بہار و سیمانچل

بی جے پی ،جے ڈی یو کا اتحاد اٹوٹ، نتیش کمار این ڈی اے کی قیادت کریں گے : امت شاہ

ویشالی۔ ۱۶؍جنوری: وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کوسی اے اے کی حمایت میں ویشالی میں اجلاس کیا۔انہوں نے کہاہے کچھ لوگ افواہ پھیلاناچاہتے ہیں۔میں تمام افواہ کو ختم کرنے آیا ہوں۔جھارکھنڈنتائج کے بعدبی جے پی اتحادیوں کے دبائومیں ہے۔اسی لیے امت شاہ نے کہاہے کہ بہار میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے انتخابات لڑے گا۔بی جے پی اور جے ڈی یو کا اتحاد اٹوٹ ہے۔اس میں کوئی نقب زنی نہیں ہوسکتی۔امت شاہ نے کہاہے لالو یادو کوجیل میں رہ کر دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کا خواب آنے لگاہے۔لالو یادو کا راج تھا تو بہار کی ترقی کی شرح 3÷ تھی۔ نتیش کمار کی قیادت میں بہار کی ترقی کی شرح 11 فیصد ہے۔آزادی کے بعد جتنے ہندو، سکھ، بدھ مت اور جین پاکستان اور بنگلہ دیش میں رہ گئے تھے، وہ اب 3÷ بھی نہیں بچے ہیں۔ راہل بابا اور لالو یادو بتائیں کہ وہ کم کس طرح ہوئے؟ شاہ نے کہا ہے کہ مخالفت میں کانگریس ممتا اینڈ کمپنی نے ملک میں فسادات کرائے۔میں بہار کے مسلمانوں کو بتانے آیا ہوں کہ سی اے اے سے کسی کی شہریت نہیں جائے گی۔کانگریس پارٹی نے مذہب کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کراکر غلط کیا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں کامذہب بدلوایاگیا، ان کی ہلاکتیں ہوئیں۔لہذا وہ یہاں آنے کے لیے مجبور ہوئے۔ پاکستان میں باپ کے سامنے بیٹی کے شوہر کے سامنے بیوی سے عصمت دری ہوئی۔ مندر گردوارے توڑے گئے۔ اس لیے وہاں ہراساں ہوکر لوگ یہاں آئے۔وزیرداخلہ نے یہ نہیں بتایاکہ ان لوگوں کوپرانے شہریت قانون سے بھی شہریت جب دی جاسکتی تھی تونئی ترامیم کی ضرورت کیوں پڑی ؟امت شاہ نے کہاہے کہ مہاتما گاندھی نے 26 ستمبر 1947 کو کہا تھا کہ پاکستان میں رہنے والا ہر ہندو اور سکھ بھارت آ سکتا ہے۔ اس کوکام اورپناہ دینا آزاد بھارت کی ذمہ داری ہے۔گاندھی جی کی اس بات کو نہرو، راجندر پرساد، کرپلانی جی اور مولانا آزاد نے بھی دہرایا۔کانگریس والے ہماری نہیں مان رہے ہیں، اپنے لیڈروں کی تو مان لیں۔ویشالی کی زمین پچھڑوں اور ستائے ہوئے لوگوں کوانصاف دینے والی زمین ہے۔نریندر مودی کی حکومت نے سی اے اے کے ذریعے پسماندہ-ستائے ہوئے لوگوں کوانصاف دیاہے۔ راہل گاندھی، لالو یادو، ممتا بنرجی جیسے لوگ بات تو متاثرین کی کرتے ہیں، لیکن آپ کے ووٹ بینک کی بات آتی ہے تو ووٹ بینک کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھتے۔میں بہار کے عوام کو کہنے آیا ہوں کہ کیا ہے سی اے اے۔ جوستائے گئے لوگ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہیں۔ انہیں شہریت دینے کا بندوبست ہے۔امت شاہ نے یہ نہیں بتایاکہ پرانے شہریت قانون سے بھی انھیں شہریت دی جاسکتی تھی،اب ترمیم کی ضرورت کیوں پڑی؟امت شاہ نے کہاہے کہ راہل، لالو اینڈ کمپنی کو اس میں ووٹ بینک دکھائی دیتا ہے۔سیاسی الو سیدھا کرنے کے لیے وہ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔سی اے اے شہریت دینے کا قانون ہے، لینے کا نہیں۔نریندر مودی کی حکومت نے 5 اگست کو 370 اور 35 اے کواکھاڑ کر پھینک دیا۔آج کشمیر میں ترنگا شان سے آسمان چھو رہا ہے۔پاکستان سے دہشت گرد آتے تھے اور ہمارے جوانوں کا سر کاٹ کر لے جاتے تھے۔انھیں مارنا چاہیے یا نہیں؟کانگریس کی حکومت کچھ نہیں کرتی تھی۔منموہن سنگھ مون بابابنے خاموش بیٹھے رہتے تھے۔مودی جی نے ایئر اسٹرائیک اورسرجیکل اسٹرائیک کرکے دہشت گردوں کو سبق سکھانے کاکام کیاہے۔ اس کی بھی کانگریس اینڈ کمپنی مخالفت کرتی ہے۔عمران خان بھی ثبوت مانگتے ہیں۔ تمام مسائل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور کانگریس، لالو، ممتا کی زبان ایک ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ ان سب کے درمیان کیا رشتہ ہے؟

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close