بہار و سیمانچل

این پی آر، این آر سی کی پہلی سیڑھی ہے اس لیے اس کی پرزور مخالفت ضروری ہے :ڈاکٹر کفیل خان

سیاہ قانون سی اےاے،این آر سی اور این پی آر کےخلاف ناگرک سماج نے مظفرپور غیری معینہ مدت ستیہ گرہ شرو کیا

مظفرپور:20جنوری (اسلم رحمانی )دہلی کے شاہین باغ میں سی اے اے،این آرسی اوراین پی آر کےخلاف گزشتہ ایک ماہ سے جاری خواتین کے احتجاج کی حمایت میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف آج مظفرپور ناگرک سماج کے بینر تلےواقع کھودی رام بوس اسمارک کمپنی باغ میں سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کےخلاف غیر معینہ مدت ستیہ گرہ کا آغاز کیا اس موقع پر ملک کے مشہور ومعروف ڈاکٹر کفیل خان گورکھپوری بھی ستیہ گرہ میں شامل ہوئے اور اپنے خطاب میں سی اے اے، این آرسی اور این پی کو غیر ضروری قرار دیا اور انہوں نے کہاکہ جس طرح چمن میں مختلف اقسام کے رنگ بو اور مختلف اقسام کے پھل پھول ہوتے ہیں جس سے چمن کی زینت بنتی ہے اسی طرح یہ ہمارا ملک مختلف مذاہب، طبقات، رنگ ونسل، ذات برادری کے مجموعے کا ملک ہے اور تمام افراد اس ملک کے باشندے اور اس کی زینت ہیں اور تمام کے حقوق برابر ہیں۔ لیکن آج کی یہ موجودہ حکومت جو فرقہ ورانہ خطوط پر ملک کو تقسیم کرنے کے درپے ہے اور ہمارے ملک کی خوبصورتی اور اس کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کر دینے کے درپے ہیں۔انہوں نے کہا، حکومت چاہتی ہے کہ اس ملک میں ایک ہی طرح کا پھول ہو جو ممکن نہیں ہے۔ یہ اس ملک کی روایت بھی نہیں ہے اور یہ ملک کبھی بھی اس کو گوراہ نہیں کرسکتا۔ سی اے اے کے ذریعہ اس حکومت نے ملک کے باشندوں کے درمیان تفریق اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کو ہم کبھی معاف نہیں کر سکتے اور ہم اس فرقہ ورانہ نظریے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ہم اس حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جو سی اے اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف آوزیں بلند ہو رہی ہیں اسے غور سے سنے اور اپنے ناپاک عزائم سے باز آئے اور ملک کی پر امن فضا کو مکدر کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنی ناکامیوں پردہ ڈالنےکے لیے سی اےاے، این آر سی اور این پی آر کولاگو کررہی ہے،وہیں انہوں نے کہا کہ این پی آر، این آر سی کی پہلی سیڑھی ہے اس لیے اسے کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا جاسکتا ہے، میرامطالبہ ہےکہ تمام ریاستی حکومتیں این پی آر پر فوطور پر روک لگائے، ستیہ گرہ میں شامل انصاف منچ بہار کے ریاستی صدر سورج کمار سنگھ اور سماجی کارکن آنند کمار پٹیل، کندن کمار نے کہا کہ ہم یہیں پیدا ہوئے ہیں اور اسی مٹی میں دفن ہوںگے ہمارے آباﺅ اجداد کی قبریں یہاں ہیں ہم یہاں سے جانے والے نہیں اور ہماری شہریت کے ثبوت کیلئے جو کاغذات طلب کیے جارہے ہیں ہم کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا وجود ہی ہماری شہریت کی علامت ہے۔ حکومت کی طرف سے جو بھی غیر آئینی قوانین نافذ کیے جائیں گے ہم ان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سی اے اے این آر سی اور این پی آکو جلد ازجلد واپس لے۔سماجی کارکن اشتیاق احمد، ندیم خان نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اس لیے ملک اور دستور کی حفاظت کے لیے نکل پڑے ہیں اشتیاق نےکہاکہ آخری سانس تک سی اےاے،این آر سی اور این پی آر کےخلاف دستور بچاؤ جنگ لڑتے رہیں گے اس موقع پر ظفر اعظم، منور اعظم، چاند ، حیدر نظامی، داؤد ابراہیم کے علاوہ بڑی تعداد میں شہرکے لوگ موجود تھے

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close