بہار و سیمانچل

تہذیب وثقافت کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے مشاعرہ :محب الحق خان

تہذیب وثقافت کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے مشاعرہ :محب الحق خان
موتیہاری ٹاؤں ہال کے میدان میں سر سید ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام چھٹے آل انڈیا تاریخ ساز مشاعرے کا انعقاد، کئ ریاستی وزراء، ایم ایل سی، ایم ایل ائے اور معزز ہستیوں کی شرکت نے بڑھائ مشاعرے کی رونق، مختلف فیلڈ میں بہتر کارکردگی کے سبب14 افراد کو سوسائٹی کی جانب سے دیا گیا اعزاز

موتیہاری ( نمائندہ ہندوستان اردو ٹائمز)
قومی یکجہتی کو مضبوط اور گنگا جمنی تہذیب کی بقاء کے لئے مشاعروں کا انعقاد کیا جاتا ہے، اور مشاعرے کے ذریعہ ہج تہذیب و وثقافت کی بہترین حفاظت کی جاسکتی ہے، کیونکہ یہی ایک واحد پلیٹ فارم ہے جس پر پارٹی،مذہب اور آپسی رنجش کو بھلاکر ہزاروں لوگ یکجا جمع ہوتے ہیں، اور مشاعرے کی جو محفل سجتی ہے اور سماں بندھتا ہے وہ دیکھتے بنتا ہے-ان خیالات کا اظہار موتیہاری کے ٹاؤن ہال میں سر سید ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام سجائے گئے چھٹے آل انڈیا مشاعرے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سر سید ویلفیئر سوسائٹی کے صدر اور سابق موتیہاری نگر پریشد کے وائس چیئرمین محب الحق خان نے کیا، انہوں نے اس موقع پر مشاعرہ کمیٹی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہرسال ہماری یہ انتہائ کوشش رہتی ہے کہ سامعین کو ایک بہتر محفل کی فراہمی کے ساتھ ہم آئے ہوئے لوگوں کے دلوں کو محبت سے فتح کریں، اس موقع پر مشاعرے کی افتتاح سے قبل پروفیسر ارون کمار نے اردو اور ہندی زبان کی تاریخ اور مشاعروں کی شروعات کہاں سے ہوئ اس سے متعلق تفصیلی جانکاری سامعین کے گوش گزار کئے- جبکہ مشاعرے کی محفل کی ابتدائی نظامت صحافی وشاعر عزیر انجم نے کی، اس کے بعد باضابطہ مشاعرے کا افتتاح شمع روشن کرکے سابق مرکزی وزیر علی اشرف فاطمی، ریاستی وزیر امور دیہی وترقیات شرون کمار، ریاستی وزیر سیاحت پرمود کمار ، بہار کے جدیو ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور، ایم ایل سی ستیش کمار،سر سید ویلفیئر سوسائٹی کے صدر محب الحق خان ،سماجی کارکن باب تنظیم کےبانی و صدر ساجد رضاء، جدیو ضلع صدر کپل دیو پرساد عرف بھون پٹیل، موتیہاری نگر پریشد کی چیئرمین انجو دیوی اور کئ مہمانوں نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے کیا- اس کے بعد باضابطہ طور پر جے ڈی یو کے علی اشرف فاطمی کو مشاعرہ کی محفل کا صدر منتخب کیا گیا، اور شنکر کیموری نے ہدیۂ نعت پیش کر مشاعرے کی شروعات کی، جس کے بعد مہمان اور میزبان شاعروں وشاعرات نے محفل کو اپنے خوبصورت شاعری سے سجایا اور ایک ایسی فضاء قائم کی سامعین صبح تک مشاعرے کا لطف لیتے رہے، اس موقع پر مہمان شعراء میں راہی بستوی، جوہر کانپوری، انا دہلوی، ہاشم فیروزآبادی، مرحوم مالیگاؤی، رحمت اللہ اچانک مؤی، سنیل کمار تنگ، شکیل بھارتی، نکہت مرادآبادی، اتل اجنبی، شبینہ ادیب، طاہر فراز، انل چوبے، میسم گوپالپوری اور تنگ عنایتپوری کے اسماء شامل ہیں- جبکہ مقامی شعراء میں عزیر انجم، ڈاکٹر صبا اختر شوخ، کلیم اللہ کلیم، عزیر سالم، ظفر حبیبی اور روح الحق ہمدم سمیت کئ اسماء شامل ہیں-

اس موقع مختلف فیلڈ میں بہتر کام کرنے والے14 افرد کو سر سید ایوارڈ سے بھی نوازا گیا- وہیں مشاعرے میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی وہیں شرکاء میں انتظار الحق، شہاب الدین فاروقی، ایم ایل ائے ڈاکٹر شمیم احمد، مکھیا بےبی عالم، مہیشور سنگھ، وجئے سنگھ، ڈاکٹر قاسم انصاری، انور فاروقی، انجینئر طارق ظفر، سہراب عالم، انور کمال خان، محمد پرویز، گڈو خان ڈاکٹر تبریز عالم علیگ، شہزاد خان، سید ساجد حسین، صغیر عالم، سید امتیاز احمد، روزنامہ انقلاب کے ضلع بیورو چیف ابوسلمان احمد، عقیل احمد شاد، عبد المبین، ڈاکٹر ایس ایم منت اللہ، ڈاکٹر انجم پرویز، ڈاکٹر فیصل پرواز، ڈاکٹر عبد الخبیر، پربھات خبر کے پربھاری سچند سنگھ ستیارتھی، سنجئے سنگھ، کملیشور سنگھ، وصیل احمد خان، بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ریاستی صدر طفیل احمد سمیت کئ اسماء شامل ہیں-

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close