اہم خبریں

پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں کشمیر کو لیکر سرکار اور میڈیا کے رول پر سوال اٹھایا اور قید سیاست دانوں کے لیئے راشٹپتی سے اپیل کی !

جموں : (طا رق جنجو عہ ) نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر ایکزیکیٹو رکن پروفیسر بھیم سنگھ نے آج صبح نئی دہلی میں نیشنل پنتھرس پارٹی اور دیگر قومی جماعتوں کے کارکنوں کی ایک ہنگامی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ہندستان کی تمام سےاسی جماعتوں سے جموں وکشمیر کے لوگوں کی صورتحال کو سمجھنے کی اپیل کی جو پانچ اگست 2019کو ریاست کوخصوصی درجہ محروم کئے جانے کے بعد کس صورتحال سے گزر رہے ہیں۔پنتھرس سپریمو نے کہا کہ حالانکہ ہندستان کی پارلیمنٹ اس کے طرح کے کسی فیصلے کے لئے مجاز نہیں تھی پھر بھی قومی قیادت کے ساتھ ساتھ اخبارات بھی اس معاملہ پر خاموش رہے جبکہ جموں وکشمیر کی قومی اور علاقائی سےاسی جماعتوں کو ہراساں اور دھمکی کا سامنا کرنا پڑا اور تمام اپوزیشن سے ایسی قیادت کو جیلوں، ہوٹلوں، اسپتالوں اور ہوسٹل وغیرہ میں بندی بنا دیا گیا جبکہ کچھ کو بغیر کسی سماجی سیکورٹی اور طبی مدد کے ان کے اپنے گھروں میں نطربند کردیا گیا۔کاش عدلیہ اس صورتحال پر خود سے مداخلت کرتی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہاکہ آج صبح کشمیر سے آئی خبر میں کہا گیا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، پی ڈی پی کے نعیم اختر، پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجا د لون اور بیوروکریٹ سے سیاستداں بنے شاہ فیصل سمیت 33بندیوں کو داخلہ محکمہ کی ہدایت پر 17نومبر کو اراکین اسمبلی کے ہوسٹل سب جیل میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ حکیم محمد یاسین اور محمد اشرف میر کو سب جیل سے رہا کرکے ان کے گھروں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ ہاوس اریسٹ رہیں گے۔ پنتھرس پارٹی تک پہنچی خبر کے مطابق سب جیلوں میں سہولیات کے فقدان کی اہم وجہ سے کچھ بندی پہلے ہی بیمار پڑ چکے ہیں یا پھر بیمار پڑرہے ہیں۔انہوں نے ہندوستان کے صدر رامناتھ کووند سے اس معاملہ پر جموں وکشمیر کی تمام منظورشدہ قومی جماعتوں اور قومی جماعتوں کے نمائندوں سے دروازہ بند کمرے میں سید ھے بات چیت کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہاکہ اگر صدر جموں وکشمیر کے ہندبستانی شہریوں کو راحت پہنچاتے ہیں تو وہ قوم مخالف طاقتوں کے ہاتھوں کشمیر میں جنت کوتباہ کرنے سے بچا سکتے ہیں۔انہوں نے ہندستانی سفارتکاروں کی طرف سے یہودیت اور کشمیر معاملات کا موازنہ کرنے اور جموں وکشمیر کی صورتحال کے تعلق سے مفاد پرست عناصر کے ذریعہ غلط تشہرے پر حیرت ظاہر کی جو سےکولر ملک ہندستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔انہوں نے تمام اراکین پارلیمان سے ان کی سےاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر پورا ہندستان ایک ہے کے پیغام کے ساتھ جموں وکشمیر کے متاثرہ لوگوں کے لئے آواز اٹھانے کی اپیل کی۔انہوں نے ریاست پر حکومت کرنے والے ہندستان کے صدر سے درخواست کی کہ وہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بند تمام سیاسی قیدیوں کو ان کی سےاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر رہا کرنے کی ہدایت دیں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close