اہم خبریں

فیصلے اس طرح ہوں گے تو نہ جانے کتنے مندر، مسجد اور چرچ توڑنے پڑیں گے : جسٹس گنگولی

فیصلے اس طرح ہوں گے تو نہ جانے کتنے مندر، مسجد اور چرچ توڑنے پڑیں گے : جسٹس گنگولی
سپریم کورٹ کے سبکدوش جج جسٹس اشوک کمار گنگولی نے ہفتے کے روز کہا کہ ایودھیا سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے نے ان کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کر دیئے ہیں۔
نئی دہلی ۔ 10 نومبر 2019
ایودھیا معاملہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے متنازع زمین ہندووں کو دئے جانے اور مسجد کے لئے ایودھیا میں ہی کہیں اور زمین دئے جانے کے فیصلہ پر تمام طرح کے رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سبکدوش جج جسٹس گنگولی نے بھی اس معاملہ پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ’بی بی سی ہندی‘ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح کا فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا اس سے ان کے ذہن میں شک و شبہات جنم لے رہے ہیں، نیز فیصلہ اس طرح ہوں گے تو ملک میں بے شمار ایسے مذہبی مقامات ہیں جنہیں توڑنا پڑے گا۔

جسٹس گنگولی نے کہا، ’’اس فیصلے کے بعد ایک مسلمان کیا سوچے گا؟ وہاں برسوں سے ایک مسجد تھی جسے منہدم کر دیا گیا۔ اب سپریم کورٹ نے وہاں ایک مندر بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اجازت اس بنیاد پر دی گئی کہ یہ زمین رام لالہ کے ساتھ منسلک ہے۔ صدیوں پہلے زمین پر کس کا مالکانہ حق تھا، اس کا فیصلہ کیا سپریم کورٹ کرے گی؟ کیا سپریم کورٹ یہ بھول جائے گی کہ جب آئین وجود میں آیا تو وہاں پر مسجد موجود تھی؟ آئین میں دفعات موجود ہیں اور اس کی حفاظت کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔‘‘

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس گنگولی نے کہا، ’’یہ فیصلہ کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ آئین کے وجود میں آنے سے پہلے وہاں کیا موجود تھا۔ ہندوستان میں اس وقت جمہوریت نہیں تھی۔ اس وقت وہاں ایک مسجد تھی، ایک مندر تھا، بدھ استوپ تھا، ایک چرچ تھا… اگر ہم اس پر فیصلہ کرنے بیٹھیں گے ہیں تو بہت سے مندروں – مساجد اور دیگر عمارتوں کو توڑنا پڑے گا۔ ہم ’افسانوی حقائق‘ کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘‘

جسٹس گنگولی نے کہا ، ’’اقلیتوں نے نسلوں سے دیکھا ہے کہ وہاں ایک مسجد تھی۔ مسجد کو توڑ دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وہاں ایک مندر تعمیر ہوگا۔ اس فیصلے نے میرے ذہن میں ایک شکوک و شبہات پیدا کر دئے ہیں۔ آئین کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس فیصلہ کو قبول کرنے میں دقت محسوس ہو رہی ہے۔‘‘

جسٹس گنگولی نے کہا، ’’سنہ 1856-57 میں شاید نماز پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہو لیکن 1949 کے بعد سے یہاں نماز پڑھی گئی ہے اور اس کا ثبوت موجود ہے۔ جب ہمارا آئین معرض وجود آیا تو یہاں پر نماز پڑھی جا رہی تھی۔ ایک ایسی جگہ جہاں نماز پڑھی گئی اور اگر وہ جگہ مسجد تھی ہوتی تو اقلیتوں کو بھی حق ہے کہ وہ اپنی مذہبی آزادی کا دفاع کریں۔ آئین کے مطابق لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔‘‘

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close