’’ یہی ہمارا کربلا ہے ؟

جنتر منتر پر کشمیری طلبا نے جمہوریت کا علامتی جنازہ نکالا ، مسلسل کرفیو کے خلاف احتجاج کیا
نئی دہلی ۔ 10 ؍ستمبر 2019

کشمیر میں آرٹیکل 370ختم کیے جانے کے بعد سے آج تک وہاں کرفیو نافذ ہے۔ آج دس محرم الحرام کی تاریخ تھی اس تاریخی دن پر دہلی کے جنترمنتر پر کشمیری طلبا نے ملی وسماجی تنظیموں کے تعاون سے جمہوریت کا جنازہ نکالا اور ایک احتجاجی مظاہرہ ’’یہی ہمارا کربلا‘‘ ہے کے عنوان سے منعقد کیااور جمہوریت کا ماتم منایا ۔ اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں سماجی کارکنان، انصاف پسند ہندوستانی جمع ہوئے اور حکومت کے ذریعہ ۳۶ دن سے کشمیر کو مسلسل بلاک رکھنے کے خلاف آواز بلند کی۔ محسن خان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ہمارا احتجاج کربلا سے متعلق ہے کربلا اسلامی تاریخ میں اہمیت کا مقام رکھتا ہے کیو ںکہ اس دن ظلم وناانصافی کے خلاف نواسہ رسول صدائے حق بلند کرتے ہوئے شہید ہوگئے تھے ۔ آج کے دن کشمیری طلبا ء یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ ہماری مائیں ، ہماری بہنیں قید ہیں، ان کا انٹرنیٹ نہیں چل رہا ہے، فون نہیں چل رہا ہے، دوائیاں نہیں ہیں، جب ہم چاند پر جانے کی باتیں کررہے ہیں، اسرو کی تعریف کررہے ہیں، وہاں پر ہم نے ایک ریاست کو قید کررکھا ہے۔ احتجاج کررہی پونچھ سے تعلق رکھنے والی طالبہ گورے مور نے کہا کہ حکومت نے سراسر دھوکہ کیا ہے۔ آپ نے اچانک سے ایک دن سب بند کردیا اور کہا کہ ہم خصوصی درجہ ختم کردیا ہے۔ اگر آپ کو اتنا ہی یقین تھا اپنے فیصلے پر تو کیوں اتنے دنوں سے وہاں کے عوام کو بند کرکے رکھا ہے۔ آپ نے تب سے لوگوں کو بند کیا ہے۔ سیاسی لیڈران، حریت پسند قائدین، صحافی وغیرہ سبھی کو بند کردیا ہے۔ لوگوں کی بات کو سامنے بھی نہیں آنے دیاجارہا ہے۔ میڈیا اپنا کام نہیں کررہا ہے۔ اس موقع پر یونائیٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے ندیم خان اور ان کی ٹیم ، تنظیم ابنائے مدارس کے مہدی حسن عینی سمیت خالد سیفی، عامر چودھری اور سید فرمان نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔ اور سب نے مل کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کے انسانی حقوق کو بحال کرنے کے لئے فوری طور پر وہاں سے کرفیو ختم کیا جائے نیز وہاں جمہوریت کو بحال کرنے کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔اس موقع پر ان طلباء نے ایک مصنوعی جیل کی بناکر منفرد انداز میں احتجاج درج کرایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں