اہم خبریں

مودی حکومت کی آمرانہ طرز حکومت سے عام عوام بہت زیادہ دلبرادشتہ ہورہے ہیں: جتیندر یادو 

مذہبی منافرت کے ذریعے ملک کے قابل فخر سماجی تانےبانے اور امن وشانتی کو ختم کیاجارہاہے :آفتاب 

مودی حکومت کی آمرانہ طرز حکومت سے عام عوام بہت زیادہ دلبرادشتہ ہورہے ہیں: جتیندر یادو

مذہبی منافرت کے ذریعے ملک کے قابل فخر سماجی تانےبانے اور امن وشانتی کو ختم کیاجارہاہے :آفتاب

مظفرپور، 07نومبر(پریس ریلیز ) ہمارے ملک میں آزادی کے بعد جمہوری حکومت کا نظام قائم کیاگیا لیکن افسوس کہ  اس عوامی طرزِ حکومت کے سامنے کبھی فاشزم اپنی لنگوٹ باندھ کے سیاسی اکھاڑے میں آ دھمکتا ہے، تو کبھی مٹھی بھراشرافیہ ،کچھ منھ پھٹ اور گھاگھ قسم کے جوشیلے لفّاظ  اسے اورٹیک کرنے کی مختلف ہتھکنڈے آزماتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سی پی آئی ایم گائے گھاٹ بلاک کے سالانہ  سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی ایم ایل گائے گھاٹ اور باگمتی سنگھرش مورچہ کے مشہور ومعروف لیڈر کامریڈ جتیندر یادو نے کیا جتیندر نے کہا کہ  موجودہ مودی حکومت کی  آمرانہ طرزِ حکومت اور اسکے تحت ہونے والی مختلف طرح کی ظلم وزیادتی سے لوگ بہت زیادہ دلبرداشتہ ہورہے ہیں آج  صحیح معنوں میں جنتا اور عوام کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے  ، جس میں عام جنتا کے تمام فیصلے کسی ایک شخص کی آمرانہ حکم فرمائیوں کے مرہونِ منت ہوکررہی گئی ہے عوام اور سماج کے دبے کچلے لوگوں کےحقوق پر حملے کیے جارہے ہیں ،اس موقع پر انصاف منچ بہار کے ریاستی نائب صدر آفتاب عالم نے اپنے خطاب میں کہاکہ جمہوری اصولوں کی بقا کو آج سب سے بڑا خطرہ جولاحق ہےوہ ہے قومیت اور علاقائیت کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانا، نسلی بھید بھاؤ اورمذہبی منافرت کے ذریعے سماجی تانے بانے اور امن وشانتی اوربھائی چارے کو ختم کیا جارہاہے،۔ہندوستان  کے جنرل الیکشن میں جس طرح کے جوشیلے نعرے لگے، بھارتی عوام کو جس طرح کا سبز باغ دکھائے گیے ، ان سے جو وعدے کیے گئے اور جس قسم کی لفّاظیاں اور بھاشن بازیاں سامنے آئیں وہ سب کی سب جھوٹ کا پلندہ ،فریب اور پاکھنڈ کا پٹارا تھیں ۔حد تو تب ہوئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نے ان پُرفریب وعدوں کو چناوی جملہ بازی کہہ کر پورے ہندوستانی عوام کے اعتبار کا ٹھٹھول اور مذاق بنایا۔ خود کو نیشنلیسٹ بتانے والی اس پارٹی نے جب سے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی ہے ایک خاص قسم کی زہریلی سیاست کے ذریعہ سماج میں نفرت کا بیج بو رہی ہے ۔ اچھے دنوں کا نعرہ لگانے، ترقی اور وکاس کا ڈھنڈھورا پیٹنے والی یہ پارٹی کچھ کرے یا نا کرے ، سماج میں نفرت اور بٹوارے کی ایسی کھائیاں کھودرہی ہے جوبہت لمبے عرصے تک بھی بھرنے والی نہیں ہیں۔وہیں ایل ایس کالج کے سابق پروفیسر اروند کمار ڈے رکن سی پی آئی ایم ایل ضلعی کمیٹی مظفرپور نے کہا کہ عام اانتخاب میں جس قسم کی بڑ بولیاں سامنے آ ئیں، نسلی ،مذہبی اورعلاقائی منافرت پر مبنی مہم چلائی گئیں، ان سے جمہوریت کی چولیں ہل گئیں ہیں۔ مودی جو ملک کے وزیراعظم  کی کرسی پرمتمکن ہونے کی سیاسی بساط پراپنی جیت درج کرواچکے ہیں او  مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی روزافزوں گرتی ہوئی ساکھ کے لیے صرف اور صرف سیاسی گلیاروں کے پنڈت اور بنئے ہی ذمہ دار نہیں ہیں ،بلکہ اس کے لیے عوام بھی کسی نہ کسی حدتک ذمہ دار ضرورہے۔