اہم خبریں

ایودھیاکے چپے چپے پر آسمان سے نگرانی

ایودھیاکے چپے چپے پر آسمان سے نگرانی
یوپی کے ہر ضلع میں سخت سیکورٹی، وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کوالرٹ کیا، فیصلے سے قبل کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ پر سوال؟
نئی دہلی۔ ۷؍نومبر: مرکزی وزارت داخلہ نے بابری مسجد زمین تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے پیش نظر تمام ریاستوں سے چوکنا رہنے کے لیے کہاہے۔ایک افسرکے حوالے سے یہ معلومات ملی ہیں۔بتا دیں کہ اس سے پہلے اطلاع ملی تھی کہ سپریم کورٹ میں ایودھیاکیس پر فیصلہ آنے سے پہلے فیض آباد پولیس نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پر نظر رکھنے کے لیے 16 ہزاررضاکاروں کو تعینات کیاہے۔ ایک افسر نے یہ معلومات دی تھیں۔سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ تیواری نے بتایا تھا کہ رام جنم بھومی بابری مسجد تنازع پر جب حکم آئے گا، اس وقت امن قائم رکھنے کے لیے ضلع کے چھ ہزارسے زائدمقامات پر بھی اتنی ہی تعداد میں رضاکاروں کو رکھا گیاہے۔ایودھیا تنازعہ کے فیصلے کو لے کر یوپی میں زبردست حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ایودھیا کے چپے چپے پر ڈرون سے نظررکھی جا رہی ہے اور بڑے پیمانے پر فورسز تعینات کی گئی ہے۔یوپی کے تمام اضلاع میں پولیس کو فسادات قابو کرنے کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔گرفتاری کی ضرورت پڑنے پر آٹھ عارضی جیلیں بنا دی گئی ہیں۔ساتھ ہی ہم آہنگی کے لیے ہر ضلع میں کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ڈرون کے ذریعے آسمان سے ایودھیا کی نگرانی شروع ہوگئی ہے۔سریو کے کنارے سے لے کر ہربڑے مندر پر آسمان سے بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایک ایسے وقت جب ایودھیا پر فیصلہ آنے کو ہے یہاں 84 کوسی پرکرما اور کارتک چاند کی وجہ سے لاکھوں لوگ آ رہے ہیں۔ لہٰذایہ چیلنج بہت بڑا ہے، لیکن زمین پر بھی کوئی کم انتظام نہیں ہیں۔یوپی کے ڈی جی پی وپی سنگھ نے کہاکہ ہم مکمل سنجیدگی کے ساتھ اور وسیع طور پر صوبہ کے کونے کونے میں نگرانی رکھ رہے ہیں۔ ہم نے اپنی انٹیلی جنس مشینری کو گیئر اپ کر رکھا ہے۔ ہمارے رضاکاراور ہمارے پولیس اہلکار جگہ جگہ بالکل نظر رکھے ہوئے ہیں۔اور اگر ضرورت ہو گی تو ہم مجرموں کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ بھی لگاسکتے ہیں۔جگہ جگہ پولیس ریہرسل کر رہی ہے کہ اگر کہیں فساد بھڑک جائے تو وہ فسادیوں سے کیسے نپٹے اور اور عوام کو ان سے کس طرح بچائے،اس کی ٹریننگ ہورہی ہے۔ اٹاوہ کے ایس ایس پی سنتوش کمار مشرا نے کہا کہ ہماری تیاریاں ایودھیا فیصلے پرجو چیلنجز ہیں، اس کے پیش نظرہیں۔ڈسٹرکٹ اٹاوہ میں پولیس کی قانون کے مطابق تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ جتنی بھی گاڑیوں کی ضرورت ہے، جتنی بھی فورس کی ضرورت ہے، وہ ساری حکمت عملی کو بنا لی گئی ہے۔گزشتہ جمعہ کو یوپی کی تمام مساجد میں پیش اماموں نے اپنے خطبوں میں اپیل کی تھی کہ یہ مہینہ نبی محمد صاحب کی پیدائش کا ہے۔اس لیے اس کے احترام میں کچھ غلط نہ کریں۔ اور اگر کوئی غلط کر رہا ہے تو اس کا جواب نہ دیں۔ لکھنؤ میں آج بھی عید گاہ میں ایک مذہبی کانفرنس ہوئی جس فیصلے کے بعد امن رکھنے کی اپیل کی گئی۔پرسنل لاء بورڈ کے رکن خالد رشید نے کہاہے کہ نہ کوئی نعرے بازی کریں، نہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں، نہ کوئی ایسا بیان دیں جس سے دوسری کمیونٹی کے مذہبی جذبات مجروح ہوں یا اس کو ٹھیس پہنچے۔ جس سے کہ پورے طریقے سے پورے ملک میں امن و امان قائم رہے۔لیکن اتنے حساس مسئلے پرسوشل میڈیا پر تمام غیر ذمہ دار اور مذہبی و اکسانے والی پوسٹیں اور ویڈیوز موجود ہیں۔ ان پرقدغن نہیں لگ پائی ہے۔ اسی کڑی میں کانگریس پارٹی نے اپنی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ 10 نومبرکو ایودھیا پر شام کو بلائی ہے۔دہلی کے کانگریس ہیڈ کوارٹر میں سی ڈبلیوسی کی میٹنگ پارٹی صدر سونیا گاندھی کی صدارت میں ہو گی جس میں ذرائع کے مطابق ایودھیا زمین تنازعہ پر عدالت کے فیصلے کے بعد کانگریس کا رخ کیا ہو، اس کو لے کر بحث ہو سکتی ہے اور ایک قرارداد منظور کی جاسکتی ہے۔سونیا گاندھی کے کانگریس کے عبوری صدر بننے کے بعد یہ پہلی سی ڈبلیوسی کی میٹنگ ہے۔ اس سے پہلے 10 اگست کوہوئی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پارٹی صدر کے عہدے سے راہل گاندھی کے استعفے کو قبول کرکے سونیا گاندھی کوعبوری صدربنایاگیاتھا۔پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے ہو رہی اس سی ڈبلیو سی کے اجلاس کو لے کر ذرائع نے بتایاہے کہ اس میں اقتصادی بحران، این آرسی سمیت دیگر اہم سیاسی مسائل پر بھی بحث ہو سکتی ہے۔ جہاں تک ایودھیا کا معاملہ ہے تو ذرائع کے مطابق فیصلے سے پہلے ہی سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں جہاں ایک طرف کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنے کی قرارداد منظور کی جاسکتی ہے۔ وہیں اس بات کو لے کر بھی ہدایتیں دی جا سکتی ہیں کہ فیصلے پر رائے دینے سے پہلے لیڈرپارٹی کی سرکاری لائن پر عمل کریں۔دراصل آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے فیصلے کو لے کر کانگریس کے کئی رہنماؤں نے پارٹی کے موقف سے برعکس بیان دیے تھے۔ ظاہر ہے کانگریس ایودھیا جیسے حساس مسئلے پر فیصلے کے بعد کانگریس اپنے رہنماؤں کے بیان کو لے کر احتیاط برت رہی ہے۔حال میں ہی یوپی کانگریس کی انچارج جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی ریاست کے لیڈروں کو ہدایت دی تھی کہ فیصلے پر پارٹی کی سرکاری رائے سے مختلف کوئی عوامی تبصرہ نہ کریں۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close