ایودھیا کیس : مسلم فریق کےوکیل کو دھمکی دینے پر نوٹس جاری !

ایودھیا کیس : مسلم فریق کے وکیل کو دھمکی دینے پر نوٹس جاری ! 

نئی دہلی ۔ 03 ستمبر 2019 بھارت کے جنوبی شہر چننئی کے رہنے والے سابق پروفیسر این شنمنگم نے راجیو دھون کو بابری مسجد مقدمے میں مباحثہ نہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ سپریم کورٹ نے چننئی کے ایک سابق پروفیسر این شنمنگم کو ڈاکٹر راجیو دھون کو دھمکی دینے پر ایک نوٹس جاری کی اور انھیں دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب دینے کی ہدایت دی۔

چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کی قیادت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے پروفیسر این شنمنگم نوٹس بھیجا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے کہا کہ ‘اس نوٹس کے جواب کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا جا رہا ہے، اس لیے پروفیسر کو دو ہفتے کے اندر تفصیلی جواب دینے کا موقع دیا جانا چاہیے۔’

دراصل سابق پروفیسر این شنمنگم معروف وکیل راجیو دھون کو مبینہ طور پر دھمکی دی تھی اور بابری مسجد کیس میں اہم فریق سنی وقف بورڈ کی طرف بحث نہ کرنے کو کہا تھا۔ پروفیسر این شنمنگم کے خلاف معروف وکیل راجیو دھون نے توہین عدالت کی عرضی داخل کی تھی۔

راجیو دھون نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ 14 اگست کو انھیں پروفیسر کی طرف سے مسلم پارٹیوں کی طرف سے بحث کرنے پر دھمکیاں ملیں۔ ڈاکٹر راجیو دھون بابری مسجد۔رام جنم بھومی کیس کے اہم فریق سنی وقف بورڈ کی طرف سے وکیل مقرر کیے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں