اہم خبریں

این آر سی : قومی شناخت سے محروم ہندوستانی شہری اب کدھر جائیں؟

این آر سی : قومی شناخت سے محروم ہندوستانی شہری اب کدھر جائیں؟

45 سالہ عبدالحلیم کے خاندان کے پانچ میں سے چار افراد کی شہریت منسوخ کی گئی ہے

45 سالہ عبدالحلیم ماجمدار ہاتھ میں ایک کاغذ تھامے پریشان کھڑے ہیں۔ ان کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ آسام میں بسنے والوں کی قومی شناخت سے متعلق جاری ہونے والی نئی فہرست میں سے ان کے خاندان کے پانچ میں سے چار افراد کے نام نکال دیے گئے ہیں۔

صدمے اور خوف کا شکار عبدالحلیم کی کیفیت دیکھتے ہوئے چند مقامی افراد ان کے گرد اکھٹے ہو جاتے ہیں، یہ تمام افراد آسام کے ضلع کامروپ کے ٹکدا پاڈا گاؤں میں واقع این آر سی سینٹر کے سامنے موجود ہیں۔

گذشتہ رات سے صدمے سے دوچار عبدالحلیم جب اپنی اس مشکل کے متعلق بات کرتے ہیں تو ذہنی دباؤ کے باعث ان کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘میری اہلیہ کے علاوہ میرے خاندان کے تمام افراد کے نام دسمبر 2017 اور جولائی 2018 میں شائع ہونے والی فہرستوں میں شامل تھے۔ میری اہلیہ کی شہریت سے متعلق حکام نے صرف ایک اعتراض اٹھایا تھا جس کو دور کرنے کے لیے ہم نے تمام ضروری دستاویزات جمع کروا دی تھیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میں اپنی اور اپنے بچوں کی شہریت سے زیادہ اپنی اہلیہ کے لیے پریشان تھا تاہم اب جبکہ مجھے میرے گھر کے چار افراد کی شہریت کی منسوخی کا لیٹر تھما دیا گیا ہے تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں۔‘

این آر سی فہرست انڈیا کی ریاست آسام میں سنیچر کی صبح دس بجے شائع کی گئی تھی۔ درخواست دہندہ اپنے اپنے قریبی این آر سی سینٹرز پر یہ جاننے کے لیے جمع ہوئے تھ کہ آیا ان کا نام قومی شناختی فہرست میں شامل ہو چکا ہے یا نہیں۔

اسی طرح کے ایک درخواست گزار 60 سالہ محمد خادم علی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ان کے خاندان کے تمام چھ افراد کے نام قومی شہری فہرست میں شامل تھے۔ بی بی سی کو این آر سی کی حتمی فہرست دکھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’طویل عرصے کے بعد اب میں سکھ کا سانس لینے کے قابل ہوا ہوں۔‘

لیکن خادم علی کی طرح ہر کوئی خوش قسمت نہیں ہے۔ این آر سی کی حتمی فہرست میں سے 19 لاکھ شہریوں کے نام نکال دیے گئے ہیں۔

ایسے ہی ایک شہری 20 برس کے معین الحق ہیں۔

ٹکدا پاڈا کے این آر سی سینٹر کے باہرشدید پریشانی میں اپنا پسینہ اور آنسو پونچھتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خاندان کے تمام چھ افراد کو حتمی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

وہ اس بات سے لاعلم ہے کہ فہرست سے ان کا نام نکالے جانے کے فیصلے کو وہ 120 دن کے اندر خصوصی ٹرائبیونل میں چیلنج کر سکتے ہیں۔ وہ اس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کی طرف سے فہرست سے نام نکالے جانے والوں کے لیے قانونی معاونت کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔

معین الحق کے خاندان کے تمام افراد کا نام حتمی لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے

معین کے ساتھ کھڑے انصر علی بھی پریشان ہیں کیونکہ ان کی اہلیہ کا نام بھی حتمی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ انصر کو بھی کچھ معلوم نہیں کہ وہ کدھر جائیں اور کیا کریں۔ جب بی بی سی نے انصر سے ٹرائبیونل تک رسائی کے دستیاب مواقع سے متعلق بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ٹرائبیونل کے متعلق انھوں نے بھی سنا ہے مگر اس تک رسائی کیسے کی جائے یہ انھیں معلوم نہیں تھا۔

یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فہرست سے جن شہریوں کے نام نکال دیے گئے ان کی مدد کے لیے حکومتی اعلانات اب تک عوام تک پہنچ ہی نہیں سکے ہیں۔ اپنے نام کو دوبارہ فہرست میں شامل کرنے سے متعلق ٹرائبیونل تک رسائی کے عمل سے ناواقفیت اس بات کا غماز ہے۔

بی بی سی کے انپٹ کے ساتھ

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close