بہار و سیمانچل

آج تیسرے دن بھی جاری رہا نوادہ میں مرد و خواتین کا دھرنا سی اے اے، این آر سی اوراین پی آر کی واپسی تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان : مہجورالقادری

نوادہ (پریس ریلیز)  شہر نوادہ کے غیور مرد و خواتین کا دھرنا آج بھی پورے آب و تاب کے ساتھ جاری رہا اتنی کڑاکے کی سردی میں بھی کھلے آسمان تلے شب و روز احتجاج جاری رکھنا یقیناً یہ وطن عزیز کی محبت کاہی نتیجہ ہے لوگوں نے اب یہ عہد کرلیا ہے کہ جب تک یہ موجودہ حکومت CAA, NRC&NPR جیسے کالے اور ملک کو توڑنے والے قانون کو واپس نہیں لے لیتی ہے تب یہ احتجاج جاری رہے گا آج سے 70 سال پہلے ہمارے آباو اجداد نے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے جانوں کی قربانیاں دی تھیں آج ہم اپنے وطن عزیز کے آئین و دستور کی حفاظت کے لئے ایک اور لڑائی لڑنے کو تیار ہیں چاہے اس کے لئے ہمیں جتنی بھی قربانیاں دینی پڑے ہم ہر حکومت کے ہرچیلنج کوقبول کرنے کو تیار ہیں ان خیالات کا اظہار مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورالقادری ،صدر تنظیم عُلمائےحق ضلع نوادہ نے کیا آج کے مظاہرے میں شہرنوادہ کی جن اہم شخصیات نے اس کالے قانون کی سخت لفظوں میں مذمت کی ان میں جناب پروفیسر محمد الیاس الدین، مولاناسیدارشدافضلی، مفتی عنایت اللہ قاسمی ،مفتی محب رضا فیضی دارالعلوم فیض الباری نوادہ ،قاری شعیب احمد مدرسہ عظمتیہ، قاری مقصود نعمانی، مولانا محمد صادق جامعی اشرفی، قاری شوکت مظاہری جناب ندیم حیات ضلع کانگریس صدر، جناب افسرنواب عرف چھوٹے لا لو، طارق بابا یووا کانگریس نوادہ، جناب جسیم الدین وارڈ کمشنر، محمد علاؤالدین،محمد شمیم الدین (کلو کباڑی) ماسٹر ظہیر انور کے علاوہ کئی خواتین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا خاص طور پہ قاضئ شہر مولانا نعمان اخترفائق جمالی مہتمم دارالعلوم فیض الباری نوادہ نے کہا کہ ہم سے جو شہریت کا ثبوت مانگتے ہیں ان کو پتہ نہیں کہ تم جس لال قلعہ پہ چڑھ کے بھارت کا پرچم ہرسال یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کے موقع پہ لہراتے ہو وہ میرے ایک نمبر شہری ہونے کاثبوت ہے ساتھ ہی ساتھ قطب مینار، تاج محل یہ سب میرے ہندوستانی ہونے کا ثبوت ہے مولانا سید ارشد افضلی نے مرکزی حکومت کو للکارتے ہوئے کہا یہ اس ملک کی آزادی میں تمہارے باپ دادا اور امت شاہ کے خاندان یا آر ایس ایس کا کہیں نام و نشان نہیں تھا یہ تمہارے باپ کا یہ ملک نہیں ہے ساتھ ہی انہوں نے بہار کی نتیش حکومت کی دوغلی پالیسی پہ بھی سوال اٹھایا اور سارے انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جب تک نتیش حکومت این پی آر پہ اپنا موقف واضح نہیں کرتی تب تک 19 جنوری کو ہونے والے مانو شرنکھکلا میں کسی طرح کا ساتھ نہیں دیں گے بلکہ مکمل طور پر اس کا بائیکاٹ کریں گے اوراین آر سی، سی اے اے و این آر پی یسے سیاہ قانون کی مذمت کی اور حکومت سے اس قانون کو بلا تاخیر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہماری یہ لڑائی کسی بھی ہندو بھائی سے نہیں ہے بلکہ ملک کی فاشسٹ حکومت سے ہے جو ملک کے تانے بانے کو بکھیرنے میں لگی ہے اور صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے ہم ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے بنائے ہوئے ملکی قوانین میں کسی بھی طرح کی خرد برد نہیں ہونے دیں گے اپنی جانوں کی قربانی دے کر بھی ہم لوگ ہندوستان کے آئین کو بچائیں گے اس لڑائی میں ہمارے وہ برادرانِ وطن بھی جو ملک کی جمہوریت پہ یقین رکھتے اور وطن عزیز سے پیار کرتے ہیں شانہ بشانہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں اس دھرنا کو شریمتی ساوتری دیوی، ریشماں پروین وغیرہ نے بھی خطاب کیا

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close