سلا گھاٹ ندی میں پل نہیں ہونے کی وجہ سےسو سےزیادہ گاؤں کے لوگ ترقی سے محروم! ڈاکٹر ابوصائم

سلارگھوناتھپور: سلا گھاٹ ندی میں پل نہیں ہونے کی وجہ سے کسانوں کو بہت زیادہ مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے!

سلارگھوناتھپور ،آج کا بیس سالہ نوجوان اس نام سے واقف بھی نہیں ہوگا یہی وہ گاؤں تھا جس کے نام پرسلا گھاٹ کی پہچان ہے جو تقریباً بیس سال قبل ہی مہانندا میں ہضم ہو کر اپنی پہچان مٹا چکا ہے –
سلا گھاٹ سے قریب 100گاؤں کا آواجاہی ہوتا ہے ،مہاننداکے مغرب کنارے سے نیشنل ہائیوے NH31کا سیدھا دوری قریب 7-8 کیلومیٹر ہے مگر ندی میں ڀول نہیں ہونے کی وجہ 59کیلومیٹر گھومنا پڑتا ہے یا کشتی کے انتظار میں 3-2گھنٹے کا وقت لگ جاتا ہے یہی ایک واحد راستہ ہے جو کانکی ،دالکولہ اور کشن گنج سے پورے علاقے کو جوڑتا ہے چونکہ اس علاقے میں زیادہ چھوٹے کسان ہے جن کو اپنی فصل بیچنے کے لیۓ اسی گھاٹ سے جانا پڑتا ہے ، سڑک و پل نہیں رہنے کی وجہ بیل گاڑیوں کے ذریعہ اپنا مال کانکی و دالکولہ کےماروڑیوں کی من مانی قیمت ڀڑ بیچنے ڀڑ مجبور ہونا ڀڑتا –
اگر آپ کشتی پربیل گاڑیوں کی پریشانیوں کو دیکھے گے تو خون کھول جاۓ گا آخر یہاں کے کسان کس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں  جو ماروڑی  50 سال پہلے صرف چند نوٹوں کی گڈی لیکر آیا تھا آج  انکی محلوں کو تاکتے ہوۓ گردن اکڑ جاتی ہے بیچارے غریب کسان اتنی محنت و مشقت سے اپنے کھیتوں میں فصل تیار کرتے ہیں اور ان دھنا سیٹھوں کو اپنا مال کؤڑی کی قیمت پر بیچنے کومجبور ہوتاہے
کیونکہ مارواڑی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر انکا مال ہم نہیں بھی خریدے یہ اپنا مال ہمیں ہی بیچینگے ورنہ کہاں لیکر جاںگے اسی کا فائدہ اٹھا کریہ لوگ اپنا چاندی کاٹ رہا ہے غریب کسان کی مالی حالت   دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی ہے  ۔سڑک و پل نہ ہونی کی بنا پر کمیونیکیشن گیپ کی وجہ پورا علاقہ بدحالی کا شکار ہے ،اگر سلا گھاٹ پر پل بن جاتا ہے تو 100گاؤں کی ترقی کو رفتار میلےگی چونکہ یہاں کہ عوام بہت ہی مہنتی اور مشقت  پسند ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انکی محنتوں پر پانی پھیرنے سے کون بچائےگا؟یہ لوگ اس لاچاری کو ہی اپنا مقدر مان بیٹھا ہے یہاں ان  کی خبر نہ حکومت لے رہی ہے اور نہ ہی یہاں کے نمائندے ،جبکہ ہمارے ایم ایل اے کا بھی اسی راستے آنا جاناہےاور سلا وکاشی باری گھاٹ کا ٹھیکہ بھی خود انکے ہی پاس ہے۔اگر یہاں کے نمائندے چاہتے تو اس علاقے کی عوام کو جمع کر کے ایک بڑی عوامی تحریک کے ذریعے حکومت کو پل بنوانے پر مجبور کر سکتے تھے۔
اب بھی وقت ہے، کہتے ہیں جب جاگو تب سویرا، اگر آج بھی مہانندا و کنکئ ندی کے بیچ کے سارے پنچایت کے مکھیا سرپنچ سمیتی و ضلع پارشد  اپنے ایم ایل اے کو ساتھ لیکر ایم پی ڈاکٹرمحمد جاوید کو میمورینڈم دیکر ایوان میں آواز اٹھائے تو ممکن ہے ہمارے علاقے کو کشتی کے سہارے ندی پار کرنے سے نجات مل سکے گا ۔
مگر افسوس کے ہمارے علاقے کے چھوٹے بڑےسارے نمائندوں آپسی تال میل بالکل نہیں ہے،آج تک نئے چنے گئے ایم پی کے ساتھ  یہاں کے ایم ایل اے و سبھی پنچایت رہنمائوں کے بیچ ترقی کے مسئلے پرایک  جگہ بیٹھ کر کبھی خصوصی  میٹنگ ہوئ؟ نہیں ،بلکہ سبھی اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ بجانے میں لگے ہیں، سبھی کو اپنی کرسی بچانے فکر ہے  مگر علاقے کی ترقی کی فکر کسی کو بھی نہیں۔
عوام بھی اپنی اصل پریشانی سے بے خبر بیکار شخصیت پرستی میں ڈوبا ہے اور اپنے آنے والی نسلوں کے مستقبل برباد کرنے پر تلے ہیں اب بھی وقت ہے نمائندوں سے سوال پوچھیں علاقے کی بدحالی کو دور کرنے کی ترکیب سوچیں ورنہ چناؤ کے وقت بے کار کے مسئلوں میں الجھا کر آپسے آپکا قیمتی ووٹ چھین کر اپنا الو سیدھا کرینگے اور عوام ہمیشہ کی طرح ٹھگی جائیگی ۔

ڈاکٹر ابو صائم سرسی امور اسمبلی حلقہ

اپنا تبصرہ بھیجیں