بنگلور

منگلورو میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف زبردست احتجاج : جمِ غفیر کے سروں پرلہراتے ترنگے،فلک بوس آزادی کے نعرے ، والنٹیرس کا قابل تعریف نظم و ضبط سمیت اہم جھلکیاں

منگلورو (ہندوستان اردو ٹائمز)مرکزی حکومت کے سیاہ قانو ن سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع کی دی مسلم سنٹرل کمیٹی کی قیادت میں مساوی اذہان کی تنظیموں کے اشتراک سے اڈیار کنور میدان میں بدھ کو زبردست احتجاج منعقد کیا گیا جس میں کم و بیش چار لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ احتجاجیوں نے شہریت قانون سمیت این آر سی اور این پی آر کے خلاف جم کر نعرے بازی کی اور اس قانون کو قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔

مینگلور شہر سے قریب دس کلو میٹر دور اڈیا کنور کے شاہ گارڈن میں منعقدہ احتجاجی اجلاس میں حد نگاہ تک سروں کے سمندر کے ساتھ ساتھ جدھر دیکھو ادھر ترنگے لہراتے نظر آرہے تھے اور آزادی کا نعرہ آسمان کو چھورہاتھا۔احتجاجی جلسے کا آغاز علامہ اقبال کے قومی ترانے ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ سے ہوا تو قومی ترانے ’جن گن من ‘ سےاجلاس اختتام کو پہنچا۔ احتجا جی جلسے کے پیش نظر جہاں شہر بھر میں پولس کا سخت بندوبست تھا وہیں اجلاس کے والنٹرس پمپ ویل سے ہی بڑے نظم وضبط ، صبر وتحمل اور جانفشانی کے ساتھ ٹرافک نظام کو سنبھال رکھا تھا جس کی ہر ایک نے ستائش کی ۔

پولس گولی باری میں شہید عبدالجلیل کندک اور نوشین کدرولی سے موسوم ڈائس پر منعقدہ احتجاجی اجلاس میں دکشن کنڑا ضلع کے قاضی الحاج طاق احمد مسلیار نے دعاکی۔ اُدپی ضلع کے قاضی الحاج بیکل ابراہیم مسلیار نے افتتاحی کلمات پیش کئے۔ دی مسلم سنٹرل کمیٹی کے صدر الحاج محمد مسعود نے احتجاجی جلسے کی صدارت کی۔ نائب صدر حاجی ابراہیم کوڈیجال نے استقبال کیا۔ حاجی بی اے ممتاز علی نے شکریہ کلمات ادا کئے ۔ بی اے محمد علی نے جلسے کی نظامت کی۔

احتجاجی جلسے کا میدان چونکہ شہر کے نواحی علاقے میں تھاتو پولس نے سکیورٹی کو لے کر ٹرافک نظام میں تبدیلی کی تھی جس کے پیش نظر احتجاجیوں کا جلسہ گاہ تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ مگر لا کھوں احتجاجی پیدل جلسہ گاہ پہنچے تو سیکڑوں سمندری راستے کو اپناتے ہوئے کشتیوں کے ذریعے ترنگالہراتے ہوئے میدان میں داخل ہوئے ۔ وقت پر شروع ہوکر وقت پر اختتام جلسے کی خصوصیات میں تھا۔

قراردادیں: جلسے میں قرار دا دیں پیش کرتے ہوئے کہاگیا کہ سی اے اے اور این آر سی قوانین رد کئے جائیں۔ این پی آر کی کارروائی کو حکومت کرناٹک فوری طورپر روک دے۔ مذہب کی بنیاد پر تفریق کرنےو الے سی اے اے قانون کے بجائے سبھی قسم کے مذہبی ظلم کا شکا رہونے والے عوام کو شہریت دینے والا قانون لایا جائے۔ 19دسمبر 2019کو منگلورو میں غیر ضروری گولی باری کرنے والے پولس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے ریاستی حکومت اُن کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ گولی باری میں شہید ہونے والے معصوموں کے خاندانوں میں معاوضہ فوری طورپر تقسیم کیا جائے ۔ گولی باری معاملے کی عدالتی جانچ کی جائے۔ لاٹھی چارج میں شدید زخمی ہونے والوں کے اسپتال کے اخراجات کی بھرپائی حکومت کرے۔ معصوموں پر درج مقدمات کو واپس لیاجائے۔ بھارتی لوگوں کو پھر ایک بار مذہب کی بنیاد پر تقسیم کئےجانے والی ہر سازش کو بھارتی لوگ متحدہ طورپر ناکام بنائیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close