بہار و سیمانچل

شاہین باغ کی طرز پر مظفرپور کے ماڑی پور میں بھی سیاہ قانون.CAA.NRCاور NPRکے خلاف غیر متعینہ دھرنا کا آغاز

فاشسٹ حکومتیں جھکتی نہیں بلکہ عوام کو ہی جھکانا پڑتا ہے:مولانا اکرام الدین قاسمی

مظفرپور:18 /جنوری(اسلم رحمانی ) سی اے اے،این پی آر اور این آر سی کے خلاف دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر مظفرپور کے ماڑی پور میں بھی سیکڑوں مرد و خواتین اور طلبہ نے ہفتہ کو غیر معینہ مدت کا دھرنا اور احتجاج شروع کر دیا ہے۔ شدید سردی کے باوجود ضلعی مجسٹریٹ دفتر سے صرف سو میٹر کی دوری پر شروع ہونے والے اس دھرنا میں خواتین کی زیادہ تعداد انصاف پسندوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ احتجاج کرنےو الوں میں10سال کے بچوں سے لے کر 70سال عمر تک کے بزرگ بھی شامل ہیں ۔ سماجی ایکٹوسٹ ڈاکٹر حفظ الرحمن نے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندو مسلم کی لڑائی نہیں بلکہ یہ آئین بچانے کی جدو جہد ہے ۔ مرکز کی حکومت نے ہندوستان کے آئین پر حملہ شروع کر دیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہریت سے ہی دوسرے حقوق کی بازیابی ہوتی ہے جو ہمیں آئین نے پہلے ہی دے رکھا ہے ۔ اس لئے آئین پرکسی طرح کا حملہ ملک کے لئے نقصان دہ ہے ۔اب وقت آگیاہے کہ ہم اپنے گھروں سے نکل کرسڑکوں پر احتجاج کریں ۔بام سیف کے لیڈر رما شنکر نے کہا کہ جس طرح مذہب کی بنیاد پرشہریت قانون نافذ کیا گیاہے وہ آئین پربراہ راست حملہ ہے ۔ سماج کو ہندو مسلم یا ذات پات پر بانٹنے کی اس سازش کو ہمیں ناکام کرنا ہوگا ۔ہمیں سمجھنا چاہئے کہ آسام میں صرف مسلمان این آرسی سے باہر نہیں ہوئے تھے بلکہ14؍لاکھ ہندو بھی باہر ہوگئے تھے۔ یہ لڑائی ہندو۔ مسلم کی نہیں بلکہ منووادیوں کے خلاف ہے جو 85؍فیصد آبادی کو غربت اور مفلسی میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے ووٹ کے اختیارا ت چھین کر انہیں غلام بنانا چاہتے ہیں۔ حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم لوگ کسی بھی ایسے قانون کی مخالفت کرتے ہیں جو ہندوستانیوں کے خلاف ہو،غریب، مزدورکے خلاف ہو، جو کسی بھید بھاؤ کے ساتھ پاس ہوا ہو۔شانتی سنیدیش کیندر مظفرپور کے ضلعی سیکریٹری معروف عالم دین مولانا اکرام الدین قاسمی نے کہا کہ مرکزی حکومت لوگوں کو صرف ہندومسلم میں الجھا کر رکھنا چاہتی ہے تاکہ عوام حکومت سے کوئی سوال نہ کرسکے ،بے روزگاری ،مہنگائی اور روزگار کے سوالات نہ پوچھے ۔ یہ حکومت نوکری کےمواقع پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اس لئے حکومت نوجوانوں کو مذہب میں الجھانا چاہتی ہے۔انہوںنے کہا کہ فاشسٹ حکومتیں جھکتی نہیں بلکہ عوام کو ہی جھکانا پڑتا ہے۔ جس طرح ملک گیر سطح پریہ تحریک چل رہی ہے اس سے یہ حکومت بوکھلا چکی ہے، مگر ہم حکومت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ جب تک سی اے اےاین پی آراور این آر سی واپس نہیں لئے جاتے ہم اپنی تحریک واپس نہیں لیں گے۔انہوں نے کہا کہ نتیش کمار سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ این پی آر کے لئے گزٹ اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بجائے فی الوقت اس پر روک لگادینی چاہئے ۔ مردم شماری سے ہمیں گریز نہیں مگر اس میں آبا و اجداد کی پیدائش اور جائے پیدائش کے کالم پراز سر نو غور کیاجائے اور اس کالم کو حذف کیاجائے۔ ایسے قانون کی ہم مخالفت کر تے ہیں۔
دھرنا سےخطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر ایڈوکیٹ رضوان احمد اعجازی، انیل مہتو،مکیش پاسوان،بھیم آرمی، ابھیناش کمار،حاجی حیدر علی رضا، ماریہ خاتون،شاہینہ پروین،حافظ علی حسن حسینی، جاوید اقبال،مولانا طاہر مظاہری،حافظ عبداللہ، رضا ءاللہ،طارق جمالوغیرہ بھی موجود تھے

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close