اہم خبریں

بابری مسجد ملکیت مقدمہ : جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیودھون کا اعتراض کہا فریق مخالف کی بحث معقول نہیں

بابری مسجد ملکیت مقدمہ : جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیودھون کا اعتراض کہا فریق مخالف کی بحث معقول نہیں ! 
نئی دہلی ۔ 13 اگست 2019 (پریس ریلیز) 
بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت معاملہ کی حتمی سماعت آج پانچویں دن میں داخل ہوئی جس کے دوران رام للّٰا کے وکیل نے بحث شروع کرتے ہوئے عدالت کو بتانے کی کوشش کی کہ سول پروسیجر کوڈ کے تحت وہ ایک سے زائد طریقوں سے عدالت میں اپنا دعوی پیش کرسکتے ہیں۔

اس معاملہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس اے ایس بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو سینئر ایڈوکیٹ کے پراسنن نے بتایا کہ انہیں نکات پر بحث کی جاسکتی ہے جو عرضداشت میں درج ہو اس کے علاوہ نئے نکات پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ایڈوکیٹ پراسنن کی بحث کے بعد رام للا کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ سی کے و دیاناتھن نے بحث شروع کی اور عدالت کو بتایا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی جگہ بت ہو بلکہ ضروری یہ ہے کہ اس مذہب کے ماننے والے کا یقین کہ وہاں اس کے خدا (رام) کی پیدائش ہوئی تھی اور وہ وہیں موجود ہے۔ ویدیا ناتھن نے بتایا کہ ایسا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے کہ انیسویں صدی سے لیکر 1949 تک ہندوؤں کو پوجا کی اجازت نہیں تھی اور مسلمان مسجد کے اندرونی صحن میں نماز ادا کرتے تھے، الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی خواندگی کرتے ہوئے انہوں نے یہ دعوی پیش کیا۔

دوران بحث ایڈوکیٹ و دیا ناتھن نے گواہ استغاثہ نمبر 1اور 2 کی گواہی عدالت کو پڑھ کر سناتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ دونوں گواہ ایودھیا زائرین کی حیثیت سے جاتے تھے اور ان کا عقیدہ ہے کہ رام کا جنم ایودھیا میں ہی ہوا تھا۔ایڈوکیٹ ودیاناتھن نے آئینی بینچ کو ہندو مذہب میں مورتی کی اہمیت اور اس کو لیکر ہندو مذہب کے پیروکاروں کے جذبات اور عقائد تفصیل سے بتایا ہے نیز انہوں نے کہا کہ متذکرہ جگہ پر نماز ادا کرلینے یا مسجد کی تعمیر کرلینے سے وہ مقام مسلمانوں کی ملکیت نہیں ہوجاتی، ہائی کورٹ نے تین میں سے ایک حصہ مسلمانوں کو دیکر غلطی کی ہے، مسلمانوں کو کچھ نہیں ملنا چاہئے کیونکہ جسٹس شرما نے متعلقہ اراضی کو رام جنم بھومی قرار دیا ہے۔

دوران بحث جمعتہ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ فریقین مخالف (ہندو فریقین) کی جانب سے سوٹ نمبر ۱ بھی داخل ہوا تھا لیکن عدالت سوٹ 3 اور سوٹ5 پر سماعت کررہی ہے لہذا میری عدالت سے درخواست ہے کہ سوٹ نمبر 1 پر بھی سماعت کرلے تاکہ میں سب کا جواب ایک ساتھ دے سکوں، عدالت نے انہیں یقین دلایا کہ جاری بحث کے اختتام کے بعد اس جانب توجہ دی جائے گی: ایڈوکیٹ ودیاناتھن نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کا وہ حصہ عدالت میں پڑھ کر سنایا جسے جسٹس اگروال نے لکھا ہے جس میں درج ہے مسلم حکمرانوں نے مندر کو منہدم کرکے مسجد تعمیر کروائیں لیکن اس کے باوجود ہندو لوگ پوجا کرتے رہے کیونکہ یہ ان کا یقین تھا کہ ایودھیا میں ہی رام جنم استھان ہے۔

ڈاکٹر راجیو دھون نے اعتراض کیا کہ جس طریقے سے فریق مخالف بحث کر رہا ہے وہ معقول نہیں ہے کیونکہ بجائے دستاویزات دکھانے کے وہ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھتے جارہے ہیں جس پر جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس چندر چوڑ نے ڈاکٹر دھون کو کہا کہ عدالت انہیں بھی موقع دے گی اور وہ بھی اپنی مرضی سے بحث کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ منگل کو جب چیف جسٹس آف انڈیا نے حکم دیا تھا کہ عدالت سب سے پہلے رام للا (سوٹ نمبر 5) اور نرموہی اکھاڑہ (سوٹ نمبر 3) کاموقف سنے گی جس پر جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ اس معاملہ میں جمعیۃ علماء ہند کی اپیل پہلے داخل کی گئی تھی جس پر سماعت پہلے ہونی چاہئے لیکن عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے حتمی بحث شروع کئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔آج فریق مخالف کی بحث نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک ملتوی کردی۔

بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر10866-10867?/2010 پر بحث کے دوران جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیودھون کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ کنورادتیہ سنگھ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ محمد عبداللہ، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیاو دیگر موجود تھے۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close