اہم خبریں

آج ایودھیا مندرمسجد مقدمہ کا فیصلہ۔یوپی سمیت ملک بھر میں ہائی الرٹ

یوپی سمیت ملک بھر میں ہائی الرٹ

آج ایودھیا مندرمسجد مقدمہ کا فیصلہ

یوپی سمیت ملک بھر میں ہائی الرٹ، فیصلہ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ صبح ۳۰۔۱۰ بجے سنائے گی، گگوئی کی یوپی کے چیف سیکریٹری او رڈی جی پی سے ملاقات
نئی دہلی،۸؍نومبر:اجودھیا میں بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مقدمے کا فیصلہ کل سپریم کورٹ صبح ساڑھے دس بجے سنائے گی، چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبرے، جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی پانچ رکنی بینچ یہ فیصلہ سنائے گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ جو کل یعنی سنیچر فیصلے کا اعلان کرنے جا رہا ہے وہاں اس حساس اور مدت طویل سے زیر التوا مقدمہ کی شنوائی ۴۰ دن تک ہوئی تھی، جس میں فریقین نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے تھے اور سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اب ممکنہ فیصلے کے پیش نظر مرکزی وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ تمام ریاستوں اور مرکزی علاقوں کو ایک عام ہدایت جاری کی گئی ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام حساس مقامات پر مناسب حفاظتی اہلکار کو تعینات رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملک میں کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔عہدیدار نے بتایا کہ وزارت نے امن و امان برقرار رکھنے میں یوپی کی حکومت کی مدد کے لئے وہاں نیم فوجی دستوں کی 40 کمپنیاں (ہر ایک میں 100 کے قریب اہلکار) حفاظت پر مامور کر دی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز اپنے تمام وزرا سے بھی کہا کہ وہ ایودھیا فیصلے سے متعلق غیر ضروری بیانات دینے سے باز رہیں۔ فیصلے کے مدنظر ایودھیا میں سیکوریٹی سخت کردی گئی ہے، رام جنم بھومی کی طرف جانے والے راستے کو بند کردیاگیا ہے اب وہاں سے صرف پیدل گزرا جاسکتا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہر ضلع میں ایک کنٹرول روم بنانے او رلکھنو اور ایودھیا میں دو ہیلی کاپٹر تیار رکھنے کا حکم دیا ہے، پورے یوپی میں پولس کو فساد سے نپٹنے کےلیے ریہرسل بھی کرائی گئی ہے، ریاست میں عارضی جیل بھی بنائی گئی ہے، وہاں ضرورت پڑنے پر گرفتار لوگوں کو رکھاجائے گا۔ دریں اثناء ملک کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اترپردیش کے چیف سکریٹری راجندر کمار تیواری اور ڈائریکٹر جنرل پولیس او پی سنگھ کو بلاکر ریاست کے امن و قانون کے بارے دریافت کیا۔ سپریم کورٹ کے احاطے میں چیف جسٹس کے چیمبر میں مسٹر گگوئی کے ساتھ ان افسران کی میٹنگ میں فیصلہ سنانے والی بینچ کے چاروں جج اور ریاستی حکومت کے دیگر اعلی عہدیدار بھی موجود تھے۔بتایا جاتا ہے کہ مسٹر گگوئی نے ریاست کے امن و امان کے بارے میں تفصیل سے معلومات حاصل کی ۔ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر قبضے سے متعلق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں آئینی بینچ نے سماعت 17 اکتوبر کو مکمل کرلی تھی اور اگلے ہفتہ اس مشہور معاملے کا فیصلہ آنے کا امکان ہے۔ اس فیصلے سے پہلے ، اکھل بھارتیہ سنت سمیتی ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ فیصلے کو شکست و فتح یا ہندو مسلم فرقہ وارانہ کی صورت حال میں بدلنے نہیں لیں گے اور نہ ہی کسی کو کوئی چڑھانے یا اشتعال انگیز والے بیانات دیں گے۔ مسلم سماج کی جانب سے ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، سنی وقف بورڈ وغیرہ نے بھی عدالت کے فیصلے کا مکمل احترام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close