بہار و سیمانچل

مرکزی حکومت ہر محاذ پر ناکام – لطیف الرحمن مصباحی

جمہوری آئین کو تباہ کرنا چاہتی ہے مرکزی حکومت - محبوب عالم رضوی

مشرقی چمپارن (عاقب چشتی) متنازعہ شہریت ترمیمی بل ہمارے جمہوری آئین کے خلاف ہے اور اس طرح کا بل لاکر مرکزی حکومت مذہبی تفریق پیدا کرکے آپسی نفرت کی دیوار کھڑی کرکے ملک کی تہذیب و تمدن کو ختم کرنے کی ناپاک کوشش میں مصروف ہے جس کے خلاف ملک کے سیکولر افراد اور آئین ہند کے وفادار افراد سراپا احتجاج ہیں اور پورے ملک میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے لیکن حکومت طرح طرح کے حیلے بہانے بناکر لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی ہے جو اس کی ہٹلرشاہی کی ترجمان ہے مذکورہ باتیں مدرسہ اسلامیہ حیدریہ کلیان پور میں عوامی اردو نفاذ کمیٹی مشرقی چمپارن کے زیر اہتمام منعقدہ اہم نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا لطیف الرحمن مصباحی نے کہی اور مزید بتایا کہ مرکزی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے اس لیے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس طرح کے متنازعہ بل پاس کرکے لوگوں کا دھیان اس طرف سے ہٹانا چاہتی ہے لیکن ملک کے لوگ اس حقیقت سے آشنا ہوچکے ہیں اور ان میں بیداری آچکی ہے اور ملک کی 80 فیصد آبادی احتجاج کا حصہ بنے ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر یہ بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ اب حکومت کی ہٹلر شاہی زیادہ دنوں تک نہیں چلیگی جبکہ مولانا محبوب عالم رضوی نے کہا کہ یہ خواجہ غریب نواز کا ہندوستان ہے اور یہ صوفی سنتوں کا پیارا دیش ہے یہاں کی تہذیب و تمدن پوری دنیا میں بے مثال ہے اس لیے یہاں نفرت کی حکومت زیادہ دن نہیں چل سکتی ہے متنازعہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج ہے جو یقینی طور پر مرکزی حکومت کے لیے نہایت شرمناک ہے حکومت کی چالبازی اور مکاری سے پورا ملک واقف ہے چند اوباش قسم کے افراد اس بل کی حمایت میں جلوس نکال کر اور طرح طرح سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں جس میں وہ قطعا کامیاب نہیں ہوں گے مرکزی حکومت جس طرح سے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے وہ نہایت شرمناک ہے ملک کے عوام کی فلاح و صلاح کے لئے اور جمہوریت کی تحفظ و بقا کے لئے اس بل کو واپس لینا ہی ہوگا ملک کے جو موجودہ حالات ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے پورا ہندوستان تیار ہے
جبکہ مولانا سرور کلیانپوری نے کہا کہ قابل صد مبارکباد ہیں وہ خواتین جو شاہین باغ میں تقریبا ایک ماہ سے احتجاج کررہی ہیں اور اس سخت جاڑے کی ان کو فکر نہیں بلکہ ملک کی امن و سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے لیکن ملک کے معتبر خانقاہوں کے سجادگان,مشہور تنظیموں کے قائدین عظام کی خاموشی نہایت شرمناک ہے ان کو ہوش کا ناخن لینے کی ضرورت ہے اگر ان لوگوں کی زبانیں اب بھی نہیں کھلیں تو عوام کا اعتماد ان سے اٹھ جائے گا ملک کے جمہوری نظام,تہذیب و تمدن کی تحفظ میں جن خانقاہوں نے اہم کردار کیا تھا آج انہیں خانقاہوں کے مجاور ملک کی عظمت وارفتہ کو تار تار کرنے میں لگے ہیں جو نہایت افسوسناک ہے
اس موقع سے عوامی اردو نفاذ کمیٹی کے ضلع صدر,سکریٹری,اور بلاک کارکنان کے علاوہ مولانا اختر علی ,مولانا جمیل اختر,مولانا صغیر احمد مولانا ثناءاللہ,حافظ نصب العین,ذاکر حسین,ماسٹر زاہد رضا,ماسٹر محمد نسیم,محمد شریف عالم,مولانا زاہد رضا نعمانی سمیت درجنوں معتبر افراد موجود تھے

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close