اہم خبریں

ہریانہ میں 18 دنوں سے 50 ہزار کارخانے بند ہیں !

ہریانہ میں 18 دنوں سے 50 ہزار کارخانے بند ہیں‘ !
بجرنگ گرگ نے کہا ک صنعتکار تمام کاغذاتی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ہی اپنی صنعت چلاتا ہے۔ ایسے میں صنعتوں کو بند کرنا ریاست کے صنعتکاروں کے ساتھ زیادتی ہے جسے کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا ۔
چنڈی گڑھ ۔ 12 نومبر 2019
ہریانہ اسٹیٹ ٹریڈ بورڈ کے صدر آل انڈیا ٹریڈ بورڈ کے قومی جنرل سکریٹری بجرنگ گرگ نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے نئے نئے تغلقی فرمان جاری کر کے 18 دنوں سے تقریباً 50 ہزاروں فیکٹریوں کو پولیوشن کنٹرول بورڈ کے حکم ناموں کے سبب بند ہیں جس کے سبب صنعتکاروں کو تقریباً اب تک 500 کروڑ روپیے کا نقصان ہوچکا ہے اور لاکھوں اہلکاروں کو روزگار کا بحران آگیا ہے۔

گرگ نے یہاں جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ پانی پت میں چھوٹی۔بڑی تقریباً 20000، فریدآباد میں 7000، بہادر گڑھ میں 4000 اور ضلع سونی پت میں 1100 فیکٹریاں وغیرہ سمیت ریاست میں تقریباً 50 ہزار فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک اور ریاست میں پہلے سے ہی شدید کساد بازاری (مندی) کے سبب صنعت و تجارت چوپٹ ہوگئے ہیں۔ حکومت نے اب صنعتوں کو 14 نومبر تک بند رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آلودگی روکنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے فیکٹریاں بند کروا رہی ہے جبکہ آلودگی فیکٹریوں سے نہیں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں سے ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتکار تو پولیوشن بورڈ کے تمام کاغذاتی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ہی اپنی صنعت چلاتا ہے۔ ایسے میں صنعتوں کو بند کرنا ریاست کے صنعتکاروں اور اہلکاروں کے ساتھ زیادتی ہے جسے کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close