اہم خبریں

ایودھیا سے متعلق فیصلہ متضاد ہے : سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کلیسورم راج

ایودھیا سے متعلق فیصلہ متضاد ہے : سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کلیسورم راج _ پریس جائزہ
نئی دہلی ۔ 12 نومبر 2019
ایودھیا مندر ۔ مسجد تنازعہ پر 9 نومبر کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانون اور آئین کے فیلوز کی الگ الگ رائے آرہی ہے ۔

کولکاتا سے شائع ہونے والا انگریزی دینک ٹیلیگراف سے پیر کو سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کلیسورم راج نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ بھارت اکثریت پسندی کی اور بڑھ رہا ہے جو آئین کے دفعات سے متفق نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا ” بھارت انتہائی دائیں بازو کے نظام کی اور بڑھ رہا ہے یہ فیصلہ آئین کے اصولوں کے لئے جھٹکہ ہے ۔ یہ قانون کے راج اور سیکولر نظام سے میل نہیں کھاتا ہے ۔ یہ اوپری عدالت کا فیصلہ ہے اور سبھی کو قبول کرنا چاہیے اور کسی کو بھی امن کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ۔ لیکن کورٹ میں اس حساس مسلے کو جیسے دیکھا گیا اس پر لمبے عرصے تک بات ہوتی رہے گی ۔

کے راج ، سپریم کورٹ میں کئی اہم کیسوں کے لیے جانے جاتے ہیں ۔ اس میں سب سے اہم شادی سے باہر تعلق بنانے کو جرم کے دائرے سے باہر کرانا ۔

راج نے کہا ” سب سے متضاد یہ ہے کہ کورٹ نے بابری مسجد توڑنے کی کارروائی کو غیر قانونی مانا ہے اور پھر اسی کو عزت دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ پانچ ججوں کی بینچ نے اتفاق رائے سے بابری مسمار کرنے کو غیر قانونی مانا اور پھر وہاں مندر بنانے کے حق میں فیصلہ بھی دیا ۔ کسی بھی جمہوریت میں یہ بنیادی چیز ہوتی ہے کہ ہجوم کے تشدد اور کسی بھی طرح کے فسادیوں کک فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ملے ، سب سے بڑا نقصان قانون کے راج کا ہے ، یہ فیصلہ آئین کے معیارات کے حساب سے متضاد ہے ۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close