اگر ہم ایم پی بن گئے ہمارا بھائی اور بیٹا ایے ایم لیے، کیسے بنے، یاد رہےیہ جنتا کسی پارٹی کو کرسی پر بٹھانا جانتی ہے تو دھکا دیکر بھگانا بھی جانتی ہے کسان ہرسال سیلاب کی وجہ تباہ ہو برباد ہے کسی کو اس کی فکر نہیں گاؤں اسپتال نہیں کہیں اسپتال ہے تو ڈاکٹر نہیں پینے کا صاف پانی مہیا نہیں، آجکل تو رشوت خوروں کا حوصلہ بلند ہے کیونکہ اعلیٰ ادھیکاری سے ادنیٰ ادھیکاری اس کام ملوث ہے کون کس کہے کون خلاف زبان کھولے،

اپنا تبصرہ بھیجیں