اہم خبریں

واک آﺅٹ کرنے والی پارٹیوں نے بی جے پی اورطلاق بل کی حمایت کی:مسلم پرسنل لابورڈ

واک آﺅٹ کرنے والی پارٹیوں نے بی جے پی اورطلاق بل کی حمایت کی:مسلم پرسنل لابورڈ

طلاق بل خواتین کورٹ اورآئین کےخلاف، مولانامحمدولی رحمانی نے حکومت کی تنقیدکی،اپوزیشن کوآئینہ دکھایا

نئی دہلی 30 جولائی 2019 ۔ آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈنے راجیہ سبھاسے تین طلا ق بل کی منظوری پرسخت ردعمل کااظہارکیاہے ۔مسلم پرسنل لابورڈکے جنرل سکریٹری امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی نے ایک طرف بل کی منظوری پرسوالات اٹھائے ہیں وہیں دوسری طرف ووٹنگ کے وقت راجیہ سبھاسے واک آﺅٹ کرنے والی نام نہادسیکولرپارٹیوں کوبھی نشانے پرلے کرآئینہ دکھایاہے۔جنرل سکریٹری بورڈنے اپنے بیان میں راجیہ سبھاسے واک آﺅٹ کرنے والی پارٹیوں(جدیو،بی ایس پی ،ٹی آرایس،وائی ایس آرکانگریس،اے آئی ڈی ایم کے)اورغیرحاضررہنے والے ممبران پارلیمنٹ کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں نے بائیکاٹ کیاہے۔انہوں نے بی جے پی کی حمایت کی ہے۔اگریہ لوگ اپنی پرانی رائے کے مطابق ووٹنگ میں حصہ لیتے توبل پا س نہیں ہوتا۔مولانامحمدولی رحمانی نے کہاکہ سرکارنے ایک غلط کام کردیاہے جومسلمان مردوعورتوں کوپریشان کرنے والاہے،بل کے مندرجات پرانہوں نے تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ سیدھی سی بات ہے کہ کورٹ اوربل کے مطابق تین طلاق ،طلاق ہوئی ہی نہیں توبغیرایکٹ کے سزاکیسی؟یہ ایک معمولی سی عقل رکھنے والاشخص بھی سمجھ سکتاہے ۔یہ دنیاکاعجوبہ قانون ہے۔اورکورٹ کے فیصلے کے خلاف بھی ہے ،خواتین کے خلاف بھی ہے ،یہ بل سارے مسالک کے خلاف ہے۔اسی طرح شادی بیاہ سول معاملہ ہے،سول معاملے کوکریمنل ایکٹ کیسے بنایاجاسکتاہے؟اس بل کے ذریعے متاثرہ خواتین کوہرگزانصاف نہیں مل سکتا،بلکہ ان کے لیے پریشانیاں کھڑی ہوں گی۔جنرل سکریٹری بورڈنے اپنے بیان میں راجیہ سبھاسے واک آﺅٹ کرنے والی پارٹیوں(جدیو،بی ایس پی،ٹی آرایس،وائی ایس آرکانگریس،اے آئی ڈی ایم کے)اورغیرحاضررہنے والے ممبران پارلیمنٹ کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں نے بائیکاٹ کیاہے ا نہوں نے بی جے پی کی حمایت کی ہے۔اگریہ لوگ اپنی پرانی رائے کے مطابق ووٹنگ میں حصہ لیتے توبل پا س نہیں ہوتا۔واضح ہوکہ جدیو،وائی ایس آرکانگریس اورٹی آرایس سیکولرزم کاڈھنڈھوراپیٹتی رہی ہیں،ان کے مسلم ممبران اپنی پارٹیوں کے سیکولرزم کے گن گاتے رہے ہیں لیکن آج ایوان میں واک آﺅٹ کرنے سے بی جے پی کے لیے راہ آسان ہوگئی۔اس وقت راجیہ سبھا میں اے آئی ڈی ایم کے کے 11، جے ڈی یو کے 6، ٹی آر ایس کے 6، بی ایس پی کے 4 اور پی ڈی پی کے 2 ایم پی ہیں۔یہ تمام لیڈران ووٹنگ کے وقت راجیہ سبھا میں موجود نہیں تھے۔ان کے علاوہ ایس پی کے بھی کچھ ممبران ووٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔242 ارکان والی راجیہ سبھا میں بی جے پی کے 78 اور کانگریس کے 48 ممبران پارلیمنٹ ہیں۔بل کو پاس کرانے کے لیے این ڈی اے کو 121 ارکان کی حمایت ضروری تھی لیکن بڑی تعدادمیں غیر موجودگی کی وجہ سے ایوان میں بی جے پی کی پوزیشن مضبوط ہو گئی۔ ووٹنگ عام آدمی پارٹی کے تینوں ممبران پارلیمنٹ نے بھی بل کے خلاف ووٹنگ کی۔ جے ڈی یو اور اے آئی ٹی ایم کے واک آﺅٹ کے بعد بل کا راستہ اور بھی آسان ہو گیا۔ ان دونوں جماعتوں کے واک آﺅٹ کے بعد ایوان میں 213 اراکین بچے تھے۔ بعد میں ٹی آر ایس، بی ایس پی اور پی ڈی پی ممبران پارلیمنٹ بھی ایوان سے باہرچلے گئے۔ ووٹنگ کے وقت پارلیمنٹ میں 183 رکن ہی موجودتھے۔ بتا دیں کہ پچھلی بی جے پی حکومت نے بھی بل کوپاس کرانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن راجیہ سبھا میں اقلیت میں ہونے کی وجہ سے یہ بل گرگیاتھا۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close