سپریم کورٹ نے جموں کشمیر کے حالات پر جلد سماعت سےکیا انکار ، حکومت ہند پر اعتماد کی صلاح دی

جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے بعد کشیدگی کا ماحول ہے۔ اس کے بعد حکومت نے ریاست میں تمام طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ حکومت کی عائد کردہ پابندیوں کو ہٹانے کو لے کر دائر عرضیوں پر منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے ان پابندیوں کو ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ معاملہ حساس ہے۔ حکومت کو کچھ اور وقت ملنا چاہئے۔

بتا دیں کہ جموں وکشمیر تشکیل نو بل پاس ہونے کے بعد سے حکومت نے احتیاطا پورے جموں اور سری نگر میں دفعہ 144 لگا رکھی ہے۔ وادی کشمیر میں بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ حکومت نے کئی علاقوں میں موبائل فون کنکشن اور انٹرنیٹ پر روک لگا رکھی ہے

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ وادی میں کب تک ایسا چلے گا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیسے ہی صورت حال معمول پر آ جائے گی ساری پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو۔ 1999 سے تشدد کی وجہ سے اب تک وادی میں 44000 لوگ مارے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ میں اس معاملہ کو لے کر کئی عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک عرضی کانگریس لیڈر تحسین پونہ والا نے دائر کی تھی۔ انہوں نے وادی سے کرفیو ہٹانے کے ساتھ فون، انٹرنیٹ اور نیوز چینل پر عاید سبھی پابندیوں کو ہٹانے کی مانگ کی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں