اہم خبریں

جامعہ تحریک کے ۳۹؍ ویں دن بڑی تعداد میں طلبہ کا شاہین باغ تک مشعل جلوس،سابق وائس چانسلر نجیب جنگ سمیت دیگر معزز شخصیات کا خطاب

’میں انقلاب میں شاہین باغ ہونا چاہتی ہوں‘
جامعہ تحریک کے ۳۹؍ ویں دن بڑی تعداد میں طلبہ کا شاہین باغ تک مشعل جلوس،سابق وائس چانسلر نجیب جنگ سمیت دیگر معزز شخصیات کا خطاب، طلباء اور خواتین کی تحسین، عزم و ہمت کو سلام

نئی دہلی۔۲۰؍جنوری: (جامعہ کیمپس سے محمد علم اللہ کی رپورٹ) کیا دن اور کیا رات ایسا لگتا ہے کہ اوکھلا والوں کےلیے دونوں برابر ہیں۔ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاج کا ۳۹واں اور شاہین باغ ۳۷؍واں دن تھا۔ آج بھی مظاہرین کی کافی بھیڑ تھی، لوگوں کا جوش وخروش دیدنی تھا، آج دیر گئے شام طلبہ کی مختلف ٹولیاں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، بٹلہ ہائوس ہوتے ہوئے شاہین باغ کے احتجاج میں مشعل لیے ہوئے شامل ہوئی۔وہیں دن بھر مختلف قسم کے پروگرام جاری رہے، دیگر دنوں کے مقابلے آج بھیڑ کم تھی اس لیے کہ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد ترکمان گیٹ پ، منڈی ہائوس سے جنترمنتر، خوریجی، جعفرآباد، برجی پوری، اندرلوک میٹرو اسٹیشن وغیرہ کے احتجاج میں شرکت کےلیے گئے ہوئے تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ حسب معمول طلبہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آج ان کے بھوک ہڑتال کا بیسواں دن تھا۔ اسٹریٹ لائبریری سجی ہوئی تھی۔آج بھی بڑی تعداد میں طلبہ نے چیف جسٹس آف انڈیا کے نام پوسٹ کارڈ پر خطوط لکھے اور انہیں ارسال کیا۔ طلبہ و عوام نے سی اے اے کے خلاف زبردست نعرے بازی کی، مختلف پلے کارڈ اور سڑکوں پر پینٹگ کرکے سی اے اے کی قباحت اور این پی آر و این آر سی سے ملک کے ہونے والے نقصانات کو بتایا۔ شعرو شاعری کی محفل بھی سجی تھی جہاں علاقائی شعرا اپنا کلام پیش کررہے تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ وطالبات مختلف انداز میں سی اے اے اور این آر سی کے مہلک اثرات سے عوام کو متعارف کرارہے تھے۔ اور لوگوں کو بیداری مہم چلانے کےلیے بڑے پیمانےنک پر ابھار رہے تھے۔ جامعہ اور شاہین نگر کے مظاہرین کو حسب سابق سیاسی وسماجی کارکنان نے خطاب کیا اور ان کی کوششوں کو سراہا، تحریک شروع کرنے پر مبارک باد دی۔ آج جامعہ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وائس چانسلر جامعہ نجیب جنگ نے کہاکہ حکومت کو شہریت ترمیمی قانون پر غور کرناچاہئے، انہیں یا تو مسلمانوں کو شامل کرناچاہئے سبھی مذاہب کو نکال دیناچاہئے اور صرف مظلومیت کی بنیاد پر شہریت دینی چاہئے۔ وزیر اعظم کو سبھی مظاہرین سے مل کر بات کرنی چاہئے پورا معاملہ پرامن طریقے سے حل ہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ بچوں کو یہ یہ تحریک جاری ہی رکھنی ہوگی؟ کیو ںکہ مستقبل کا ہندوستان ان ہی بچوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کب تک ہم لوگ اس طرح احتجاج کرتے رہیں گے، حل صرف بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے۔ معیشت کی بری حالت ہے دکانیں بند ہیں، بسیں متاثر ہیں ملک کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔ شاہین باغ کا احتجاج بھی پرامن طریقے سے جاری رہا۔ لوگوں میں اول دن والا جوش وجذبہ ہے، سکھ کمیونٹی کی جانب سے لنگر اور کھانے کا اہتمام کیاگیا تھا۔ اس سے قبل اتوار کی شام سینکڑوں افراد بشمول خواتین اور بچوں سمیت جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شاہین باغ تک سی اے اے کے خلاف ایک زبردست مارچ کیا۔طلبہ اور مقامی افراد مہاتما گاندھی اور بی آر امبیڈکر کے لباس پہنے ہوئے تھے ، جبکہ تین افراد نے شہید بھگت سنگھ ، راج گرو اور سکھیودیو کی شباحت اختیار کی تھی ، ان میں سے ایک جیل کے لباس میں تھے اور زنجیروں قید تھے۔ اطلاع کے مطابق اتوار ہونے کی وجہ سے شاہین باغ احتجاج میں خواتین سے اظہار یگانگت کےلیے دہلی سمیت دیگر ریاستوں سے لاکھوں کی تعداد میں عوام وہاں پہنچے اور سیاہ قانون کی مخالفت میں نعرے بازی کی۔ اتوار کو صرف گھروں میں قید رہیں پردہ نشین خواتین ہی نہیں تھیں، راجدھانی کے پوش جنوبی علاقے کی امیر گھرانے کی عورتیں بھی ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔ جنوبی دہلی کی خواتین ان خواتین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی تھیں جنھیں کل تک غیر مرد کی موجودگی میں اپنے ہی گھر میں سامنے آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اب یہ خواتین چوراہے پر کھڑی ہو کر مردوں کو راستہ بتا رہی ہیں، آئین کے معنی سمجھا رہی ہیں، مرکزی حکومت کی نیت کو بے پردہ کر رہی ہیں۔ چہرے پر ترنگے کی چھاپ اور پیشانی پر اشوک چکر باندھے یہ خواتین ان سبھی کو راستہ دکھا رہی ہیں جو اب تک خاموش تھے۔ ان خواتین نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ اب اقتدار کے رحم و کرم پر جینے والی نہیں بلکہ اقتدار کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر ہاتھ میں آئین لیے اپنا حق چھیننے کی آگ دل میں بھرے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک میں جمہوریت کے ’تیرتھ استھل‘ کا قیام ہو چکا ہے اور اس کا نام ہے شاہین باغ۔ یہ سچ ہے کہ اس تیرتھ میں نہ کوئی بھگوان ہے، نہ کوئی دیوتا۔ یہ کسی عبادت گاہ یا پوجا کی جگہ سے زیادہ پاک ہے۔ سماج کا ہر طبقہ اس تیرتھ کی تعمیر میں برابر کا شریک ہے۔ پورے ملک میں شاہین باغ کے طرز پر مظاہرے ہورہے ہیں اور خواتین بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ شاہین باغ کی خواتین سے سبق لے رہی خواتین یہی نعرہ لبوں پر لیے ہوئے ہیں کہ ’میں انقلاب میں شاہین باغ ہونا چاہتی ہوں‘۔ رنجشوں کے اس وقست میں۔۔۔نفرتوں کی لاٹھیاں کھاکر۔۔۔اس ملک کو توڑنے کی کوششوں کے اوپر۔۔۔۔بس اتنی ہی تو خواہش ہے جاناں۔۔۔میں انقلاب میں شاہین باغ ہوناچاہتی ہوں۔۔۔!

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close