مودی حکومت نے اسحلہ کےزدپر کشمیر سے دفعہ 370منسوخ کی ہے: میناتیواری

مودی حکومت نے اسحلہ کےزدپر کشمیر سے دفعہ 370منسوخ کی ہے: میناتیواری 

تصویر بشکریہ اسلم رحمانی

مظفرپور 25اگست (پریس ریلیز  )سی پی آئی ایم ایل مظفرپور نے آئین، جمہوریت،اور عوامی حقوق پر بڑھتے حملوں کےخلاف “متحدہو-مزاہمت کریں” جیسے نعروں کےساتھ واقع ڈاکٹر رام منہور لوہیاکالج دیوان روڈ میں پارٹی ورکشاپ کاانعقاد کیاگیا اس موقع پر پارٹی کےضلعی سیکریٹری کرشن موہن سنگھ نے اپنی افتتاحی خطاب میں کہاکہ مودی حکومت کسانوں کے مسائل کےتئیں بے حسی کامظاہرہ کررہی ہے حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے لاکھوں نوجوان بےروزگار ہورہے ہیں کرشن موہن نے کشمیر کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے کشمیر کی عوام کی خیالت کو نظر انداز کرتےہوئے اسلحہ کےزدپر کشمیر سے دفعہ 370 منسوخ کیاگیاہے جس کی وجہ سے کشمیر کی لاکھوں عوام خصوصا معصوم بچے بھوکے پیاسے اپنے گھروں میں قیدہے انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اپنے خلاف بلندہونے والی آواز کو دبانے کے رہنماؤں کو دہشت گرد ثابت کرکے جمہوریت کاقتل کرنے میں مصروف ہے کرشن موہن نے کہاکہ آج ملک میں آر ایس اور بی جےپی اپنی حکومت کی کرسی محفوظ رکھنے کے لیے ہندو-مسلم کےنام پر نفرت کی آگ لگائی جارہی ہے خاص کر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیم شوشل میڈیا پر فرضی ویویڈیو و بناکر پھیلائی جارہی ہےاسی طرح سی پی آئی ایم ایل سینٹرل کمیٹی کی رکن میناتیواری نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ مودی حکومت نے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے کشمیر سے دفعہ 370کو منسوخ کیاہے انہوں نے کشمیر کی روشن تاریخ پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک تقسیم کے بعد کشمیر ایک خود مختارریاست تھا اس وقت پورے ملک میں ہندو-مسلم کےنام پر آر ایس ایس کے لوگوں نے فسادات کرائے تھے لیکن کشمیر میں مسلمان اکثریت میں تھے اس کےباوجود بھی کشمیر میں فساد نہیں ہواچونکہ کشمیر کی عوام ہمیشہ سےامن پسندرہی ہے اور آج بھی امن پسندہے میناتیواری نےکہاکہ تقسیم ملک کےبعد کشمیر کےراجا ہریش راوت ہندوستان سے کشمیر کاالحاق نہیں چاہتے تھے لیکن وہاں کےایک مقبول سماجی لیڈر شیخ عبداللہ کی کوششوں سے چندشرائط کے بنیادپر کشمیر کا ہندوستان کا الحاق ہوا جسے بعد میں دفعہ 370اور دفعہ 35Aکا نفاذ کیاگیا تاکہ کشمیر کی عوام اپنی تشخص کے سستھ ملک کی ترقی میں شامل رہیں گے انہوں نے کہا کہ کشمیر سے اسلحہ کےزدپر دفعہ 370 منسوخ کرنے کےبعد بی جےپی کےلیڈر سشیل مودی نے کہاکہ دفعہ 370منسوخ ہونےسے بہار کےنوجوانوں کوروزگار ملےگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ دفعہ 370 منسوخی سےقبل وہاں بیرون ریاست کے لاکھوں مزدور مزدوری کررہے تھے لیکن مودی جی کے غیر جمہوری فیصلے نے لاکھوں کوبےروزگار بنادیاہے میناتیواری نےکہاکہ آج کچھ لوگ خوش ہورے ہیں کی اب ہم بھی کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں انہیں یہ جان لینا چاہیےکہ کشمیر میں عام لوگوں کو زمین میسر نہیں ہونےوالی ہے بلکہ مودی حکومت کشمیر کی قیمتی زمین اڈانی امبانی کے سپرد کرنے جارہی ہے اس موقع پر انصاف منچ بہار کے ریاستی صدر سورج کمار سنگھ، آفتاب عالم، ظفر اعظم، پروفیسر اروند کمار ڈے، جتیندر یادو،منوج یادو،سترودھن سہنی،رام بالک سہنی، راہل سنگھ،وکیش کمارسنگھ نے بھی خطاب کیا شرکاء میں فہد زماں، اکبراعظم صدیقی، خالد رحمانی، اعجاز احمد، ریاض خان، احتشام احمدرحمانی،شمشیرعالم،عرفان عالم،معراج، شرمیلا دیوی،شاردھادیوی ہوریل رائے،پرشورام پاٹھک وغیرہ کے علاوہ سیکروں اراکن موجودتھے