ہندوستان میں برسراقتدار پارٹی کے ذمہ دار اوروزیرِ اعظم مودی جی کے بھگت اپنے سوا سبھی کو غدار اور دیش دروہی قرار دیتے ہیں ، لو جہاد، گئو رکشا، اورگھر واپسی جیسے ہتھکنڈے اپنا کر اقلیتوں میں بے چینی اور خوف وہراس کا ماحول پیدا کرتے ہیں ، اختلافِ رائے رکھنے والوں کو سوشل میڈیا پر موٹی موٹی اور انتہائی غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں۔ اور تو اور الیکٹرانک میڈیا جسے آج کے دور میں سچ کو سچ کہنے اور غلط کو غلط قراردینے کے لیے اپنا ایک مضبوط اور بے لچک کردار عوام کے سامنے رکھنا چاہیے،افسوس! اس کا ایک بڑا دھڑا مودی بھکتی میں مست ومگن ہے۔  اس طرح جمہوریت کی روزافزوں گرتی ہوئی ساکھ کے لئےعوام بھی کسی نہ کسی قدر ضرور ذمہ دار ہے۔اروند کمارنے کہا کہ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جمہوریت کو درپیش ان خطرات سے اسے کیسے بچا یاجائے۔ کیا جو کچھ ہورہا ہے اور جس طرح سے ہورہا ہے اسے اسی طرح ہونے دیا جائے یا پھر یہ کہ ان خطرات سےنپٹنے کے لیے کوئی نہ کوئی لائحہ عمل طے کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے ہمیں ان اسباب پہ غور کرنا بے حد ضروری ہوگا جن کی وجہ سے جمہوریت اِس دوراہے پہ آ کھڑی ہوئی ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ سیاست سے لے کر سماج تک آخر وہ کون سے عناصر ہیں جو اس پوری صورتِ حال کےلئے ذمہ دار ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی چیز یونہی بے سبب پیدا نہیں ہوتی ۔ کوئی صورتِ حال کتنی ہی پریشان کن کیوں نہ ہو، کوئی واقعہ کتنا ہی خوف ناک کیوں نہ ہو، کسی کا رویّہ کتنا ہی غیر مناسب کیوں نہ ہو ، ہر صورتِ حال، ہر واقعہ اور ہر رویّہ کسی نا کسی سبب کے تحت وقوع پزیر ہوتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ جو صورتِ حال آج جمہوریت کو درپیش ہے وہ ان لوگوں کے کالے کرتوتوں، بد عنوانیوں، لا پروائیوں اوربد نظمیوں کے نتیجے میں رونما ہوئی ہے جو کل تک جمہوریت کے مختارِ کل بنے بیٹھے تھے اور راج گدّیوں پہ براجمان تھے۔ جو اپنی عوام کی توقعات پر کھری نہیں اتر سکیں، انکی مانگوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئیں ۔ مزید یہ کہ عوام کے پیسوں پر پلنے والے یہ سیاسی رہنما پبلک پراپرٹی کو مسلسل نقصان پہونچاتے رہے۔ملک میں کچھ اسی قسم کے اسباب کار فرما تھے۔ بات اگر یہی اور ایسی ہی ہے تو جمہوریت کے اصولوں میں کوئی تبدیلی لانے یا کسی قسم کا کوئی ردوبدل کرنے کے بجائے ان رہنماؤں کے غلط رویّوں میں سدھار کی ضرورت ہوگی جو اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔ بیماری کی تشخیص ہو جانے کے بعد صحتیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کا صحیح ڈھنگ سے علاج کیا جائے۔ پھوڑا اگر پک چکا ہے تو اسے روئی کے پھاہے سے سہلا کر کبھی ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ،اسے تو بس تیز دھار دار نشتر کی ضرورت ہے جس سے پھاڑ کر اس کے اندر جمع سارے فاسد مادے کو باہر لانا ہوگا اور تبھی اس کا صحیح علاج ممکن ہو سکتا ہے ،تب ہی درد اور تکلیف سے راحت مل سکتی ہے اور ٹھیک ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر سی پی آئی ایم ایل بوچہاں کے معروف لیڈر رام بالک سہنی نے بھی خطاب کیا

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close