بہار و سیمانچل

ہجومی تشدد کے خلاف سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے:اکبر اعظم صدیقی

ہجومی تشدد کے خلاف سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے:اکبر اعظم صدیقی 

تصویر بشکریہ اسلم رحمانی

 مظفرپور 20 جولائی(اسلم رحمانی ) انصاف منچ بہار کے معاون سیکرٹری اکبر اعظم صدیقی نے ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت قانون بنائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہجومی تشد د کا شکار اب صرف دلت،قبائلی،مذہبی اقلیتیں ہی نہیں بلکہ  اب یہ فیشن ہوگیاہے اکبر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہجومی تشدد ایک مہلک بیماری کی شکل میں ملک بھر میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسا بی جے پی حکومتوں کے ذریعہ قانون کا راج نافذنہ کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہجومی تشدد کے اکا دکا واقعات پہلے بھی ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب یہ واقعات عام ہوگئے ہیں۔ جمہوریت کے پرتشدد بھیڑ میں بدل جانے سے مہذب سماج کے اندر تشویش کی لہر ہے۔سپریم کورٹ نے بھی اس کا نوٹس لے کر مرکز و ریاستی حکومتوں کو اس ضمن میں ہدایات جاری کئے ہیں۔باوجود اس کے اس معاملے میں مرکزی اور ریاستی حکومتیں قطعی سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہیں۔اکبر  نے چھپرا،اورنگ آباد، ویشالی ،حاجی پور کے ہجومی تشدد پر سخت تنقید کرتے ہوئے  کہا کہ  ہجومی تشدد کے واقعات پر لگام لگانے کے لئے الگ سے نیا قانون بنایا جائے۔ ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات سے سماج میں منافرت کافی بڑھ گئی ہے۔ تشدد پر آمادہ بھیڑ جانتی ہے کہ وہ مذہب کے نام پر قانون سے کھلواڑ کرسکتی ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ بی جے پی حکومت ان کو تحفظ فراہم کرے گی۔ ایسی ذہنیت کی وجہ سے ہی ہجومی تشدد کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ  چھپرا، ویشالی، حاجی پور ، کاحالیہ واقعہ بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ سماجی زندگی میں کشیدگی کس حد تک پھیل چکی ہے اور ہر کسی کو کسی نہ  اس کاشکار بنایا جارہاہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close