بہار و سیمانچل

شاہین باغ کی طرز پر پٹنہ کے سبزی باغ میں بھی دھرنا اور احتجاج!

مظاہرہ میں سیکڑوں مرد وخواتین اورطلبا شامل، ہندوستانیوں میں تفریق پیدا کرنے والے قانون کو واپس لینے کا مطالبہ، طلبا نے ’آر ایس ایس پر ہلہ بولا، جو سرکار نکمی ہے وہ سرکار بدلنی ہے‘ جیسے نعرے لگائے

نئی دہلی ۔ 13 جنوری 2019 (ایچ یو ٹی ۔ ذرائع) سی اے اے،این پی آر اور این آر سی کے خلاف دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر پٹنہ کے سبزی باغ میں بھی سیکڑوں مرد و خواتین اور طلبہ نے اتوار کو غیر معینہ مدت کا دھرنا اور احتجاج شروع کر دیا ہے۔ شدید سردی کے باوجود پیر بہور تھانہ سے صرف سو میٹر کی دوری پر شروع ہونے والے سبزی باغ کے اس دھرنا میں خواتین کی زیادہ تعداد راہگیروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ہاتھوں میں ترنگا لئے ہوئے مظاہرین ’این آر سی نہیں چلے گا‘،سی اے اے واپس لو،آر ایس ایس پر ہلہ بول، جو سرکار نکمی ہے وہ سرکار بدلنی ہے جیسے نعرے لگارہے تھے۔ یہاں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی۔

احتجاج کرنےو الوں میں10سال کے بچوں سے لے کر 70سال عمر تک کے بزرگ بھی شامل تھے ۔ سماجی ایکٹوسٹ روپیش کمار نے دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندو مسلم کی لڑائی نہیں بلکہ یہ آئین بچانے کی جدو جہد ہے ۔ مرکز کی حکومت نے ہندوستان کے آئین پر حملہ شروع کر دیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہریت سے ہی دوسرے حقوق کی بازیابی ہوتی ہے جو ہمیں آئین نے پہلے ہی دے رکھا ہے ۔ اس لئے آئین پرکسی طرح کا حملہ ملک کے لئے نقصان دہ ہے ۔اب وقت آگیاہے کہ ہم اپنے گھروں سے نکل کرسڑکوں پر احتجاج کریں ۔

شاہین باغ کی طرز پر پٹنہ کے سبزی باغ میں بھی دھرنا اور احتجاج

پٹنہ یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے لیڈر منیش کمار نے کہا کہ جس طرح پرمذہب کی بنیاد پرشہریت قانون نافذ کیا گیاہے وہ آئین پربراہ راست حملہ ہے ۔ سماج کو ہندو مسلم یا ذات پات پر بانٹنے کی اس سازش کو ہمیں ناکام کرنا ہوگا ۔ہمیں سمجھنا چاہئے کہ آسام میں صرف مسلمان این آرسی سے باہر نہیں ہوئے تھے بلکہ14؍لاکھ ہندو بھی باہر ہوگئے تھے۔ یہ لڑائی ہندو۔ مسلم کی نہیں بلکہ منووادیوں کے خلاف ہے جو 85؍فیصد آبادی کو غربت اور مفلسی میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے ووٹ کے اختیارا ت چھین کر انہیں غلام بنانا چاہتے ہیں۔ حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم لوگ کسی بھی ایسے قانون کی مخالفت کرتے ہیں جو ہندوستانیوں کے خلاف ہو،غریب، مزدورکے خلاف ہو، جو کسی بھید بھاؤ کے ساتھ پاس ہوا ہو۔

یونیورسٹی کی طالبہ آکانچھا نے کہا کہ مرکزی حکومت لوگوں کو صرف ہندومسلم میں الجھا کر رکھنا چاہتی ہے تاکہ عوام حکومت سے کوئی سوال نہ کرسکے ،بے روزگاری ،مہنگائی اور روزگار کے سوالات نہ پوچھے ۔ یہ حکومت نوکری کےمواقع پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اس لئے حکومت نوجوانوں کو مذہب میں الجھانا چاہتی ہے۔انہوںنے کہا کہ فاشسٹ حکومتیں جھکتی نہیں بلکہ عوام کو ہی جھکانا پڑتا ہے۔ جس طرح ملک گیر سطح پریہ تحریک چل رہی ہے اس سے یہ حکومت بوکھلا چکی ہے، مگر ہم حکومت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ جب تک سی اے اےاین پی آراور این آر سی واپس نہیں لئے جاتے ہم اپنی تحریک واپس نہیں لیں گے۔انہوں نے کہا کہ نتیش کمار سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ این پی آر کے لئے گزٹ اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بجائے فی الوقت اس پر روک لگادینی چاہئے ۔ مردم شماری سے ہمیں گریز نہیں مگر اس میں آبا و اجداد کی پیدائش اور جائے پیدائش کے کالم پراز سر نو غور کیاجائے اور اس کالم کو حذف کیاجائے۔ ایسے قانون کی ہم مخالفت کر تے ہیں۔

دھرنا سے خطاب کرنے والوں می ںڈاکٹر ریحان غنی، شاہ حسین احمد روپیش، آکانشا، افضل امام، بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ توفیق عالم، انجینئیر گلزار احسن، خطیب، آفاق احمد خاں، بختیار التوحید، انجنئیر محمد حسین، اکبر رضا جمشید، انوارالہدیٰ، شہزاد انور انصاری، عارف باری، فضل احمد خاں، شاہد اکبر، سید اسد رضا، شاداب حسین ، سوجنیہ اپادھیائے، افضل حسین، اکشے، کومل، افضل رضوی وغیرہ بھی موجود تھے۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close